جنات سے ملاقات
ایک رات کھانے کے بعد ہم لوگ گاؤں سے باہر آئے تو دور بہت دور ایک چھوٹا سا روشن دیا دکھائی دیا۔ وہ کبھی چلتا اور کبھی بجھ جاتا۔ جلنے اور بجھنے کے عمل ایک تسلسل سے جاری تھے۔ مجھے میرے دوستوں نے بتایا کہ یہاں پر چڑیلیں موجود ہیں۔ دیے کا بار بار جلنا اور بجھنا ان کی موجودگی کی علامت ہے۔ اتنی دیر میں میری نظر سکول کی طرف اٹھی۔ وہاں پر موجود درخت تیز روشنی میں نہائے ہوئے تھے۔ سکول کی عمارت گاؤں سے ڈیڑھ دو سو میٹر کے فاصلے پر تھی اور اس کے بارے میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ یہاں پر جنات کا بسیرا ہے۔
میرے ساتھی دوستوں نے اس پر مزید وضاحت کی کہ آج جمعرات ہے اور جمعرات کا دن جن بھوتوں کے لیے جشن کا دن ہوتا ہے اور اس دن یہ اکٹھے ہو کر ناچ گانے سے محظوظ ہوتے ہیں اور اس وقت سکول کے احاطہ میں بھی یہی کام ہو رہا ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو تجویز دی کہ چلیں ہم بھی اس میں شمولیت کرتے ہیں۔ میری بات سن کر انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مخلوق کسی غیر کی موجودگی کو برداشت نہیں کرتی اور اگر کوئی ایسا کرنے کی جرات کرے تو وہ اسے اذیتیں دے دے کر اس طرح ہلاک کرتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔
ایسی خوفناک اطلاعات کے باوجود میں سکول جا کر اس عقدے کو وا کرنے کا تہیہ کر چکا تھا۔ جب میں نے اپنے ارادے کا اظہار کیا تو وہ نہ صرف اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے لگے بلکہ حق دوستی ادا کرتے ہوئے مجھے بھی اس کام سے باز رہنے کی تلقین کرنے لگے۔ ان کے روکنے کے باوجود میں سکول کی طرف چل دیا۔ جونہی میں گاؤں کی سڑک چھوڑ کر کھیتوں میں داخل ہوا مجھے ایسا لگا کہ میرے سر میں پیچھے سے ایک کنکر کہیں سے آ کر لگا ہے میں رک گیا۔
مجھے آگے بڑھنے سے خوف آنے لگا۔ دل کہہ رہا تھا کہ خاموشی سے واپس لوٹ جاؤں اور اس پنگے میں نہ پڑوں۔ لیکن دوسری طرف میرا گھریلو ماحول، میری تربیت اور فطری تجسس مجھے آگے بڑھنے پر مجبور کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر یہاں رکنے کے بعد میں ہمت کر کے پھر چل پڑا۔ پھر میرے سر میں کنکر آ لگا۔ اب کی بار میں رکنے کی بجائے اور تیزی سے چلا تو کنکر لگنے کی رفتار بھی تیز ہوتی گئی۔ میں خوف زدہ ہو کر رک گیا اور ایک بار پھر واپسی کا سوچنے لگا۔
اچانک میرے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا اور کنکر لگنے والی ساری بات میری سمجھ میں آ گئی۔ میں نے ہوائی چپل پہنی ہوئی تھی جو اپنی ایڑی کے اوپر آنے والے ہر کنکر اور مٹی کی روڑی کو اوپر اٹھا کر سر پر دے مارتی۔ کنکروں کی حقیقت کھلنے کے بعد میں ایک بار پھر دلیر ہو کر سکول کی طرف چل دیا۔ ابھی تھوڑی ہی دور چلا تھا کہ پیچھے سے میرا نام لے کر کسی نے پکارا اور ساتھ ہی قدموں کی چاپ بھی سنائی دی۔ میری تو جیسے جان یہی نکل گئی۔
اب پیچھے مڑ کر دیکھنے اور جواب دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ایک طرف تو گاؤں میں پھیلی ہوئی لوک داستانیں میرا پتہ پانی کر رہی تھیں اور دوسری طرف میری گھریلو تربیت مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دے رہی تھی۔ بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھ پر خوف کی کیفیت غالب تھی۔ اس خوف پر قابو پانے کے لیے میں نے تیز تیز چلنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ زبانی یاد کی گئی قرآنی آیات کی بلند آواز میں تلاوت شروع کر دی۔ اس وقت یہ بات مجھ پر روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھی کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اللہ تبارک و تعالیٰ ہی وہ واحد طاقتور اور قادر مطلق ہستی ہے جو مجھے اس مصیبت سے نجات دلا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت میری عمر پندرہ، سولہ سال کے قریب ہو گی۔ جوں ہی میری رفتار میں تیزی آئی۔ پیچھے سے سنائی دینے والی قدموں کی چاپ بھی بلند اور تیز تر ہوتی چلی گئی۔ اور میرا نام لے کر مجھے تسلسل سے پکارا جانے لگا۔ ذرا حالات کی نزاکت کا اندازہ تو کریں۔ کہ میرے آگے سکول میں چڑیلیں ناچ رہی ہیں۔ اور اسی قبیلے کا ایک فرد میرے پیچھے میرے تعاقب میں ہے۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا اور دور نزدیک نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات اور میں بے چارا اکیلا غیر شعوری طور پر میری رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی۔
بلکہ اب تو میں شاید باقاعدہ دوڑ ہی رہا تھا۔ میرا اٹھنے والا ہر قدم مجھے سکول کے قریب کر رہا تھا اور پیچھے والی بلا بھی میرے قریب تر ہو رہی تھی۔ گویا کہ گزرتے ہوئے وقت کا ہر لمحہ مجھے خطرات سے قریب تر کر رہا تھا۔ اس خوفناک حقیقت کے منکشف ہونے پر میں اپنی جگہ پر سن ہو کر رہ گیا۔ اتنی دیر میں پیچھے سے کسی نے میری قمیض کا کالر مضبوطی سے پکڑ لیا۔ خوف کے مارے تو میری جان ہی نکل گئی۔ لیکن ساتھ ہی ایک آواز سنائی دی۔
گھبراؤ نہیں میں علی محمد ہوں اور میں بھی تمہارے پیچھے پیچھے سکول میں نظر آنے والی روشنی کی حقیقت معلوم کرنے آیا ہوں میری جان میں جان آئی۔ علی محمد کا گھر گاؤں کی نکڑ پر سکول کے بالکل سامنے تھا۔ اور وہ بھی میری ہی طرح سکول میں ناچتی گاتی چڑیلوں کو دیکھنے نکلا تھا۔ اب ایک با ر پھر میں پسپائی اور پیش قدمی کے دوراہے پر متذبذب کھڑا تھا۔ ایک بار پھر تجسس خوف پر غالب آ گیا۔ اب تو ویسے بھی ہم دو لوگ تھے۔
تھوڑی دیر کے بعد ہم دونوں سکول کی تین ساڑھے تین فٹ اونچی دیوار کے ساتھ کھڑے اندر کے مناظر کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ سکول میں موجود ایک طرف کے کچھ درخت تیز روشنی میں نہائے ہوئے تھے۔ اور پیلو کے ایک بہت بڑے درخت کے نیچے تین خوب صورت عورتیں کنگھی پٹی کر رہی تھیں اور دو کالے بھجنگ بھوت بھی ان کے نزدیک ہی موجود تھے۔ سکول کے اس ماحول نے ایک بار پھر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی اور ایک بار پھر میں خاموشی سے واپسی کے آپشن پر غور کرنے لگا۔
لیکن میرے ساتھی نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے تجویز پیش کی۔ تم ان لوگوں کے پاس اندر جاکر ان کا پتہ کرو اور میں باہر کا دھیان رکھتا ہوں اور کسی بھی ناگہانی صورت حال میں فوراً تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔ میں دل میں ڈر، زبان پر آیت الکرسی کا ورد اور ظاہری طور پر بے پرواہی کا مظاہرہ کرتا ہوا دیوار پھلانگ کر سکول کے اندر داخل ہو گیا۔ میں ایک دفعہ پھر خوف کی زد میں تھا۔ اور سوچ رہا تھا کہ اگر یہ لوگ واقعی ہی بھوت پریت ہوئے تو میرا کیا حشر ہو گا۔
اور دیوار سے باہر کھڑے غلام محمد کا ردعمل کیا ہو گا۔ بہر حال میں گو مگو کی کیفیت میں آ گے بڑھ رہا تھا۔ کہ درخت کے نیچے پڑا ہوا پیٹرومیکس دکھائی دیا۔ جس کی روشنی پورے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی ایک ہارمونیم، دو طبلے اور دو گٹھڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس ساز و سامان نے مجھے بڑا حوصلہ دیا اور میں چلتا ہوا ان کے پاس پہنچا اور بلند آواز میں السلام علیکم کہا آگے سے جواب موصول ہونے پر جو واحد سوال میرے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ تم انسان ہو یا جن بھوت لیکن پھر اس سوال کو نا معقول سمجھتے ہوئے ذہن سے جھٹک دیا اور بے ساختہ دریافت کہا۔
آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نے بتا یا کہ وہ گاؤں میں نمبردار کی شادی پر آئے ہوئے ہیں اور شادی میں ناچ گانے کی محفل سجانے کے لیے وہ یہیں سے تیا ر ہو کر جائیں گے۔ اب ساری صورت حال مکمل طور پر واضح ہو چکی تھی۔ یہ بظاہر نظر آنے والی تینوں بلیاں اصل میں کھسرے تھے۔ جو یہاں پر زنانہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر میک اپ کر رہے تھے۔ ان کے ساتھی مرد حضرات ان کے سازندے تھے۔ اور ان لوگوں نے یہاں سے سیدھے شادی والے گھر جاکر گانے بجانے کی محفل سجانا تھی۔
اب میں سوچ رہا تھا کہ یہ بہت اچھا ہوا کہ میں نے ان سے مل لیا۔ اور ان کے بارے میں صحیح صورت حال کا علم ہو گیا اگر میں خوف زدہ ہو کر سکول کے باہر سے ہی واپس چلا جاتا تو اگلے دن گاؤں میں سب کے سامنے قسمیں کھا کھا کر سکول میں چڑیلوں اور بھوت پریت کی موجودگی کا ذکر کر رہا ہوتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسی بات پر گھر والوں سے جوتے بھی کھا رہا ہوتا۔ کیوں کہ وہ ایسی کہانیوں پر کسی صورت بھی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔


