نومبر کی سرد راتوں میں مطالعہ


نومبر کا مہینہ، دیر رات، سردیوں کی آمد، فضا اداس ہے، رت مضمحل ہے، میں چپ ہوں اور وہی بے یقینی کی کیفیت۔ سب کچھ عجب عجب محسوس ہوتا ہے۔ ایک تو نومبر کا آسیب ہے، جو رات کو ایک رعب عطا کرتا ہے، جو عین وہی ہوتا ہے کہ محبوب سامنے ہو اور اس پر نظر پڑتے ہی بندہ اپنے الفاظ بھول جائے، کچھ کہنا چاہے مگر زبان موٹی پڑ جائے اور اپنا وجود بھاری محسوس ہونے لگے۔ اسی طرح رات آتے ہی یہ سب کیفیات طاری ہونے لگتی ہیں اور منہ پر چپ کا قفل لگ جاتا ہے لیکن دماغ میں ایک ارتعاش سا پیدا ہوتا ہے اور خیالوں کے گھوڑے بے قابو ہو جاتے ہیں مگر بشرطیکہ موصوف دل زندہ کا مالک ہو۔

ماہ نومبر کی آمد کے ساتھ سردیاں بھی دستک دینے لگتی ہیں اور ایک بار پھر اکثر وہی پرانے مناظر دوبارہ زندگی کے تھیٹر پر چلنا شروع ہو جاتے ہیں اور ساتھ وہی خنک ہوائیں بھی بن بلائے مہمان کی طرح ساتھ آجاتی ہیں جنہیں بادل ناخواستہ برداشت کرنا پڑتا ہے اور اس کے سامنے بھی عین اسی طرح خندہ پیشانی کے ساتھ آنا پڑتا ہے جس طرح ہم اس مخصوص مہمان سے پیش آتے ہیں۔

اس سب کچھ کے باوجود ان سرد راتوں کا سحر لاجواب ہوتا ہے، ان راتوں میں خانۂ دل پر چھائی اداسی بھی دلفریب ہوتی ہے جو مطالعہ کی لذت دوبالا کر دیتی ہے۔ اپنا یہ حال ہے کہ جتنا بھی اداس ہوتا ہوں تو اتنا ہی زیادہ کتاب میں مزہ محسوس ہوتا ہے۔ دراصل اداسی میں مطالعہ ایک فرار ہوتا ہے جو اداسی سے دور بھاگنے میں معاون و مددگار ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ بندہ گرد و پیش سے کچھ لمحوں کے لئے بالکل کٹ جاتا ہے اور نیم بیہوشی سی کیفیت میں ہوتا ہے اور جب ہوش میں آتا ہے تو گھنٹوں گزر چکے ہوتے ہیں اور حال دل بھی اپنی جگہ پر واپس آ چکا ہوتا ہے اور اداسی خیرباد کہہ کر جا چکی ہوتی ہے۔ کم از کم میرا حال یہ ہوتا ہے۔ آج بھی کچھ ایسی ہی کیفیت تھی۔ آج بھی دل کچھ اداس تھا۔ اس اداسی کی عکاسی فیض نے بڑی خوبی سے کی ہے، فرماتے ہیں :

‏نہ دید ہے نہ سخن، اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے
امید یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اداس بہت ہے

جب بھی اداس ہوتا ہوں تو میرے لئے اللہ کے بعد کتب ہی درد کا درماں ہوتے ہیں۔ یہ سارے غم بھلا دیتے ہیں اور ایک نئی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں جہاں سے واپس آتے آتے سارے غم دھواں بن کر اڑ چکے ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کیفیت میں اور اس کے بعد رات میں مطالعہ کا رومان ناقابل بیان ہے۔

دن کو مطالعہ کی ایک حیثیت ضرور ہوتی ہے لیکن راتوں میں مطالعہ کی دل آویزی اور سرور کی کچھ الگ ہی کیفیت ہوتی ہے۔ راتوں میں مطالعہ کے بارے میں تو یہ شاعر یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ مطالعہ کے لئے راتوں کو جاگنا مجھے کسی حسین دوشیزہ کے وصل سے زیادہ عزیز ہے، کسی مشکل مسئلہ کے حل ہونے پر میرا جھومنا مجھے ساقی کے جام شراب سے زیادہ محبوب ہے، کاغذ کے اوراق پر میرے قلم چلنے کی آواز مجھے عشق و محبت سے زیادہ پسند ہے، اور نوخیز لڑکی کے دف بجانے کی کھنک سے زیادہ مجھے اپنی کتابوں سے غبار جھاڑنے کی آواز خوبصورت لگتی ہے۔

بھلے یہ مبالغہ ہو لیکن اتنا بھی نہیں ہے کیونکہ لازم نہیں کہ دوسرے کے لئے بھی ایک چیز اتنا ہی پر کشش ہو جتنا کہ ایک کے لئے ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے راتوں کو وصال صنم پر کشش ہو سکتا ہے لیکن یہ چیز ہر کسی کے لئے اہم نہیں ہوتی بقول شاعر کچھ چیزیں اس سے بھی زیادہ پر کشش بہر حال موجود ہیں، اور ہاں، یہ بتا دوں کہ شاعر سے کلی طور پر اتفاق ضروری نہیں، میں تو کم از کم نہیں کر سکتا۔

اندھیری راتوں کو جاگنا میری عادت نہیں لیکن کبھی کبھی مجبوری ہوتی ہے اور مجبوری بھی ایسی کہ جس کا کچھ پتہ نہ ہو۔ یونہی پڑا تھا، نیند کا کچھ پتہ نہیں تھا تو بستر سے اٹھا، کتاب لیا اور چھ سات لکڑیوں کے بڑے سے ٹکڑے لے کر سیدھا باورچی خانے چلا آیا۔

سردیوں میں تو ویسے بھی دن مختصر اور راتیں طویل ہوتی ہیں تو اس لئے گھر والے بھی رات کا کھانا کھانے کے بعد جلد ہی کمروں کا رخ کر کے برآمدے اور باورچی خانے کو سنسان کر دیتے ہیں۔ ایسے میں سنسان باورچی خانے میں انگیٹھی میں بلند شعلوں کے گرد بیٹھے ہوئے کتاب سے لطف اندوز ہونا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے، گو کہ یہ موقع بار بار نہیں ملتا اور کبھی کبھار ہی ایسا ہوتا ہے لیکن جب بھی دل کرے تو میں منع نہیں کرتا، آج بھی ایسا ہی کیا۔

لکڑیاں انگیٹھی میں انڈیل دیں اور شعلے جب خوب گرم ہوئے تو کندھوں پر چادر لپیٹ کر کتاب کھول کے انگیٹھی کے گرد بیٹھ گیا۔ وقفے وقفے کے بعد جب آگ کے شعلے ذرا بیٹھنے لگ جائے تو میں اسے تازہ کر کے پھر سے مطالعہ میں ڈوب جاتا ہوں۔ اس بھیانک خاموشی میں مطالعہ کا جو مزہ ہے، وہ میں کیا بیان کر پاؤں گا کہ میرے لفظ میری کیفیت بیان کرنے میں میرا ساتھ نہیں دے رہے اور میں بے بس ہوں۔

مولانا ابوالکلام آزاد ایک جگہ لکھتے ہیں :

میں آپ کو بتلاؤں، میرے تخیل میں عیش زندگی کا سب سے بہتر تصور کیا ہو سکتا ہے؟ جاڑے کا موسم ہو اور جاڑا بھی قریب قریب درجۂ انجماد کا ، رات کا وقت ہو، آتشدان میں اونچے اونچے شعلے بھڑک رہے ہو، اور کمرے کی ساری مسندیں چھوڑ کر اس کے قریب بیٹھا ہوں اور پڑھنے یا لکھنے میں مشغول ہوں۔

یہ عیش زندگی ہمیں بعض اوقات ہی نصیب ہوتا ہے لیکن وہ پر کیف اور سرور آگیں ماحول دل پر ایسے نقش چھوڑ جاتا ہے کہ کئی کئی دنوں تک اس کی لذت رگوں میں دوڑتی ہے جسے میں اپنی لبوں اور خیالوں پر محسوس کرتا ہوں۔ ایک طرف تو یہ لطیف اور دلآویز فضا، جس میں سب کچھ رکا ہوا اور بے دم محسوس ہو، ایسی خاموشی کہ اگر پتا بھی ہلے تو آہٹ کانوں میں صاف محسوس ہوتی ہے اور دوسری طرف مختار مسعود کی رواں دواں اور سلیس تحریر کی چاشنی اور رسیلا پن، اور دونوں کا امتزاج جو بندے کو حیران و ششدر کردے کہ کس چیز کی لذت زیادہ ہے اور اگر ساتھ دودھ پتی چائے کا خمار بھی ہو تو کون کم بخت فیصلہ کر سکتا ہے، مجھے تو ان سب نے حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

آگ کے گرد بیٹھے، پاؤں پھیلائے، لکڑیوں کے سلگنے اور چٹاخ چٹاخ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے یہ سطریں ٹائپ کر رہا ہوں، کچھ نہیں پتہ کیا لکھا، بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، جنوں کی کیفیت ہی کہیے کیونکہ یہ سرور و کیف عارضی ہی سہی لیکن اس نے دنیا و مافیا سے بالکل بے خبر کر دیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments