مطالعہ پاکستان بمقابلہ گلوبل سیٹیزن شپ


ونگاری ماتھائی، گریتا تھنبرگ، نیلسن منڈیلا، روسا پارکس، مارٹن لوتھر کنگ وغیرہ کون تھے؟ اگر ان کی فہرست بنا کر پاکستان میں کالج اور یونیورسٹی سطح کے طلباء سے ان کے بارے میں پوچھا جائے تو آپ کے خیال میں صحیح جواب دینے والوں کا تناسب کیا ہو گا؟ میں سمجھتا ہوں کہ صحیح جوابات دینے والوں کی تعداد نہ ہو نے کے برابر ہو گی۔ اور اگر یہی سوال دوحہ، قطر میں کسی سکول کے طلباء سے کیا جائے تو تقریباً سب کو بنیادی معلومات ہو گی۔

اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں کہ دوحہ کے طلباء زیادہ ذہین و فطین ہیں بلکہ درحقیقت مندرجہ بالا شخصیات ان کے نصاب (ایڈیکسل) کا حصہ ہیں۔ یہ شخصیات انہیں باقاعدہ پڑھائے جاتے ہیں اور ان میں سے بہت سے یہاں کے بچوں کے ہیرو ہیں۔ اس موضوع سمیت بہت سے انتہائی اہم اور دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرنے والے موضوعات ایک ہی سبجیکٹ میں سمیٹ لیے گئے ہیں جس کا نام ہے گلوبل سیٹیزن شپ۔

گلوبل سیٹیزن شپ بچوں کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہم سب اپنی تمام تر شناختوں سے بالا تر ہو کر سب سے پہلے ایک جیسے انسان ہیں۔ بحیثیت انسان ہم سب ایک ہیں اور اس دنیا کے برابر کے شہری ہیں۔ ہمارے حقوق اور ذمہ داریاں ایک جیسی ہیں۔ بین الاقوامی مسائل چاہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق ہو، غربت سے متعلق ہو، تعلیم و ترقی سے متعلق ہوں یا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہوں، یہ سب مسائل بین الاقوامی مسائل ہیں اور ان کا واحد حل بھی بین الاقوامی سطح پر ہی ممکن ہے۔ تو لہذا ہمیں ان مسائل کو کسی ایک قوم کے شہری کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ پوری دنیا کے شہری یعنی گلوبل سیٹیزن کی حیثیت سے دیکھنے، سمجھنے اور حل تلاشنے کی ضرورت ہے۔

یہ مضمون دور حاضر کی ایک انتہائی اہم ضرورت ہے جو کہ طلباء کو دنیا بھر میں مختلف ثقافتوں اور شناختوں کا احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔ یہ سبجیکٹ طلباء کو ایک عالمگیر شہریت کے حامل بناتا ہے جو انہیں بنیادی انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، انصاف اور سماجی تعلقات سے متعلق تمام تر بنیادی کانسیپٹ فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے سے طلباء مختلف ریاستوں کے بنیادی مسائل اور ان کا حل سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ طلباء ذاتی ترقی اور گرومنگ کے ساتھ ساتھ دنیا کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے بھی قابل ہو جاتے ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان میں دیکھا جائے تو یہاں کے نصاب اور مطالعہ پاکستان کی آڑ میں قومیت، رنگ و نسل، اور مذہب و مسلک کی بنیاد پر نفرت نہ صرف سکھائی جاتی ہے بلکہ اس کا پرچار بھی کیا جاتا ہے۔ ہمارے قومی ہیرو، ہماری قومی شناخت اور بحیثیت قوم ہمارے ترجیحات، بیر، نفرت، شدت پسندی اور تنگ نظری پر مبنی ہیں۔ یہاں کے طلباء یہ سب پڑھنے کے بعد کنویں کے مینڈک بن کر رہ جاتے ہیں۔ آؤٹ آف دی باکس سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اور بصیرت کھو دیتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ سب کچھ ریاست کی سرپرستی میں ارادی طور پر ہوتا ہے تاکہ مستقبل میں شہری کے نام پر دلے شاہ کے چوہے تیار کیے جائیں اور بوقت ضرورت قومی مفاد کی بھینٹ چڑھائیے جا سکیں۔

حالیہ دنوں وائرل ایک قومی کرکٹ کے کھلاڑی عبدالرزاق کے بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے سے متعلق متنازع بیان کا اگر اس تناظر میں تجزیہ کیا جائے تو سارا قضیہ واضح ہو جائے۔ موصوف کا یہ بیان اور الفاظ کا چناؤ سراسر جہالت اور تنگ نظری پر مبنی ہیں۔ یہ سب دراصل اس تربیت کا نتیجہ ہے جو ہمیں بچپن سے نصاب کے نام پر ہمارے ذہنوں میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے صرف ہم ہی دنیا کی عزیزم اور پاک دامن قوم ہیں۔ دو قومی نظریہ کی آڑ میں پڑوسیوں سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ہمارے پڑوسی ہمارے حریف ہیں کیونکہ ان کی مذہبی شناخت ہم سے مختلف ہے۔ موصوف کا یہ بیان بظاہر تو ایک فرد واحد کا بیان ہے لیکن در حقیقت یہ ہماری اجتماعی اور قومی رجحانات کی عکاسی ہے۔

ہمارے قومی ہیرو یہاں کی تاریخ کے جنگجو لٹیرے اور یہاں کے تنگ نظر مذہبی بابے ہیں۔ نفرت، شدت پسندی، اشتعال انگیزی، قتل و غارت ہمارا کل قومی اثاثہ ہے۔ ایک عرصے سے دائروں کے سفر میں ہیں۔ تاریخ اور ماضی کے مزاروں پر اتراتے ہیں لیکن دور حاضر کے تقاضوں اور مستقبل کے حقیقی چیلنجز سے یکسر سے نا بلد ہیں۔ دنیا جن علوم و فنون کی بنیاد پر مریخ پر پہنچ گئی ہم ان کو رد کرنے کی کوشش میں روزانہ مناظرے کر رہے ہیں۔ ہم سائنس کو بھی کوئی مذہبی فرقہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ سائنسی علوم سے نفرت کرتے ہیں اور اس کی دلیل یہ بتلاتے ہیں کہ سائنسی دعوے چونکہ ہمارے مفروضوں سے متصادم ہیں تو لہذا ہم ان میں یقین نہیں رکھ سکتے۔

میں ذاتی طور پر دونوں مضامین یعنی مطالعہ پاکستان اور گلوبل سیٹیزن شپ کچھ عرصہ کے لئے پڑھا چکا ہوں۔ میں کوئی ماہر تعلیم تو نہیں لیکن دوحہ میں کچھ عرصہ گلوبل سیٹیزن شپ کے معلم ہونے کی حیثیت سے گزارے تو مجھے معلوم پڑا کہ نصاب اور تعلیمی نظام کا کسی سماج پر کتنا اثر ہوتا ہے۔ یہاں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ونگاری ماتھائی کون ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ضمن میں ان کے خدمات کیا ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نیلسن منڈیلا کون تھے اور ان کے ساوتھ افریقہ کی آزادی، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے کیا کیا خدمات ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ ملالہ یوسفزئی کون ہے، وہ جانتے ہیں کہ مارٹن لوتھر کنگ کون ہیں اور ان کے انسانی آزادیوں کے لیے کیا خدمات ہیں۔ یہاں کے طلباء بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے بنیادی حقوق کیا ہیں۔ وہ جانتے ہیں کی بحیثیت طلباء ان کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ انہیں بچپن سے ہی وہ شعور حاصل ہوجاتی ہے جو سماج میں باوقار زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید ریاستیں نصاب اور تعلیمی نظام کے ذریعے سے ذہن سازی کرتی ہیں۔ نصاب کے ذریعے بچوں اور نوجوان نسل کو قومی شناخت سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قومی ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی حد تک کچھ ریاستوں کی مجبوری بھی ہوتی ہے کہ ایسے نصاب اور تاریخ کا سہارا لیا جائے۔ لیکن اس سب کے باوجود توازن اور میانہ روی کے اصول کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قوم کے بچوں کو جب تک جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دور حاضر کی علمی و فنی ہتھیاروں سے لیس نہیں کریں گے تو من گھڑت تاریخی داستانوں کے سہارے زیادہ دور تلک جایا نہیں جا سکتا۔

Facebook Comments HS