ارشاد امین کا تعزیتی ریفرنس
*بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور*
انسان کا کردار، اس کی فکر، اس کا فن اور اس کی جدوجہد اسے لوگوں سے نہ صرف ممتاز کرتی ہے بلکہ اسے تاریخ میں امر کر دیتی ہے لہذا ان افکار کی حامل شخصیت طبعی موت ضرور سوتی ہے لیکن اس کی فکر اور جلائی شمع کی روشنی آنے والوں کو راستہ دکھاتی ہے ممتاز صحافی، سرائیکی قلم کار اور دانشور ارشاد امین کا نام سرائیکی زبان و ترویج اور ثقافت کے احیاء اور عملی جدوجہد میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انتہائی کم وسائل میں انہوں نے وہ کام سر انجام دیے جو قابل تقلید اور ان لوگوں کے لئے زندہ مثال ہیں جو تحریکی کاموں میں وسائل کی کمی کا رونا رو کر کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں ارشاد امین اپنی آخری سانسوں تک اس فلسفے پر قائم رہے اور ان کی ملتان آمد بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی میری ارشاد امین صاحب سے پہلی ملاقات کامریڈ حیدر چغتائی کے ساتھ ہوئی جو گاہے بگاہے ایک گہرے تعلق اور سماجی شعور کی بڑھوتری کے ساتھ جڑی رہی ان کے انتقال کی خبر سے جہاں گہرا صدمہ ہوا وہاں پہ احساس بھی دل میں ابھرا کہ رحیم یار خان کے دوست اور قوم پرست ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر ارشاد امین کا مکانڑ (تعزیت) کی جائے اس سلسلے میں راقم اور کامریڈ حیدر چغتائی نے نذر عباس کی معاونت سے ایک تعزیتی ریفرنس ڈسٹرکٹ بار روم رحیم یار خان میں منعقد کیا۔
اس پروگرام کی صدارت ہمارے بزرگ دانشور، استاد اور سرائیکی قوم پرست رہنما مرکزی صدر سرائیکی نیشنل پارٹی عبدالمجید کانجو نے کی جبکہ مہمانان خصوصی پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سردار حبیب الرحمان گوپانگ، بزم۔ فرید کے صدر خلیل بخاری اور مزدور رہنما سعد زمان تھے اس تعزیتی ریفرنس کی روداد یوں ہے
ارشاد امین نے سرائیکی زبان و ترویج کے لئے صحافت کو اپنا ذریعہ بنایا اور وسائل کی کمیابی کے باوجود معیاری سرائیکی روزنامہ ”سجاک“ ہفت روزہ طلوع سہ ماہی پارت اور سنجان نکالا، ارشاد امین نے ساری زندگی سرائیکی خطے کے حقوق کے لئے جدوجہد کی، انہوں نے خود کو سرائیکی لوگوں کی زبان و ثقافت اور عام آدمی کی بھلائی کے لئے وقف کیا ان کی ساری سیاست کا محور سرائیکی خطے کی محرومی کا خاتمہ اور سرائیکی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنا تھا اور اس مقصد کی خاطر انہوں نے نہ کبھی خود کو جھکایا نہ پیچھے ہٹے بلکہ تمام مصائب و پریشانیوں کے باوجود سمجھوتہ کیے بغیر مرتے دم تک اس فلسفے پر گامزن رہے ان خیالات کا اظہار سرائیکی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر عبدالمجید کانجو، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سردار حبیب الرحمان گوپانگ، کامریڈ حیدر چغتائی، خلیل بخاری، کامریڈ محمود الحسن، مظہر سعید گوپانگ، رمضان جتالہ ایڈوکیٹ، عبدالمجیب خان ویہہ ایڈوکیٹ، سینئر صحافی سردار پہوڑ، سعد زمان، فرحان عامر ایڈوکیٹ، لالہ ناصر ’میڈیا پرسن نذر عباس اور رئیس خالق داد چاچڑ ایڈوکیٹ نے ارشاد امین مرحوم کی شخصیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس تعزیتی ریفرنس میں ممتاز دانشور اور سینیئر صحافی نذیر لغاری نے ٹیلی فونک خطاب میں ارشاد امین کی زندگی اور فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ انسان دوست قوم پرست تھے اور کسی بھی قوم سے تعصب نہیں رکھتے تھے بلکہ طبقاتی تفریق کے خلاف تھے اسی لئے انہوں نے اپنے قلم اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہر ظالم کے خلاف آواز بلند کی اور مظلوم کے ساتھ بغیر کسی قومی تعصب سے جم کر کھڑے رہے ان کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے جنرل سیکریٹری ڈسٹرکٹ بار محمد احمد کانجو ایڈووکیٹ نے اس ریفرنس میں شرکت پر حاضرین کا شکریہ ادا کیا اس تعزیتی ریفرنس میں سینیئر سیاسی و مزدور رہنما جام اعظم انیس، جنرل سیکرٹری پیپلز پارٹی رحیم یار خان حسنین شاہ، سرائیکی دانشور قاضی عبدالوحید، سینئر وکیل اسماعیل خان ڈاہر ایڈووکیٹ، ضلعی جنرل سیکریٹری کلچرل ونگ پی پی کامریڈ طارق محمود، سینئر صحافی فیاض محمود، ضلعی صدر انسانی حقوق پی پی چوہدری اظہار، اشرف پیر جی، شاہد خان کانجو، اطہر خان کانجو، کامریڈ عمیر ڈاہر، ملک عرفان سولنگی، جام طالب، اختر شاکر، قیوم شاکر اور دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات نے خصوصی شرکت کی


