انحصار موت ہے

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک سپاہی کے دو بیٹے تھے۔ وہ، ہر باپ کی طرح، اپنی عمر بھر کا نچوڑ ایک نصیحت کی صورت میں اپنے بیٹوں کو دیا کرتا تھا ”اے میرے آنکھوں کے نور! کبھی بھی زندگی میں کسی دوسرے پر انحصار نہ کرنا، اور اچھے وقت کے باوجود خود کو برے وقت کے لیے تیار رکھنا، کیونکہ دنیا میں کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔“ وقت گزرتا گیا اور ایک جنگ میں وہی سپاہی

Read more

جام صاحب کا ناکستان: ایک ادبی حماقت نامہ

جام صاحب کی ایک کوالٹی ہے، وہ یہ کہ آپ کی ناک ایسی نایاب چیز ہے جو شاید نیشنل جیوگرافک والوں کی ڈاکیومنٹری کی فہرست میں بھی آپ کو نہ ملے۔ آپ ارد گرد کی خوشبو ایسے سونگھ لیتے ہیں جیسے پاکستانی الیکشن سے پہلے نتائج۔ اگر کوئی چیز کہیں سو کلومیٹر دور بھی کیوں نہ ہو رہی ہو، تو جام صاحب کی ناک کو فوراً وائی فائی کے سگنلز موصول ہو جاتے ہیں۔ اگر مختلف موبائل نیٹ ورکس والے

Read more

جنگل میں شعور کا آنا

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہو رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔ کچھ امن پسند، سلجھے ہوئے اور سچے دل کے جانور شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے، دہائیاں دیتے ہوئے شیر سے بولے ”حضور! کچھ کیجیے، ہمارا تو اس ریاست میں جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، نا انصافی، اور نفاق بڑھتا جا رہا ہے۔“

Read more

یونی لو وائرس ( 2 )

ایک عرصہ سوچنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ کسی سمجھدار شخص کو کیوں نہ دیکھا جائے۔ اگر وہ صرف لڑکی ہوتی تو بات ہضم بھی ہو جاتی، لیکن اس کا دلکش اور خوبصورت ہونا کچھ زیادہ ہی ناقابلِ ہضم تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ ہم تو ہر دوسری لڑکی کو دیکھتے ہی دیکھتے تھے اور ہر ایک پر دل بھی آ جاتا تھا۔ ”نظریں سلطانی ہوتی ہیں جو کہیں بھی جا سکتی ہیں اور دل شاہ جہاں جو کسی

Read more

جام صاحب کی سٹائلش محبوبہ۔ ( 2 )

اس حادثے کے بعد جام صاحب نے کئی بار ہمیں دعوت دی کہ ”چلو ہمارے ساتھ پھر سے چلو، کیوں کہ اب محترمہ کے رویے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اب ہم میں اس قدر ہمت نہیں تھی کہ اس نامحرم کو دوبارہ دیکھنے جیسی گستاخی کی ہمت جمع کر پاتے، اتنا بڑا دل تو ہمارا بھی نہیں تھا۔ اسے دیکھنے کے بعد ایسے محسوس ہونے لگا جیسے ہماری آنکھوں پر کسی درویش نے“ نظر کی حفاظت ”کا

Read more

یونیورسٹی لو وائرس

ایک انٹرنیشنل سروے کے مطابق، پاکستانی یونیورسٹیوں کے 80 فیصد طلبہ تعلیم کی بجائے ”محبت نامی وائرس“ میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس بیماری کے باعث نہ صرف ان کی ذہنی و جسمانی حالت نحیف رہتی ہے، بلکہ یہ کسی بھی قسم کا تخلیقی کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ ہمارے سائنس دان کوئی تسلی بخش ادویات ایجاد کرنا تو دور، ابھی تک اس کی روک تھام کے لئے معمولی سا نسخہ تیار کرنے سے قاصر ہیں۔ اس تشویش ناک

Read more

یونیورسٹی کا خفیہ نصاب: کینٹین میں بیٹھ کر ڈگری کیسے حاصل کی جائے؟ (2)

اگر آپ کا تعلق کسی راجہ مہاراجہ کے خاندان سے ہونے کی وجہ سے احسان لینا طبیعت میں ہی نہیں ہے تو اس بیماری کا بھی یونیورسٹی میں مکمل طور پر خیال رکھا جاتا ہے اور وہ یہ کہ اوپر والا طریقہ کار، یعنی پہلے تو خالص ”خدمت“ سے کام چلائے اور اگر یہ نہ چلے جو کہ عین ممکن ہے کیوں کہ یہاں پر کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اسلام کے اس اعلیٰ اصول کی قدر

Read more

کینٹین میں بیٹھ کر یونیورسٹی ڈگری کیسے حاصل کی جائے؟ تجربہ کاروں کی زبانی

ہم بدلے، وقت بدلا، ڈگری بدلی اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک پہنچ گئے مگر اس سب میں نہیں بدلا تو وہ ہے ہمارے تعلیمی ماحول کی آب و ہوا۔ تبدیلی غیر آرام دہ چیز ہوتی ہے، لیکن خدا بھلا کرے ہمارے تعلیمی نظام کا، جو اس قدر مہربان ہے کہ طلبہ کو کسی قسم کی غیر آرام دہ صورتحال میں ڈالنے سے مکمل پرہیز برتتا ہے۔ اسکول نے ہمیں جو کچھ کھانے کو دیا، وہی کچھ کالج

Read more

جام صاحب کی سٹائلش محبوبہ

جام صاحب ایک سال سے یونیورسٹی کے ایک ”پلاٹ“ پر نظریں جمائے ہوئے تھے، روز وہاں جا کر نظر دوڑاتے کہ یہ اب تک خالی ہے یا پھر کسی اور نے بکنگ کروا لی؟ لیکن ہم سے یہ خفیہ مہم ایسے چھپائی گئی جیسے پلاٹ نہ ہو کوئی نیوکلیئر پروگرام ہو۔ اب صورتحال یہ تھی کہ ہمیں ”پلاٹ وزٹ“ کی دعوت ملنے لگی، یعنی چلو تمہیں بھی دکھائیں تاکہ ہم اپنی ماہرِ نفسیات جیسی آنکھوں سے اندازہ لگائیں کہ وہ

Read more

مطالعہ پاکستان کی خیر و برکات

ہمیں جب بھی پاکستان کی خوبصورتی، شاندار کامیابیوں اور ناقابلِ یقین کارناموں کے بارے میں پڑھنے کا اشتیاق ہوتا ہے، تو سیدھے مطالعہ پاکستان کی کتاب کھول لیتے ہیں۔ جیسے ہی چند صفحات پڑھتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہماری سوچ کو چنبیلی کے عطر میں ڈبو کر، شہد میں گھول کر، اور دودھ میں نہلا کر دماغ میں ڈال دیا ہو۔ یہ ایسی محب وطن کی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ پھکی ہے جس سے ہر طرح

Read more

میں ایک کتاب کا مصنف ہوں (2)

پچھلے چھے مہینے میں ایسا کوئی پاکستان کا پبلشر نہیں جس کے منہ سے ہم نے اپنی کتاب کے بارے میں کچھ اچھا نہ سنا ہو، مگر عملی طور پر اس نے اپنے الفاظ کے بالکل برعکس نہ کیا ہو۔ آج سے چھے مہینے پہلے ہم اپنی کتاب کے مسودے کو لے پہلے پبلشر کے دربار میں حاضری دی۔ جناب نے کتاب کو چاروں طرف سے ایسے گھما گھما کر دیکھا، جیسے ڈاکٹر مریضوں کے ایکسرے دیکھتے ہیں۔ اور درمیان

Read more

میں ایک کتاب کا مصنف ہوں

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہیں کہ اگر ان کے دماغ کی بجلی کو استعمال کیا جائے تو ملک بھر کی سب سے بڑی پریشانی لوڈ شیڈنگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو کر رہ جائے، مگر پڑھنے والوں کی تعداد اتنی کم ہو کر رہ گئی ہے جیسے یہ کوئی معدوم ہوتی ہوئی نسل، جو بہت جلد نایاب پرندوں کی فہرست میں شامل ہونے والی ہے۔ یہاں لوگ کتابوں کو

Read more

صرف محنت کا حاصل صفر۔ (حصہ اول)

  ”جو کاہل ہوتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ جو کامیاب ہوتا ہے وہ کاہل نہیں ہوتا۔“ سینما ہال چاروں اطراف سے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس میں بیٹھے نوجوان فلم کے ہر چھوٹے بڑے منظر پر پرجوش انداز میں سیٹیاں بجائے جا رہے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جن کی فلم میں اتنا توجہ مرکوز تھی کہ انہیں کسی اور چیز کی خبر تک نہیں تھی۔ لوگوں کے چہرے فلم کے کچھ مناظر پر پھولوں

Read more

سیاست میں اداکاریاں

کم عقلی کے زمانے میں جب بھی کسی ڈرامے کو دیکھتے تھے تو ہمیشہ حقائق سے انجانیت کی وجہ سے ان میں موجود کرداروں کو ادا کرنے والے اداکاروں کی پوجا کرتے ہوئے خود کو ویسے ہی بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ ہمیشہ اداکاروں کو بلند مرتبے کی شخصیات کے طور پر احترام کی نظروں سے دیکھتے ہوئے ان کے نام کی ہی تسبیح کیا کرتے تھے اور ہر وقت ان کے نام کی مجنوں کی طرح مالا جپتے ہوئے

Read more

جب سائنس مجھ پر فرض ہوا کرتی تھی (حصہ دوم)

اسکول سے ہر سال اچھے بھلے صحت مند طالب علم منوں کے حساب سے فیل ہوتے تھے۔ اور ہم جنہیں خود کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کیا پیپر میں آیا ہے اور ہم نے جواب میں کیا لکھا ہے بڑے آرام و سکون سے کامیاب ہو جاتے تھے۔ لیکن دعائیں استادوں کی ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر لیتے تھے۔ ہم یہ راز بہت پہلے سے ہی سمجھ گئے تھے کہ ایک طالب علم کو سیاسی لیڈروں کی طرح امتحانات

Read more

جب سائنس مجھ پر فرض ہوا کرتی تھی (حصہ اول)

ہمیں اسکول میں ہمیشہ ذہین و فطین اور اعلیٰ ترین دماغ رکھنے والے محنتی طالب علموں کی فہرست میں اول نمبر پر فائز ہونے کا دعویٰ نہیں تھا تو آخر میں بھی نہیں ہوتے تھے۔ لیکن یہ اور بات ہے کہ نمبروں کے معاملے میں ہمیشہ آخر میں ہی پائے جاتے تھے میں اور میرے ہم نشیں۔ روز اول سے ٹیچروں نے یہ جان لیا تھا کہ ان میں پاکستان کے آنے والے روشن مستقبل کے آثار قدیمہ کی علامتیں

Read more

کتنے پینڈو تھے ہم

جب مجھے گاؤں سے نیا نیا شہر پڑھنے کو جانا ہوا، تو شہر میں لوگوں سے بات کرنا تو دور ان کے سامنے کھڑا رہنا بھی کسی جہاد سے کم نہیں ہوتا تھا، ہم ٹھہرے سادگی کے پتلے، نہ کپڑے پہننے کا ڈھنگ، نہ بات کرنے کا سلیقہ، نہ لوگوں کو سمجھنے والا دماغ اور اوپر سے اردو ایسی جیسے نواز شریف صاحب کی انگریزی، جوں ہی ہماری زبان سے لفظوں کا آنا ہوتا تھا سامنے والوں کا اس سے

Read more