لاہور اور پنجاب پر نئی آفت
مجھے لگتا ہے کہ پنجابیوں کی قریب کی نظر بہت تیز ہے اور وہ فوری فائدے کو فوراً بھانپ لیتے ہیں جبکہ ان کی دور کی نظر بہت زیادہ کمزور ہے اور انہیں مستقبل کے خدشات اور تباہی کا ادراک نہیں ہوتا یا وہ اس طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور اپنی قومی شناخت اور زبان کے قتل کے بعد اب قومی خودکشی کی راہ پر بھی خراماں خراماں گامزن ہیں
یہ تکلیف دہ سطور یوں لکھنا پڑیں کہ لاہور ڈویژن کی موجودہ آبادی دو کروڑ پینتیس لاکھ کے قریب ہے اور اس سے متصل اضلاع جیسے سیالکوٹ، وزیر آباد، گوجرانوالہ، فیصل آباد اتنے زیادہ گنجان آباد ہیں کہ گنجان آبادی میں بنگلہ دیش کے مقابل آتے ہیں، اب بنگلہ دیش کا مسئلہ تو یہ ہے کہ ان کے پاس زمین ہی نہیں ہے لیکن پنجاب کے پاس تو بہت زمین ہے جہاں وہ اپنی آبادی کو بسا سکتا یا شفٹ کر سکتا ہے
لیکن نہیں
اب پنجاب کے پالیسی سازوں نے روڈا ( لاہور اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ) کے نام سے ایک اور نیا منصوبہ شروع کر دیا ہے جس کے تحت لاہور سے متصل ہی شاہدرہ سے اوپر انڈین بارڈر کی طرف چودہ لاکھ گھروں پر مشتمل ایک نیا شہر بنائیں جس کی ایک کروڑ کے قریب آبادی ہو گی اس میں ہیلتھ سٹی، ایجوکیشن سٹی اور انڈسٹریل اسٹیٹ بھی بنیں گے یعنی اس کی آبادی ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہو گی
یعنی لاہور میں یہ ایک کروڑ نئے اور دو کروڑ پینتیس لاکھ موجودہ آبادی، تو تکمیل تک پہنچتے پہنچتے اس پورے ملک نما شہر کی آبادی چار کروڑ سے اوپر چلی جائے گی
تو اب ایک ایسا شہر جو سال میں تین چار مہینے تو دنیا کا سب سے زہریلا شہر رہتا ہے اور باقی دنوں میں بھی حال کچھ اچھا نہیں اور جہاں کے باسیوں کی اوسط عمر پانچ سے سات سال کم ہو چکی ہو، جہاں شہریوں کو گھر پر رکھنے کے لئے اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانا پڑتا ہو اور جہاں آلودگی کی وجہ سے اسکول اور دفاتر بند کرنے پڑتے ہوں تو پھر آپ خود بھی سوچئے کہ اس فوگ اور اسموگ زدہ شہر کو نئی آبادی کے لئے بند کرنا بنتا ہے یا وہاں ایک کروڑ مزید آبادکاری کا منصوبہ روبہ عمل لانا بنتا ہے؟
پھر اس منصوبے کے مزید نقصانات بھی ہیں
ایک تو یہ لاہور کے مضافات کی وہ سرسبز زرعی زمین کھا جائے گا جہاں سے لاہور کو سبزیاں پھل، دودھ اور چکن مصنوعات کی بڑی تعداد فراہم ہوتی ہے
دوسرا یہ منصوبہ بھارت کے گرم بارڈر کے قریب اور سرحد کے مزید قریب کی طرف جاتا ہے اب بھلا لاکھوں بلکہ کروڑوں کی سویلین آبادی کو ایسے بارڈر پر کیسے آباد اور ایکسپوز کیا جا سکتا ہے جو کسی وقت بھی گرم سرد ہوتا رہتا ہے اور یہ آبادی بھی شارٹ رینج ہتھیاروں کی زد میں آنے کے خطرات سے دوچار رہے
تیسرا یہ کہ پلاٹوں کے حصے پر نظر رکھنے والی لاہوری اشرافیہ اور پنجابی پراپرٹی ڈیلروں کو اندازہ ہی نہیں کہ اس منصوبے کے بعد لہور لہور نہیں رہے گا بلکہ آبادی کا یہ لامتناہی جنگل لاہور کی ساری ثقافتی اور تہذیبی شناخت اور قدریں نگل لے گا
چوتھا یہ کہ چار کروڑ کی اس ایک ہی جگہ آبادی کو بنیادی انفرا اسٹرکچر کی فراہمی کیسے ممکن رہے گی اور اس کو مینٹین کیسے کیا جا سکے گا
پانچواں یہ کہ یہ شہر/ آبادی گورن ایبل ہی نہیں رہے گی اور لاء اینڈ آرڈر کے ساتھ ساتھ ایسے سنگین سماجی مسائل سامنے آئیں گے کہ پھر اس کا علاج بھی ممکن نا ہو گا
نئے شہر کا مطلب جڑواں شہر نہیں ہوتے ورنہ دہلی اور نیو دہلی کے مجموعے کا جشر ہی دیکھ لیں
اگر پنجاب کی حکومت اور بیوروکریسی میں کچھ عقل ہو کوئی صاحب فہم ہو تو جہلم سے راولپنڈی کے درمیان کوئی نیا شہر بنا لیں یا ملتان سے صادق آباد کے درمیان، پیسے تو اتنے ہی لگیں گے جتنے روڈا کے پراجیکٹ میں لگنے ہیں۔
انگریزی محاورے کے مطابق بھی سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھے جاتے


