کتنے پینڈو تھے ہم
جب مجھے گاؤں سے نیا نیا شہر پڑھنے کو جانا ہوا، تو شہر میں لوگوں سے بات کرنا تو دور ان کے سامنے کھڑا رہنا بھی کسی جہاد سے کم نہیں ہوتا تھا، ہم ٹھہرے سادگی کے پتلے، نہ کپڑے پہننے کا ڈھنگ، نہ بات کرنے کا سلیقہ، نہ لوگوں کو سمجھنے والا دماغ اور اوپر سے اردو ایسی جیسے نواز شریف صاحب کی انگریزی، جوں ہی ہماری زبان سے لفظوں کا آنا ہوتا تھا سامنے والوں کا اس سے ڈبل سپیڈ سے جانا ہوتا تھا کیونکہ لفظوں میں شیرینی کچھ اس طرح کی ہوتی تھی۔
اگر کبھی کوئی نادانی میں بات کرنے جیسی گستاخی کر بھی دیتا تو چپ کا روزہ لگ جاتا تھا اور سامنے والا دنیا کا چکر لگا کر واپس آ جاتا اور ہم الفاظ ڈھونڈتے ہوئے پائے جاتے تھے کہ اس کو جواب دینے کے لیے الفاظ کون سی کدال سے پکڑ لائیں اور بڑی جد و جہد کے بعد سامنے والے کے کان شریف میں ایک دو الفاظ انڈیل بھی دیتے خدا خدا کر کے تو سامنے والا کا سوال ہوتا یہ بھلا کون سا اردو کا لہجہ ہے؟
ہم نے سن رکھا تھا شہری طلبا بڑے ہی ذہین و فطین ہوتے ہیں کیوں کہ وہ انگریزی میڈیم اسکولوں اور کالجوں سے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کا بات کرنے کا انداز، چلنے کی ادا، چہرے کا ڈیزائن، اوڑھنے بچھونے کا سلیقہ اور بے باکی سے ٹیچروں سے ہمکلام ہونے کا طریقہ کار، ان کی ہر ادا نرالی اور شاندار ہوتی ہے، اور یہی ہماری تہذیب و ثقافت کے علمبردار ہوتے ہیں۔
جو کچھ سن رکھا تھا اور تصور کیا ہوا تھا اس سے کہیں زیادہ اثر انداز یونیورسٹی کے ماحول کو پایا۔ ان میں سے کسی خوبی کا میرے سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں تھا اور زندگی میں پہلی بار احساس کمتری نام کی چیز سے واقفیت ہوئی اور وہ بھی بڑی شدت سے۔
کلاس کا ہر ایک لڑکا اپنے آپ کو دنیا کا پہلا اور آخری نمونہ تصور کرتا تھا اور نرگسیت اس انتہا کو تھی جیسے دنیا کی ساری خوبصورتی اور چمک دمک انہیں کے طفیل قائم ہے۔ کوئی اپنی اچھی شکل پر اتراتا، کسی کو اپنے دولت مند ہونے پر تکبر تھا تو کسی کو اپنی پرسنیلٹی پر گھمنڈ اور کوئی اپنی ذہانت پر مغرور تھا۔
یہ کچھ کم تھا کہ اوپر سے ایمان جیسے ہمارے قیمتی اثاثے کا امتحان لینے کے لئے کلاس میں لڑکیاں آ ٹپکیں جو شہری لڑکوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں، جن سے بات کرنا تو دور، ان کی طرف دیکھنے سے ہی کانپیں ٹانگ جاتی تھیں اور یہ سوچنے پر چکر آ جاتے تھے کہ بس زندگی میں اسی چیز کی شدت سے کمی تھی کہ اب ان کے سامنے ذلیل و خوار ہونا قسمت میں باقی تھا وہ بھی بڑے پیار سے پیاری قسمت نے پورا کر دیا۔
کلاس میں لڑکیوں اور لڑکوں میں قربتیں کچھ اس طرح کی تھیں جیسے انڈیا اور پاکستان کے درمیان محبت اور ہم ان دونوں کے درمیان میں کٹی پتنگ کی طرح لٹکے ہوئے تھے۔ لڑکے منہ لگاتے نہیں تھے لڑکیوں کے منہ لگ نہیں سکتے تھے۔ باقی چند ایک جو بچے تھے ان کے ساتھ کچھ ایسا رشتہ تھا جیسے بلاول بھٹو کا اردو سے اور نواز شریف کا انگریزی سے۔
لڑکیاں جو کلاس میں ہو کر بھی کلاس میں نہیں ہوتی تھیں انہوں نے اپنی ایک الگ تھلگ خیالستان کی دنیا بنا رکھی تھی اور خوش فہمیاں پالنا لڑکیوں کا بہترین مشغلہ ہوتا تھا۔ وہ بھی کچھ اس طرح کہ ایک لڑکی کی شہر سے گاؤں میں شادی ہوئی تو سسرال میں جانوروں کے گوبر اور پیشاب کی وجہ سے گھر میں چوبیس گھنٹے بدبودار سی فضا قائم رہتی جیسا کہ دیہات میں ہر گھر میں ہوتا ہے۔ لڑکی کو بدبو دار ماحول میں رہنا مشکل سا لگا کیونکہ بیچاری کو ایسے ماحول میں رہنے کی عادت نہ تھی۔ فوراً اپنے شوہر کو جگہ بدلنے کا زور دیا اور کہا یا تو اس گھر میں میں رہوں گی یا پھر یہ جانور، مگر شوہر نے بات کو ذرا اہمیت نہ دی۔
کچھ دن گزرے تو لڑکی کو بھی ماحول کی عادت سی ہو گئی جیسا کہ ہر انسان کو کسی بھی ماحول میں ڈھلنے کے لیے تقریباً تقریباً اڑتالیس گھنٹوں کی ضرورت ہوتی ہے، عادت پڑ چکنے کے بعد پھر اپنے شوہر سے کہنے لگی دیکھا میرے آنے سے گھر سے بدبو بھی غائب ہو گئی۔ شوہر نے پیار جتاتے ہوئے کہا ہاں میں بھی آپ سے یہی کہنے والا تھا کہ آپ ہمارے گھر کے لیے خدا کی طرف سے بہت بڑی نعمت ثابت ہوئی ہیں۔
لیکن کچھ لڑکیاں بھی اعلیٰ قسم کی خوبیوں کی مالک تھیں جن کے لڑکوں میں دور دراز تک کوئی آثار قدیمہ نہیں پائے جاتے تھے، جیسا کہ جگنو جیسی چہرے پر چمک، خرگوش سی نزاکت، کوئل جیسی ان کی آواز، ہرنی جیسی ان کی چال، گلاب کے پھولوں جیسے ہونٹ، آنکھیں ایسی مست مست فرشتے بھی جن پر بہک جائیں، یعنی زمین پر حوریں، حوروں کا ذکر آنے پر مولوی صاحبان کے منہ میں سے بھی رال ٹپکنے لگتا ہے۔ لیکن ہماری قربانی دیکھیے حوروں کے ملنے اور ساتھ رہنے کے بعد بھی اپنے ایمان پر قائم و دام رہے۔
لیکن لڑکیوں کی ایک پہیلی جو میرے لیے آج تک پہیلی ہی رہی وہ یہ کہ ان کے چہروں کے خدو خال ہر دن پچھلے دنوں کی نسبت خوبصورتی کی طرف بڑی تیزی سے گامزن ہوتے ہوئے نظر آتے۔ صرف لڑکیوں کو ہی یہ اعلیٰ قسم کی سعادت نصیب تھی بعض اوقات ان کو پہچاننے کے لیے مائیکروسکوپ کی اشد ضرورت پڑ جاتی تھی ان میں سے کچھ لڑکیاں ایسے خاندان کی چشم و چراغ بھی تھیں کلچر بھی جن کے ہاں پانی بھرتا تھا اور کچھ اللہ میاں کی گائے سے زیادہ کچھ نہ تھیں یہ وہی کچھ کرتیں دیکھتیں، سنتیں اور بولتیں جو سکرپٹ میں ڈائریکٹر صاحبان کی طرف سے انھیں لکھ کر دیا جاتا تھا۔
شہری لڑکیوں کو دیکھنے، جاننے، ان کی ذہانت کو ماپنے اور بات کرنے جیسا عظیم الشان شرف حاصل کرنے کے بعد مرزا غالب کی غزلوں، منشی پریم چند کے افسانوں اور بانو قدسیہ کے ناولوں پر پہلی بار یقین کرنے کو دل نے چاہا اور وہ بھی بڑی شدت سے۔
پہلا سمیسٹر جو کسی قیامت سے کم نہیں تھا ٹیچروں سے سوال غلط ہونے کے خوف سے سوال ہوتا ہی نہیں تھا۔ پریزنٹیشن دینے سے نہیں بلکہ اس سے زیادہ انسانی شکل میں سامنے بیٹھے بھوتوں اور چڑیلوں سے ڈر لگتا تھا۔ اوپر سے سب کے سب مضامین انگریزی میں جس کا ہماری سات پشتوں سے کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا تھا کیونکہ ہماری اور انگریزی صاحبہ کی نسلوں سے دشمنی چلی آ رہی ہیں۔ ہمارے لیے انگریزی میں پڑھنا خودکشی کرنے سے بھی زیادہ مشکل کام تھا انگریزی سے ایسی دشمنی کہ اگر خدا ناخواستہ انگریزی صاحبہ ہماری بیوی کی شکل میں ہوتی تو دوسرے دن طلاق دے کر چلتا کرتے۔
کچھ دن گزرنے کے بعد کلاس پر عجیب و غریب سی کیفیت طاری ہو گئی کلاس ایک دم سے قومی اسمبلی کے اکھاڑے میں تبدیل ہو گئی۔ لڑکے سب کے سب دھڑوں میں تقسیم ہو گئے مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، عوامی لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی۔
دوسری طرف لڑکیاں جن میں یکتائی کچھ اس طرح کی تھی جیسے ایک جسم میں سب روحیں، جتنا لڑکوں میں سیاست تھی اس قدر دوسری طرف شرافت تھی۔
میرا رویہ کلاس میں کسی سرکس کے جوکر کا سا تھا۔ بس فرق اتنا تھا کہ میں کرتب دکھانے کی بجائے کرتب دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی اس کشمکش میں مبتلا تھا کہ میرا رویہ کلاس میں کیسا ہونا چاہیے؟ کس طرح کے ایکسپریشن اپنے چہرے پر سجا کے رکھنے چاہیے؟
وقار، بشاشت، سنجیدگی اور مصیبت یہ ہے کہ اگر انکساری برتو تو سمجھا جاتا ہے یہ احساس کمتری کا شکار ہے۔ جو بدقسمتی سے تھا اور وہ بھی شدت سے اور اگر انکساری نہ برتی جائے تو اسے غرور تکبر پر محمول کیا جاتا ہے۔ ہر ایک سے حسن سلوک سے بات کرو تو کہتے ہیں بڑا مولوی صاحب بنا پھرتا ہے کچھ طمع ہو گا اگر اس سے بچنے کے لیے بات ہی نہ کرو کسی سے تو سننے کو ملتا ہے بے چارا چار آدمیوں کے سامنے بات کرنے میں گھبراتا ہے۔
پتا نہیں یہ کس عقل کل نے کہا کہ وقت کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا۔ لیکن ان لمحات میں وقت نہ صرف رکا بلکہ سامنے بیٹھ کر مزے سے میرے حال پر ہنس رہا تھا۔
وقت نے کروٹ لی نئے نئے دوست بنے اور ان کے تجربات پر مریدوں کی طرح عمل پیرا ہوا۔
چہرہ شریف فیس واش اور فیئر اینڈ لولی کی کرامات سے چمکنے دمکنے لگا، مونچھیں جو ایک پینڈوں کی شان ہوتی ہیں ان کی قربانی دی، کپڑوں کے لیے لنڈے بازار کا راستہ لیا جو ہم جیسے غریبوں کی صدیوں سے عزت اور وقار کا امین رہا ہے اور رہے گا۔ پرسنیلٹی اور ہماری کبھی زندگی میں بنی ہی نہیں، اتنا کچھ کرنے کے بعد ایک ایک گھنٹا شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو یہ جھوٹا اعتبار دلانے کی کوشش کرتے کہ ہم بھی خوبصورت ہیں، مگر اندر سے آواز آتی یہ تیرا شیخ چلی کی طرح کا وہم و گمان ہے۔
دن ڈھلے شام ہوئی امتحان کا موسم آیا اور جب مجھے امتحان کے دن کو اپنی کلاس کو بڑے قریب سے دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی تو عقل دنگ رہ گئی آدھی سے زیادہ کلاس کے طلباء و طالبات نقل شریف جیسی نعمت سے ایک دوسرے کو نوازنے میں لگے ہوئے تھے، وہ بھی ایسے جیسے سیاسی جلسوں میں بریانی بنتی ہے، اور ان میں پیش پیش تھے کلاس کے وہ افلاطون، ارسطو اور لیڈی ڈیانا، جن کی شخصیت کی کلاس میں پوجا ہوتی تھی، جن کو میں علم کا سمندر تصور کرتا تھا، جن کے ساتھ ایک لمحہ کے لئے بات کرنا باعث فخر سمجھتا تھا، وہ جن کو آنے والے وقت کا قانون دان، وکیل، مشیر، ملک کی خارجہ پالیسی بنانے والے سیاست دان اور وزیر اعظم جیسے عہدوں پر فائز ہوتا ہوا تصور کرتا تھا،
وہ سب "پیپر دکھا”، "تو پیپر دکھا” جیسے خوبصورت ورد میں لگے ہوئے تھے۔ یہ تسبیح میرے ساتھ بیٹھے لوگوں نے بھی کی، لیکن بھلا مجھے عربی کیسے سمجھ آتی، یہ اور بات ہے کہ لڑکیوں کے معاملے میں عقل نے وفا کی۔
اللہ اللہ کر کے قیامت کے دن ٹلے اور بہار آئی۔ دوسرا سمیسٹر شروع ہوا تو بندے میں کچھ عقل نام کی چیز کا بھی آنا ہوا کہ علم کا تعلق کسی خاص ادارے یا علاقے سے تعلق رکھنے سے نہیں بلکہ جستجو اور لگن سے ہے۔ باقی رہتی سہتی عقل کو دماغ خرچ کر کے کچھ خرید کر ہی پورا کیا گیا۔



Nice efforts ✨