بحالیٔ نو کا کام
غزہ میں جس قدر جنگی تباھی ھوئی ھے اس کا اندازہ لگانا اتنا آسان نہیں مگر 60 فی صد شہر تباھی کا ناقابلِ یقین نمونہ بن چکا ھے اس کی بحالی اب حماس کے بس کا کام نہیں ۔ جو قیامت گذری ھے اس کا مداوا تو کبھی ممکن نہ ھوگا مگر عمارات اور املاک کی ازسر نو تعمیر اور بحالی بھی انتہائی کھٹن کام ھوگا ۔ چونکہ مشرق وسطٰی کے کئی اور شہر ایسی تباھی کے مناظر پیش کرتے ھوۓ ھمیں حالیہ برسوں میں دکھائی دیتے ھیں مگر غزہ کا کوئ مقابل نہیں ۔ یہاں کئی ایسے مسائل ھیں جو شائد کہیں اور نہ ھوں گے ۔ داعش کی تباہ کاریوں کے باعث عراقی شہر موصل میں 8000 عمارات تباہ ھوئیں تھیں ۔ اسی طرح شامی شہر ایلپو کی تباھی بھی ایک انتہائی ناخوشگوار واقع تھا۔جہاں 35,000 عمارات تباہ ھوئیں جس کی وجہ 2011 سے جاری خانہ جنگی تھی ۔ ان تمام شہروں میں ایک ھی چیز مشترک ھے کہ سب جنگ وجدل سے تباہ شدہ ھیں مگر بحالی کے کاموں میں فرق ھوتا ھے جس میں شہر کی وسعت ، آبادی کا تناسب اور حکومتی ارادے اورحکمت عملی سے گہرا تعلق جڑا ھوتا ھے ۔ موصل کی ازسرنو بحالی کا کام یونسکو کی تنظیم کررہی ھے اور ساتھ وہاں کی مقامی حکومت بھی دے رہی ھے ، اس کے علاؤہ متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کی امداد بھی کروڑوں ڈالر تک جاپہنچی ھے ایلپو کی تعمیر نو بھی دھیرے دھیرے ھورہا ھے ۔ وہاں کئی ایک رکاوٹیں بھی ھیں جن میں سر فہرست مقامی آبادی اور کرد آبادی کے باھمی اختلافات بھی سرگرم عمل ھیں اور دمشق کی نیم رضامندی بھی رکاوٹ کا باعث ھے ۔ مقامی لوگوں کو ایک شکایت یہ بھی ھے کہ ایرانی شہہ پر ان کے میلئشا یہاں تعمیر نو میں رکاوٹیں ڈال رھے ھیں ۔ پھر جو تعمیر نو اقوامِ متحدہ وغیرہ کے زیر انتظام ھورہی ھے وہ محض تاریخی عمارات وغیرہ تک ھی محدود ھے اور وہ عام شہریوں کی املاک کی ذمہ داری نہیں لیتے ۔ وہ عام۔شہریوں کی بحالی کا کام کرنے میں تعامل سے کام سے کام لیتے ھیں ۔
البتہ شام کے شہر رقعہ کی تعمیر نو بہتر طریقے سے ھورھی ھے وہاں 550 اسکولوں میں سے ابتک 400 اسکولوں کی تعمیر مکمل ھوچکی ھے ،یہاں پانی مہیا کرنے والے منصوبے بھی 90 فی صد بحال کئے جا چکے ھیں ۔ غزہ کی تعمیر نو میں امکان ھے کہ شائد بہت سی روکاوٹیں کھڑی کی جائیں مگر سب سے بڑا فائدہ حتمی طور پہ وہ ادارے اٹھائیں گے جن کی نظر کھربوں ڈالر کے پوشیدہ معدنی ذخائر پہ ھے جو غزہ کے قریب پوشیدہ ھیں جو بحرہ روم سے محض 36 کلومیٹر دور ھیں اور ان سے وہ سیراب ھونا چاھتے ھیں ۔
بحالیٔ امن اور بحالیٔ تعمیر نو بہرحال سنجیدہ خواب ھیں مگر جانے ان مراحل میں ابھی کتنا انتظار کرنا ھوگا وقت ھی ثابت کرے گا۔


