بچوں کا جسم درندوں کی مرضی؟


دو دن پہلے چکوال سے ایک دل دہلا دینے والی خبر ملی کہ ایک مدرسے میں پندرہ بچوں سے جنسی زیادتی اور بدترین جسمانی تشدد ہوا ہے۔ تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ استاد کے روپ میں دو درندوں نے معصوم بچوں کا جنسی استحصال کیا ہے اور چاقوؤں کے وار سے ایک مخصوص نشان بناتے رہے ہیں۔ دونوں اساتذہ حافظ انیس اور حافظ ذیشان نے کئی ماہ سے بچوں کا جنسی استحصال شروع کر رکھا تھا لیکن خوف میں مبتلا کوئی بچہ اپنے گھر والوں کو نہ بتا سکا۔

دو دن پہلے نواحی قصبے کھوکھر زیر کے ایک بچے کو خوفزدہ دیکھ کر اس کے والدین نے جب پوچھا تو بچے نے بتایا کہ مدرسے میں استاد میرے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہیں اور ڈرانے دھمکانے کے لئے چاقو کے وار سے زیڈ کا نشان بھی بناتے ہیں۔ بچے نے والدین کو بتایا کہ یہ سلسلہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ دوسرے طلباء کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ بچے کے والد نے ڈٰی پی او کو درخواست دی جس پر ادارے حرکت میں آئے۔ اس دوران دونوں ملزمان حافظ انیس اور حافظ ذیشان مدرسے سے فرار ہو گئے جنہیں بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس کے بعد پولیس نے مہتمم مدرسہ نوید حیدری اور منتظم اعلیٰ ضیاء الحق کی گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں اور مدرسہ سیل کر کے وہاں موجود طالبعلموں کو گھر روانہ کر دیا گیا ہے ۔ مدرسے میں بچوں سے زیادتی کا یہ واقعہ سامنے آتے ہی کچھ با اثر شخصیات حرکت میں آ گئیں اور والدین پر دباؤ ڈالا جانے لگا کہ چکوال کی بدنامی ہوگی آپ لوگ کارروائی نہ کریں جس پر آدھے سے زائد بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کا میڈیکل نہیں کرایا جبکہ 6 بچوں کا میڈٰیکل کرا لیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر زیادتی اور تشدد ثابت ہوا ہے۔ پنجاب سائنس فرانزک لیبارٹری کی ٹیم نے متاثرہ بچوں اور ملزمان کے طبی معائنہ کے سیمپل اور دیگر مواد لے کر لاہور روانہ کر دیا ہے جس کی رپورٹ جلد سامنے آ جائے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی گزشتہ روز چکوال پہنچے اور متاثرہ بچے کے گھر کھوکھر زیر گاؤں پہنچے اور حکومت کی طرف سے انصاف کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسے واقعات آئے روز منظرعام پر آتے رہتے ہیں لیکن ان کے خاتمہ کے لئے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جاتے اور اگلے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے، پھر انتظامیہ اور قانون حرکت میں آتے ہیں اور چند دن کی کارروائی کے بعد معاملہ دفن ہوجاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لئے انہیں جنسی تعلیم دینی ہوگی، انہیں گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ بارے بتانے ہو گا اور انہیں بتانا ہو گا کہ جب ان کے جسم کے ساتھ کوئی غلط حرکت کرے تو وہ فوری اپنے والدین کو بتائیں۔ والدین کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ رویہ رکھنا ہو گا کہ وہ کھل کر اپنا مسئلہ ان سے بیان کرسکیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے بچوں سے ان کے جسم کے پرائیویٹ پارٹس بارے بات نہیں کرتے، انہیں نہیں بتاتے کہ کیسے اپنے جسم کا تحفظ کرنا ہے۔

سیکس ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کرنے کے نام پر بچوں کا جنسی استحصال کرنے والے انہی لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ سیکس ایجوکیشن تو سیدھی سیدھی فحاشی ہے جبکہ وہ سکولز، مدارس، کالجز میں جنسی استحصال کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ بچوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کس سے بات کرنی ہے۔ اگر بچے کو شروع سے ہی پڑھایا، بتایا جائے گا تو وہ اپنی حفاظت کر سکتا ہے، وہ اپنے والدین سے ڈسکس کر سکتا ہے کہ اس کے ساتھ فلاں شخص ایسی حرکات کر رہا ہے۔

چند سال پہلے قصور میں زینب زیادتی کیس سامنے آیا تو پنجاب کے ضلع لودھراں میں بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سماجی تنظیم بیداری نے سکولز، مدارس کے بچوں کو آگاہی دینے کے لئے ضلعی پولیس کے ساتھ مل کر ایک مہم چلائی اور اس وقت کے ڈی پی او ملک جمیل ظفر نے سکولز کے وزٹ کیے اور بچوں کو گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ، اپنے جسم کی حفاظت بارے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ اسی طرح لودھراں میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر راؤ امتیاز احمد نے پنجاب کی پہلی سرکاری چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی بنانے کے آرڈر جاری کیے اور اس کمیٹی میں ضلعی افسران، علمائے کرام، سول سوسائٹی، میڈیا، وکلاء، سیاسی رہنما شامل کیے ۔

اس طرح ایک بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی۔ ایسی آگاہی مہم اور چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیوں کی ضرورت ہے کہ پورے پاکستان کے ہر ضلع میں بنائی جائیں اور ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز سمیت دیگر اداروں کے لوگ مدارس، سکولز کے وزٹ کریں اور بچوں کو بتائیں کہ یہ جسم آپ کا ہے اور کسی کو حق نہیں کہ وہ اس کے ساتھ کھیلے یا زیادتی و تشدد کرے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اچھا اقدام کیا کہ متاثرہ بچوں تک پہنچے لیکن ان کے کرنے کا اصل کام یہ بھی ہے کہ نصاب میں شامل کرائیں کہ بچوں کو پڑھایا جا سکے کہ ان کا جسم کسی کے کھیلنے کے لئے نہیں اور انہیں کیسے اپنے جسم کی حفاظت کرنی ہے۔

بچوں کو جب پتہ ہو گا کہ کوئی ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو انہوں نے اپنے والدین کو بتانا ہے اور والدین بھی مافیا کے دباؤ میں آ کر میڈیکل کرانے سے انکار نہیں کریں گے۔ یہاں بدقسمتی سے زیادتی کرنے والا سینہ چوڑا کر کے چلتا ہے اور مظلوم سر جھکا کر چلتا ہے، یہ اس لئے ہے کہ ظالم کے خلاف جب بولا نہیں جاتا تو اس کو مزید تقویت ملتی ہے۔ یہاں جس بچے یا خاتون کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اسے سمجھایا جاتا ہے کہ کسی کو بتاؤ گے تو بے عزتی اور بدنامی ہوگی اسی وجہ سے بیشتر کیس تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور ظلم کرنے والے درندے اپنا ظلم بڑھاتے رہتے ہیں۔ ہم اب اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ چکوال جیسے واقعات سامنے آنے پر ایک سرسری سی خبر سمجھ کر اگنور کر دیتے ہیں کیونکہ ہم اب ہر روز ایسے واقعات دیکھ دیکھ کر عادی ہوچکے ہیں۔

Facebook Comments HS