خواجہ عسکری حسن کی دنیا


ساہیوال میرے لئے شہر طلسمات ہے۔ اس شہر نے میرے شوق شعر و ادب کی آبیاری کی۔ یہاں مجھ پر طلسم سخن کے در وا ہوئے۔ سٹیڈیم ہوٹل اور کیفے ڈی روز کی مسند پر براجمان خدائے سخن مجید امجد کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ اسی شہر میں میری ایک جائے پناہ بھی تھی جسے بوستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بوستان میرے دوست عسکری حسن کا انار کے درختوں والا گھر ہے جہاں کے درو بام سے محبت، وضع داری اور تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس گھر کی مالکہ اماں کا دبدبہ اور جلال مجھ سے لے کر طارق عزیز، بھٹو اور ہر اس شخص کو یاد ہے جو اس گھر میں آیا۔

میں تو جیسے اسی گھر کا مکین تھا۔ اماں کے لیے اس کا مرثیہ خواں جسے اماں کی مجالس کے لئے سلام لکھنے کا سلیقہ اور اعزاز حاصل ہوا۔ عسکری حسن شرارت سے اماں کے کان میں کہتے کہ مظہر سے مرثیہ لکھوائیں کہ وہ خود اماں کو اپنی شاعری سناتے گھبراتا تھا۔ دوستوں میں بیٹھ کر اور خاص طور پر مجید امجد کے سامنے بڑے کروفر سے اپنی غزل سناتا اس پہ طرہ یہ کہ امجد صاحب بھی اسے مسکرا مسکرا کر داد دیتے تو ہمیں تھوڑا حسد بھی ہوتا کہ ہم تو خود کو کل وقتی شاعر سمجھتے تھے۔ یہ عسکری حسن کب سے شعر کہنے لگا۔ شعر بھی کمال کے۔ نئے نئے مضمون باندھتا۔ ادھر چاند پر پہلے انسان نے قدم رکھا ادھر خواجہ صاحب کی حس شعر بیدار ہو گئی،

دیکھا تو رات چاند کا چہرہ اداس تھا
سنتے ہیں چاند پر کوئی انساں اتر گیا

امجد صاحب نے مسکرا مسکرا کر وہ داد دی کہ ہم نے دل کو تسلی دی اور سوچا کہ ہے تو جز وقتی شاعر۔ پھر کبھی گھومتے گھومتے کیفے ڈی روز کی طرف جا نکلتے تو وہاں بھی چائے کی پیالی کے بعد منہ میں پان کی گلوری رکھتے ہوئے عسکری حسن گویا ہوتے۔

بارش کے بعد رات سڑک آئینہ سی تھی
اک پاؤں پانیوں پہ پڑا چاند ہل گیا

ارے عسکری حسن کیوں چاند کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑے ہو۔ میاں کوئی اور مضمون باندھو تو جانیں۔ پھر کیا تھا عسکری کو امجد صاحب کی تھپکی تھی اور وہ مسلسل شعر کہنے لگا۔ کونوں کھدروں میں بیٹھے شعرا کے چہرے اتر گئے۔ میں نے دل میں سوچا اب دیکھیں آگے آگے کیا ہوتا ہے بوستان کا مکین کب تک محو سخن رہتا ہے۔ کچھ حاسدوں نے بے پرکی اڑائی کہ سخن کے پردے کے پیچھے مظہر ہے۔ عسکری نے جلال خواجگی میں ایک اور رنگ کی غزل کہہ دی تو حاسدوں کے منہ لٹک گئے،

رات کے اندھے سفر پر کون نکلے عسکری
کھول رکھو گھر کا دروازہ کوئی آنے کو ہے

میرے سوا کوئی اور بھی تھا جو آنے کو تھا، میں نے دل میں سوچا اور مطمین سا ہو گیا۔

عسکری نے سکہ بند شعرا کی تواضع کا نیا طریقہ ڈھونڈا اپنے کوچوان کو مسدس حالی ازبر کروائی اور جب کسی کو چھیڑنا ہوتا تو کوچوان کو بلا کر کہتے حاجی صاحب کو مسدس سناؤ۔ اب کوچوان فر فر تلفظ کے ساتھ جو مسدس پڑھتا تو خواجہ صاحب شرارت سے مسکراتے اور کہتے ہمارے تو کوچوان بھی مان نہیں ہیں میاں۔

مہدی حسن اور جعفر حسن برنگ دگر مجلس آرائی کرتے۔ بھائی مہدی کا علمی دبدبہ تھا تو جعفر حسن کا نقادانہ جلال بھی کم نہ تھا۔ بلو سب سے چھوٹا اور بہت دھیما ایسا دھیما کہ اس کے چپکے سے جانے کا دکھ بہت گہرا ہے۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوا میں ساہیوال پہنچا اور بوستان کی طرف رنجیدہ چل پڑا۔ یہ سڑک کتنی خاموش ہوا کرتی تھی اب شو روموں نے اس کی خاموشی اور بھید بھری تنہائی برباد کر دی۔ بوستان بھی وہ نہ رہا۔ اناروں کے جھنڈ کہاں گئے مکیں بیمار ہوئے۔ عسکری بریکٹ میں مسکرایا۔ دکھ اور مسرت کے ملے جلے جذبات نمایاں تھے۔ میں نے کہا بلو بھی چلا گیا۔

عسکری کچھ نہیں بولا۔ مجلس برپا ہوئی۔ دسترخوان بچھا اور پھر ماضی کے دریچے سے عسکری نے کہا۔
رات کے اندھے سفر پر کون نکلے عسکری
کھول رکھو گھر کا دروازہ کوئی آنے کو ہے

Facebook Comments HS