چین کی ماحولیاتی گورننس اور اسکے عالمی اثرات


”انسانیت اور فطرت میں ہم آہنگی“ قدیم چینی فلسفہ ہے مگر اب یہ جدید چین کے سرسبز ترقیاتی ماڈل کا نعرہ بن چکا ہے۔ قدرتی ماحول کے تحفظ کا تصور کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا منشور، چین کی قومی پالیسی کا اہم جزو اور چینی عوام کے دل کی آواز بن کر ابھرا ہے۔

چین کے صدر، کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (CPC) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین ”شی جن پنگ“ کی تقاریر پر مبنی کتاب ”دی گورننس آف چائنہ“ کے مطابق

ترقی یافتہ بڑے تیس ملکوں کی کل آبادی تقریباً ایک ارب ہے جبکہ صرف چین کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ سے زائد ہے جس کا مطلب ہے کہ جین کی ماحول دوست پالیسیاں پوری دنیا پر اثر انداز ہوں گی۔

چینی قیادت نے ”بیلٹ اینڈ روڈ“ منصوبے کی تکمیل کے دوران ماحول دوست ترقی کا تصور متعارف کرایا ہے جو ہر ممکن حد تک قدرتی ماحول اور وسائل کے تحفظ کا ضامن ہے۔ ”گرین بیلٹ اینڈ روڈ“ منصوبے سے تقریباً ڈیڑھ سو ممالک کے عوام مستفید ہوں گے جس سے چین کے مشترکہ عالمی مستقبل کے تصور کو تقویت ملے گی۔

چینی قیادت کا ہدف ہے کہ 2035 تک چین ماحول دوست تہذیب بن جائے جہاں صحتمند ماحول کو یقینی بناتے ہوئے صنعتی ترقی، پیداوار میں اضافے، پائیدار معاشرت اور جدید طرز زندگی کا تصور ممکن ہو گا۔

بیجنگ میں 2019 میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہمیں انسانیت اور فطرت میں ہم آہنگی کے اصول کا احترام کرنا ہو گا۔ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے پوری دنیا کو مل کر عالمی ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کے لئے کام کرنا ہو گا۔ عالمی افق پر چین ذمہ دار قوم کے طور پر ابھرا ہے جس نے موسمیاتی تبدیلیوں کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اسے قومی ترجیحات میں شامل کر کے ثابت کیا کہ وہ صرف اپنے نہیں بلکہ عالمی برادری کے مشترکہ مستقبل پر یقین رکھتا ہے۔

صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک چین کو ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے نیشنل ایروناٹیکل اینڈ سپیس ایڈمنسٹریشن 2017۔ 2000

کے مطابق پوری دنیا نے سرسبز زمین کے حصول کے لئے جو نئے جنگلات اور نباتات اگائیں ان میں سے پچیس فیصد حصہ صرف چین کا ہے۔ چین آلودگی سے پاک دنیا کے حصول کے لئے عالمی پیرس معاہدے کا بھی سرگرم رکن ہے اور 2060 تک چین سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اثرات و ماخذ ختم (neutralize) کرنے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔

زمینی کٹاؤ اور موسمی آفات کا مقابلہ کرنے کے لئے چین میں جنگلات لگانے کے پروگرام کے ساتھ معدوم ہوتی جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے کئی وسیع و عریض نیشنل پارک بنائے گئے ہیں جہاں جانوروں کو قدرتی ماحول فراہم کرنے کے انتظام کے ساتھ نباتاتی حسن پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

چین میں صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کا جال ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے پاکستان میں چلنے والی میٹرو بسیں، اورنج ٹرین اور گرین بسیں سب چین کے تعاون اور ماڈل پر چل رہی ہیں۔ ”کاربن فری چین“ کے ویژن کے تحت فضائی آلودگی کم کرنے کے لئے صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کے لئے کاربن کے زیادہ اخراج کا باعث بننے والے ایندھن جیسے کوئلہ، ڈیزل وغیرہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے شمسی توانائی، ہوا اور پانی جیسے توانائی کے قدرتی ذرائع اور بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ چینی قیادت نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو صنعتوں پر خاص حد سے زیادہ کاربن خارج کرنے پر سزا دینے کی مجاز ہوں گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔

آبی حیات کے تحفظ، پانی کے ذخائر کی صفائی، دریاؤں، جھیلوں کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے مکمل پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ شہروں میں پائپوں کا جال بچھایا جا رہا ہے تاکہ سیوریج کسی جگہ پانی کو آلودہ نہ کر سکے۔

کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا ایسا نظام بنایا گیا ہے کہ اس سے زمین کی زرخیزی کے لئے نامیاتی کھاد کی تیاری اور دوبارہ استعمال کے قابل اشیاء کا استعمال ممکنہ حد تک ممکن ہو سکے۔

چینی عوام بھی قدرتی ماحول کے تحفظ کے مشن میں اپنی قیادت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں جس کی وجہ سی پی سی پر عوام کا اعتماد، قوانین پر عملداری کی عادت اور ریاستی رٹ بھی ہے جو چین کو پائیدار ترقی کی جانب گامزن کر کے محفوظ ماحولیاتی معاشرہ بنا سکتی ہے۔

”خوبصورت چین“ کا تصور دراصل سرسبز، ماحول دوست، پائیدار معاشرت کا دوسرا نام ہے۔

چینی قیادت نے ماحولیاتی گورننس متعارف کروا کے دنیا کو باور کرایا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کے بعد ماحول دوست صنعتوں کے قیام اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے اہم ایشوز پر بھی دوسرے ملکوں سے دو قدم آگے چل رہا ہے۔

Facebook Comments HS