سموگ: کئی روگ اس سے جنم لے رہے ہیں


سموگ اس فضائی آلودگی کا نام ہے جس میں دھواں اور دھند دونوں شامل ہوتے ہیں۔ سموگ کا لفظ پہلی دفعہ ڈاکٹر ہنری انٹونی نے اپنے ایک ریسرچ پیپر میں استعمال کیا۔ دنیا اس لفظ سے 1950 ء میں واقف ہوئی جب لندن میں سموگ کے باعث چار ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔ اس حادثے کے بعد برطانوی حکومت نے 1956 ءمیں لندن میں ”کلین ائر ایکٹ“ نافذ کیا جس کے ثمرات سے آہستہ آہستہ لندن کی فضا صاف ہو گئی۔ گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سموگ ایک اذیت بن کر سامنے آتی ہے۔

2019 ء میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (UNFAO) کے پروگرام آر سموگ (R۔ Smog) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان خصوصاً پنجاب میں سموگ کی وجوہات میں ٹرانسپورٹ کا کردار 43، صنعتوں کا 25 اور زراعت کا 20 فیصد ہے۔ درختوں کا کٹنا، گاڑیوں کا دھواں، ناقص معیار کا ایندھن، ٹرانسپورٹ کے کمزور انجن، صنعتی آلودگی، میونسپل اور صنعتی، خصوصا اًینٹوں کے بھٹوں میں ربڑ، ٹائروں اور موبل آئل کا بطور ایندھن جلانا ہیں۔

کوئلے اور تیل سے چلنے والے پلانٹ بھی اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ہوا میں نمی ’ملوں اور فیکٹریوں کی فضائی آلودگی‘ گاڑیوں کا دھواں اور دیگر عناصر اس دھویں سے مل کر اسے سموگ بنا دیتے ہیں۔ سموگ صحت کے لئے خطرناک تو ہے مگر حد نظر کو بھی اس حد تک محدود کر دیتی ہے کہ پروازیں منسوخ اور ٹرینیں روکنا پڑتی ہیں۔ سڑکوں پر سفر بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

سموگ متاثرین، سانس لینے میں دشواری، دمہ، گلے میں خارش آنکھوں میں جلن، بخار، کھانسی اور پھیپھڑوں میں انفیکشن جیسی بیماریوں سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ سموگ، دماغی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ آلودگی میں معمولی اضافے سے ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ گہری سموگ سے سورج کی روشنی زمین تک نہ پہنچنے سے انسانی جسم میں وٹامن ڈی کم ہو جاتا ہے اور ایسے افراد ہڈیوں کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بقول انور مسعود:

فضائیں بہت اس سے بوجھل ہوئی ہیں
فضاؤں میں اسموگ پھیلا ہوا ہے
کئی روگ اس سے جنم لے رہے ہیں
بہ ہر سو یہی روگ پھیلا ہوا ہے

لاہور ماضی میں باغوں اور پھولوں کا شہر تھا۔ مال روڈ پر لوگ چہل قدمی کیا کرتے تھے۔ دولت کمانے کا کھیل شروع ہوا تو ایل ڈی اے، میٹرو پولیٹن کارپوریشن، واسا اور دیگر محکموں کے ”ایماندار“ افسروں کی معاونت سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے شہر کا نقشہ بدل دیا۔ واسا کے نالے بھی مافیا نگل گیا۔ بے ہنگم اور خلاف قانون عمارتوں کا جنگل شہر کی ہریالی کھا گیا۔ حکمرانوں نے اپنے خوشامدیوں اور مصاحبوں کی خوشی کے لئے تباہی سے آنکھیں بند رکھیں۔ لاہور میں 60 ء کی دہائی میں ڈبل ڈیکر بسیں، نسبت روڈ، ہال روڈ اور لنڈا بازار سے گزرا کرتی تھیں پھر موٹرویز، میٹرو اور ”کشادہ سڑکوں“ کے نام پر درخت کٹتے گئے۔ سرکاری بس سروس کا خاتمہ ہوا تو بے ہنگم ٹریفک نے ماحول آلودہ کر دیا۔

آلودگی ناپنے کا بین الاقوامی معیار ”ایئر کوالٹی انڈکس“ کہلاتا ہے۔ صفر سے 50 تک ہل ہوا کی کوالٹی اچھی، 51 سے 100 کے درمیان درمیانے درجے، 101 سے 150 تک سانس کے مریضوں اور حساس لوگوں کے لئے خطرہ اور 151 سے 200 تک عمومی صحت کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس وقت لاہور میں ائر کوالٹی کنٹرول 347 ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ماحولیاتی آلودگی سالانہ 70 لاکھ افراد کی جانیں لیتی ہے جن میں 6 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

کسی پاکستانی حکمران نے فضائی آلودگی میں کمی یا خاتمے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ 25 سال پہلے کچھ صحافیوں نے ایک تنظیم ”فورم آف انوائرمینٹل جرنلسٹ پنجاب“ (fejp) بنا کر، ماحولیاتی مسائل کو ہائی لائٹ کیا تو انہیں ”بے وقوفوں کا ٹولہ“ کہا گیا۔ اسی وقت معاملات کی درستی کی کوشش کی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں، پیسے کی ہوس اور ماحول دشمن اقدامات نے معاملات ایسے خراب کر دیے، کہ لاہور کے شہری نیلا آسمان دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔ گزشتہ اور اس سال لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر رہا، جبکہ امریکی شہر ڈیٹرائٹ دنیا کا صاف ترین شہر قرار پایا۔

جن ملکوں میں ٹھنڈا ماحول ہے وہاں جنگلوں کا تناسب کچھ یوں ہے۔ روس 48، برازیل 58، انڈونیشیا 47، سویڈن 74، سپین 54، جاپان 67، کینیڈا 31، امریکا 30، بھارت 23، بھوٹان 72 اور نیپال میں 39 فیصد جنگلات ہیں، جبکہ ہمارے ہاں صرف 4 ، 8 فیصد جنگلات ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم کتنے ماحول دوست ہیں۔ درختوں کا بے دریغ قتل ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ہر سال درجہ حرارت بڑھنے کی بنیادی وجہ ہے۔ ایک بڑا درخت 36 بچوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے جبکہ دس بڑے درخت ایک ٹن ائر کنڈیشنر جتنی ٹھنڈک پیدا کرتے، فضائی آلودگی اور شور کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گندے نالوں کے اطراف پر لگے درختوں کی جڑیں گندے مادوں کو جذب کر کے ناگوار بو، کم کرتی اور ان کے پتے ماحول کو صاف ہوا مہیا کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کا 25 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں درخت سے زیادہ اس کی لکڑی کی اہمیت ہے، جس کی وجہ سے جنگلات آہستہ آہستہ ناپید ہو رہے ہیں۔

دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں کل کے ٹھنڈے ملک گرم اور گرم ترین ممالک کو شدید سرد لہروں کا سامنا ہے۔ کئی ممالک درختوں کی زیادہ سے زیادہ آبیاری سے موسمی تبدیلیوں کے نقصانات سے بچنے کے لیے کوشاں ہیں۔ 13 نومبر 2023 کو کینیا میں درخت لگانے کے لئے سرکاری چھٹی دی گئی۔ کینیا حکومت 2032 تک 15 ارب درخت لگانا چاہتی ہے۔ اگر ہمیں موسموں کی شدت سے بچنا ہے تو ہمیں موجود جنگلات اور درختوں کو بچانا، نئے جنگلات اور درختوں کی تعداد میں اضافہ، کیمیائی کھادوں، زہروں اور دیگر کیمیائی مادوں کا استعمال کم سے کم کرنا ہو گا۔ ہر شہری ایک درخت ضرور لگائے اسی طرح طلبہ اور اساتذہ تعلیمی اداروں میں پودے لگائیں۔

امریکی یونیورسٹی آف شکاگو کے ”انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ“ کی (جون 2022 ء) رپورٹ کے مطابق 2013 ء میں چین میں فضائی آلودگی اپنی انتہا کو پہنچی تو 2013 تا 2020 ء، چینی حکومت نے ”نیشنل ائر کوالٹی ایکشن پلان“ کے تحت کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے کئی پلانٹس پر پابندی لگائی اور بہت سے بجلی گھروں کو گیس پر منتقل کیا۔ 2016 ء تا 2017 ء چین نے آئرن اور سٹیل کی پیداوار 115 ملین ٹن کم کی۔ ملک میں 553 زیادہ آلودگی پیدا کرنے والی ملکی اور غیر ملکی کاروں کی پیداوار معطل کی۔ ان اقدامات سے چین نے فضائی آلودگی 40 فیصد کمی کی، جو اتنے کم عرصے میں ایک ریکارڈ ہے۔ امریکہ نے 1970 ء میں ”کلین ائر ایکٹ“ پاس کیا تاہم اسے فضائی آلودگی کم کرنے میں 30 برس لگے۔ پاکستان میں فضائی آلودگی میں کمی کے لئے حکومت کو ان اقدامات کی ضرورت ہے :

•پبلک ٹرانسپورٹ کا اجراء۔ •پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی۔

•جنگلات کاٹنے پر پابندی•فیکٹریوں کے زہریلے دھوئیں کے اثرات کی کمی کے لیے فلٹرز کا یقینی استعمال۔ •کیمیکل سے بنی اشیا ء کا کم سے کم استعمال۔ •اینٹوں کے بھٹوں کی دو ماہ (نومبر اور دسمبر) کی بندش۔ •زیادہ سے زیادہ درخت لگانا۔ •ایسی گاڑیوں کا فروغ جو بجلی سے چلیں۔ •شہروں کے گرد جنگلات اگانے کا مناسب انتظام۔ •شہروں اور صنعتوں کے قیام کے لیے باقاعدہ پلاننگ۔ •سیمنٹ، سٹیل انڈسٹری اور تھرمل پاور پلانٹ میں کم سے کم توانائی کا اخراج کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال۔

ہر سال چند روزہ چھٹیاں اس مسئلے کا حل نہیں۔ سموگ کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS