وہ اک تارا : قسط نمبر 14


ایک سال، دو سال، تین، چار، پانچ، چھ سال سے بھی زیادہ کا وقت بیت گیا تھا۔ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کہیں آس کا مناسا دیا پھر بھی اس کے سینے میں جلتا تھا۔

اس کا فون ٹیپ ہوتا۔ اس کی تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی۔ یہ پیوٹن کا دور تھا اور نوجوان پیوٹن سب کا استاد تھا۔ پانچویں سال کے وسط میں اسے پتہ چلا کہ وہ جنوبی سائبیریا کی اومسک جیل میں ہے۔

وہ بھاگی بھاگی اومسک گئی۔ اس نے خفیہ رابطے کیے تو اسے معلوم ہوا کہ یہاں تو اسے کبھی لایا ہی نہیں گیا تھا۔

اس کے سینے سے لمبی سی آہ نکلی تھی۔

”ایسے ہی بھٹکتی پھر رہی ہوں۔ وہ دنیا میں نہیں ہے۔ حکومت کے اگر ذرائع ہیں تو ہمارے بھی تعلقات ہیں۔ کسی چھوٹے کسی بڑے ذریعے نے کبھی خبر نہیں دی۔“

اور ایک دن جب وہ کسی سے ملنے منسک گئی واپسی پر کچھ دیر کے لئے قریبی پارک چلی گئی۔ ہریالیوں نیلے چمکدار آسمان کو دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار ہی خود سے کہا تھا۔

”میں تو موسموں سے بھی بے نیاز ہو گئی ہوں۔ بہار کب آتی ہے؟ کب جاتی ہے؟ سردیاں، گرمیاں، ان کے حسن، ان کی سختیاں آنکھ سے اوجھل ہیں۔ آج برچ کے پیڑوں پر پھوٹتی کونپلوں نے مجھے جیسے یاد دلایا ہے کہ برفوں میں بھیگے دن چلے گئے ہیں۔ دراصل زندگی میں خزاں ڈیرے ڈال لے تو موسموں کی رنگینی کب یاد رہتی ہے؟

گھر آئی۔ بیڈ روم میں گئی۔ پتہ نہیں کیا چاہیے تھا؟ اب وارڈ روب کا پٹ ہاتھوں میں تھامے کھڑی خود سے پوچھتی تھی۔

”میں یہاں کیا لینے آئی تھی؟“ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا۔
وارڈ روب نے تو ایک نیا پراگا ڈال دیا تھا۔ اس کے خانوں میں یادیں بکھری پڑی تھیں۔

ہینگروں میں ٹنگے کپڑے کسی کی چاہتوں کے رازدار تھے۔ کونے میں دھرا جیولری بکس جس میں بہت سے ملک اور محبتوں میں گندھے جذبات بند تھے۔ اس نے اٹھایا۔ ڈھکن کھولا۔ ہاتھ سے یونہی پھولا پھرولی کی۔ بہت خوبصورت انگوٹھیاں جو شاید فرانس سے خریدی گئی تھیں۔

وہ بیٹھ گئی تھی۔ اس نے ایک ایک کر کے ساری انگوٹھیاں نکالیں۔ انہیں باری باری انگلیوں میں پہنا۔ ہاتھوں کو دیکھا۔ کتنے بوڑھے لگ رہے تھے۔ ابھری ہوئی نیلی نیلی نسیں ہتھیلی کی چھت پر کس کثرت سے بکھری ہوئی تھیں۔ ہاتھوں کا سارا حسن کیسے گہنا گیا تھا۔ اپنی اس سوچ پر اسے تمسخرانہ سی ہنسی آئی۔ ڈبے کو واپس رکھا۔

لاؤنج میں آئی۔ اپنی میلز چیک کرنے بیٹھی۔

دفعتاً اسے محسوس ہوا جیسے اس کا سارا وجود گھڑی کے پنڈولم کی طرح ہلنے لگا ہے۔ مجھے ہیلوسینیشن (Hallucination) ہوا ہے۔ میں اس کے سحر میں تھی نا شاید۔ آنکھیں تپتے بے آب و گیاہ صحراؤں میں نخلستانوں کی متلاشی ہوں تو ایسے ہی ہوتا ہے تاحد نظر پھیلی چمکتی ریت دریا کا گمان دیتی ہے۔

اس نے قریب پڑی تپائی پر رکھی بوتل کھول کر پانی کا بھرپور چھینٹا آنکھوں پر مارا۔ انہیں خشک کیا۔ پھر سکرین کو دیکھا۔ پیغام روز روشن کی طرح تھا۔

ہیثم اپنے زندہ ہونے کا پیغام دے رہا تھا۔
اس نے میل کا جواب دیا۔ کیم پر آنے کا وقت، دن لکھا اور اٹھ گئی۔
کسی کا مذاق، کوئی شرارت۔ نہیں۔ تردید پاس ہی تھی۔
وقت کا گزرنا جیسے قیامت ہو گیا۔ جذبات کا بہاؤ بے قابو تھا۔
ناقابل یقین بات ہے۔ واہمے تکرار کرتے تھے۔

معجزہ ہے وہ زندہ ہے۔ آنکھیں یقین دلاتی تھیں۔ اگر آنسو بہتے تھے تو چند لمحوں کے لئے وجود میں خوشی و سرشاری کی لہریں بھی دوڑتی تھیں۔

وقت مقررہ پر اس نے لیپ ٹاپ کھولا۔ ہیڈ فون پہنا۔

آنسوؤں کی برسات میں چہرہ بھیگ رہا تھا۔ اس نے کسی چھوٹے بچے کی طرح ہتھیلی سے فوراً اسے صاف کیا کہ جیسے ڈرتی ہو کسی انہونی سے۔ سکرین پر کوئی تھا۔

اس کا ہیثم۔ آنکھیں جھپکیں۔ کتنا وجیہہ تھا وہ۔ سینکڑوں چھوڑ ہزاروں کے مجمع میں بھی نمایاں ہوتا۔ ہیرے جیسی چمک والی موٹی خوبصورت آنکھیں اندر دھنسی نظر آتی تھیں۔ وجود ہڈیوں کی مٹھ سا بنا ہوا تھا۔

”اینا۔“
محبت میں ڈوبی ہوئی آواز تھی۔ پر اس سے تو ہیثم کہا ہی نہ گیا۔ گلے میں جیسے گولے پھنس گئے تھے۔
”اینا کھڑی ہو جاؤ۔ مجھے دیکھنے دو۔“
وہ کھڑی ہوئی۔ قدرے دور چلی گئی۔
تم نے کیسے بد رنگے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟ تم کتنی کمزور ہور ہی ہو؟ بند تو ٹوٹ گیا تھا۔
اور اینا کے نام کی پکار تھی۔ وہ پکار جو زندگی تھی۔
اس نے دیکھا تھا۔ اس کی نچلی پلکوں میں دو موتی اٹکے ہوئے تھے۔ کمال ضبط تھا۔ گالوں پر بہے نہیں تھے۔

اس نے اس خبر کو نینا اور عبد الرحمن سیاف کے ساتھ شیئر کیا اور طے پایا کہ خبر کو ابھی سینے میں کسی راز کی طرح دبا دو۔ جب تک حکومتی سطح پر اس کا اعلان نہیں ہوتا۔

Facebook Comments HS