”مہمان پرندے“شکار یوں کے نرغے میں ہیں


معصوم پرندوں کا شکار ہمیشہ سے عرب شہزادوں کا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے۔ اپنے اسی جذبے اور خواہش کی تسکین کی خاطر مختلف خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے عرب شہزادے اپنے لاؤ لشکر سمیت معصوم پرندوں کے شکار کے لیے ہر سال پاکستان کا رخ کرتے ہیں اور ہمارے حکمران اور ارباب اختیار انہیں ہنسی خوشی پرندوں کے شکار کرنے کے پرمٹ تھوک کے حساب سے جاری کر دیتے ہیں کیونکہ اس کے عوض انہیں ملک اور بیرون مختلف طرح کے مالی فوائد چاہیے ہوتے ہیں۔

غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے کی حرص نے ہمارے ملک میں آنے والے ”مہمان پرندوں“ کی بقا کو انتہائی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جس کی وجہ سے سائبیریا سے آنے والے ”مہمان پرندے“ آہستہ آہستہ ہمارے ملک سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں جس سے نہ صرف ہمارے ہاں نایاب آبی حیات کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے بلکہ ماحولیاتی حالات پر بھی انتہائی منفی قسم کے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے بار بار تنبیہ اور توجہ دلانے کا اتنا اثر تو اس سال بہر حال ضرور ہوا ہے کہ محکمہ تحفظ جنگلی حیات سندھ، سائبیریا سمیت دنیا کے سرد علاقوں سے آنے والے مہمان پرندوں کے غیرقانونی شکاریوں کے خلاف سرگرم ہو گئی ہے جب کہ فیس بک پر شکار کیے گئے نایاب پرندوں کے شکار کی تصاویر اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف بھی وسیع ترین تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

محکمہ تحفظ جنگلی حیات سندھ نے جہاں ایک جانب رواں سال قانونی شکار یوں کے لیے قواعد و ضوابط میں کئی طرح کی بامعنی اور اہم ترین ترامیم کی ہیں وہیں غیر قانونی شکاریوں کے حوالے سے بھی منفرد قدم اٹھایا ہے جس کے تحت شکار کیے گئے پرندوں اور جانوروں کی تصاویر کو فیس بک سمیت سوشل میڈیا میں کسی بھی جگہ پر اپ لوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

سندھ میں عموماً ہر سال مہمان پرندوں کی آمد کا آغاز 15 اکتوبر سے شروع ہو جاتا ہے اور ماہ دسمبر اور جنوری مہمان پرندوں کا سیزن کہلاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ پرندے 28 فروری تک سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں قیام کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے اپنے آبائی علاقوں کی سمت واپس پرواز کر جاتے ہیں۔ ماہرین جنگلی حیات کے مطابق پرندوں کی دنیا بھر میں 10 ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ جبکہ دنیا بھر میں مہاجر پرندوں کی 2200 کے قریب اقسام موجود ہیں۔

پاکستان میں پرندوں اور ممالیہ پر کام کرنے والی اولین شخصیت ٹی جے رابرٹس کے مطابق پاکستان میں پرندوں کی 668 اقسام پائی جاتی ہیں۔ موسم سرما میں ہجرت کرنے والے پرندے عالمی طور پر جن راستوں پر سفر کرتے ہیں وہ 7 مختلف راستے ہیں جنہیں فلائی ویز کہا جاتا ہے۔ پاکستان تک پہنچنے والے اس راستے یعنی فلائی وے کا نام انڈس فلائی وے یا روٹ نمبر 4 ہے۔ پاکستان میں 20 رام سر سائیڈز موجود ہیں، رام سر سائیڈز تیکنیکی اصطلاح میں ایسے علاقوں کو کہتے ہیں جہاں 20 ہزار سے زائد مہمان پرندے اپنا قیام کرتے ہیں، سندھ میں ایسے علاقوں کی تعداد 10 سے زائد ہے جبکہ اس کے علاوہ سندھ بھر میں 33 سے زائد آبی گزر گاہیں بھی واقع ہیں۔

پاکستان میں مہمان پرندوں کی آمد سائبیریا سے عالمی گرین روٹ سے ہوتی ہے اور اس فلائی زون سے گزر کر یہ پرندے پاکستان خصوصاً سندھ کی آبی گزر گاہوں، صحراؤں اور دیگر علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں اس موسم میں 223 اقسام کے پرندے آتے ہیں جن میں فیلکن، اسٹاکس، کامن ٹیل، ڈن لن سمیت دیگر اقسام کے پرندے شامل ہیں، ان پرندوں کو چار گروپ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ جن میں لمبی گردن، لمبی چونچ، لمبی ٹانگوں زمینی علاقوں میں غذا کھانے والے، مردار جانور کھانے والے، سمندری غذا کھانے والے سمیت دیگر اقسام کے پرندے شامل ہیں، جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق سندھ میں ان پرندوں کے مخصوص علاقوں میں قمبر شہداد کوٹ، سانگھڑ، نواب شاہ، دادو، بدین، ہالیجی، ٹھٹھہ، کراچی کے ساحلی علاقے، آبی گزر گاہیں اور دیگر شامل ہیں، ان میں سے بعض پرندے اس موسم میں قیام کے دوران اپنی نسل بڑھاتے ہیں اور موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ان پرندوں کی آمد کے ساتھ ان علاقوں میں چہل پہل ہو جاتی ہے اور یہ پرندے فروری تک قیام کے بعد واپس دوبارہ ٹولیوں کی شکل میں اپنے آبائی وطن سائبیریا روانہ ہو جاتے ہیں، مشاہدہ میں آیا ہے کہ گزشتہ 3 برسوں سے ملک میں سیلاب اور بڑھتے ہوئے شکار کے باعث سائبیریا سے پرندوں کی آمد کا سلسلہ بہت کم ہو گیا تھا تاہم رواں سیزن میں بڑی تعداد میں پرندوں کی آمد متوقع ہے۔ ماہرین کی طرف سے امید کی جا رہی ہے کہ تقریباً 3 سے 4 لاکھ پرندے صرف سندھ کی آبی گزر گاہوں، صحراؤں اور دیگر علاقوں میں 4 ماہ تک قیام کریں گے اور اگر اس سال ان کا شکار اس رفتار سے نہیں کیا گیا جو کئی سال سے ہمارے ارباب اختیار کا معمول رہا تو پھر قوی امکان ہے آئندہ ان مہمان پرندوں کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات سندھ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ کے مطابق مہمان پرندوں کا شکار ہی نہیں بلکہ غیرقانونی طور پر دیدہ دلیری سے شکار کیے جانے والے سرد علاقوں کے نایاب پرندوں کی تصاویر اپ لوڈ کرنے کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ تک بڑھ گئے تھے جو عام افراد کو ان مہمان پرندوں کے شکار کرنے کی ترغیب کا باعث بن رہے تھے جس کی سنگینی کا بروقت اندازہ لگانے کے بعد اس عمل کے تدارک کے لیے محکمہ جنگی حیات نے نہ صرف غیر قانونی شکار میں ملوث افراد کے خلاف انکوائری شروع کی بلکہ شکار کی پابندی والے علاقوں میں پرندوں کا شکار کرنے میں ملوث افراد کو باقاعدہ نوٹس بھی جاری کیے ہیں جس میں اندرون سندھ کی کئی با اثر سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ مہمان پرندوں کے غیرقانونی شکار پر 2 سال قید کی سزا اور 50 ہزار جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر محکمہ جنگلی حیات سندھ سیاسی اثر و رسوخ کو خاطر میں لائے بغیر اپنی کارروائیاں اس طرح جاری رکھے تو اس سے سندھ کی قدرتی خوبصورتی اور ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS