علاقائی و ملکی تناظر اور ہمارے معاشی مسائل کا حل


پاکستان اور بھارت اپنے قیام سے ہی معاشی دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ بھارت نے اس سلسلہ میں قرض کے بوجھ کے ساتھ قدرتی نمو کا طرز قائم رکھا جس وجہ سے اسے 46 سال تک اس دباؤ کو جھیلنا پڑا حتہ کہ 60 کی دہائی میں وہ خطے کا کم ترین شرح نمو والا ملک تھا۔

بھارت کی ایک اہم پالیسی سودیشیت یعنی مقامی پیداوار پر ہی انحصار کی تھی جس نے اس دباؤ کو مزید بڑھاوا دیا اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری ایف ڈی آئی نمایاں طور پر نہ ہوسکی تاوقتیکہ 46 سال بعد تبدیل ہوتی عالمی سایست میں مغربی دنیاء کی چین کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط بنانے کی پالیسی نے بھارتیوں کو مجبور کیا کہ وہ اب سودیشت کی بےوقت راگنی ترک کر کے ملکی معیشت جدید خطوط پر استوار کریں۔

اس سلسلہ میں 1993 میں نرسہما راؤ کی سربراہی میں کانگریس حکومت نے نمایاں اقدامات کیئے جس کے ثمرات اگلے پانچ چھ سال میں آنے لگے۔ بیرونی سرمایہ کے لیئے بھارت کو پرکشش بنانے کا جو روڈ میپ اپنایا گیا وہ بہت حد تک تین سال قبل 1990 میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے "پروگرام 2010” سے ملتا جلتا تھا جو دراصل ایشیئن ٹائیگرز اور ملیشیاء سے متاثر تھا۔

شرح نمو میں اضافے کے لیئے جن شعبوں کا تعین کیا گیا ان میں ہر قسم کی مصنوعات کی ملکی سطح پر پیداوار جن میں جدید ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات کو فوقیت حاصل تھی، خدمات کا شعبہ، سیاحت، قدرتی وسائل اور بیرونی طلبہ کے لیئے تعلیم نمایاں تھے۔ پانچ سال مسلسل ان احداف کے حصول کی جدوجہد کی بدولت معیشت پر اس کے مثبت اثرات نمودار ہونے لگے جس وجہ سے بھارت نے 1998 میں بیرونی دباؤ کی پیش بندی کے ساتھ ایک طے شدہ لائحہ عمل کے تحت جوہری تجربات بھی کر ڈالے۔

ان زبردست اقدامات کے باوجود 1998 کے انتخابات میں کانگریس کو شکست ہوئی اور واجپائی کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی حکومت بنی لیکن بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی پالیسیوں کو چھیڑا تک نہ گیا بلکہ ان میں مزید بہتری لانے کے لیئے طویل المیعاد منصوبہ بندی اور مزید نتیجہ خیز پالیسی سازی کی گئی جس کے تسلسل نے بھارتی معیشت کو توانا کرنا شروع کردیا۔

این ڈی اے نے اپنے ان اقدامات اور نتائج کی بدولت اگلے انتخابات کے لیئے "چمکتا بھارت” کا نعرہ استعمال کیا گو اسے کامیابی نہ ملی مگر یہ تسلسل من موہن سنگھ کی قیادت میں بننے والی اگلی کانگریس حکومت اور اس کے بعد مئی 2014 سے نریندر مودی کی قیادت میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں تاحال جاری ہے جس کے متعین کردہ نئے اہداف بھاتی معیشت کو چار چاند لگا رہے ہیں۔

آج بھارت 37 کھرب 32 ارب ڈالر کے حجم کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے جس کی اوسطاََ سالانہ شرح نمو یعنی ترقی کی شرح 7 فیصد ہے جبکہ فی کس آمدن 2,612 ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر 600 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ مضبوط معیشت کے باعث بھارت میں مہنگائی کا تناسب تقریباََ 5.6 فیصد ہے جبکہ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے بھارتیوں کی شرح تقریباََ 15 فیصد کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ بھارت کی پیداوار میں سب سے بڑا حصہ خدمات کا ہے جو 53 فیصد یعنی نصف سے زائد ہے جبکہ بالترتیب صنعت 28 فیصد اور زراعت 18 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔

بھارت ڈیڑھ ارب کی آبادی رکھنے کے باوجود گندم اور چاول سمیت تمام زرعی پیداوار بالخصوص اجناس میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ بڑی مقدار برآمد کر کے کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کر رہا ہے۔ جلد ہی یہ ملک پام آئل مین بھی خود کفیل ہونے والا ہے اور اسے بھی برآمد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

خطے کا ایک اور اہم ملک بنگلہ دیش بھی اپنے قیام کے وقت سے شدید اقتصادی دباؤ کا شکار رہا مگر جلد ہی اس نے زراعت جس میں پٹ سن اور چاول نمایں تھے پر انحصار کے بجاۓ خدمات اور صنعت بالخصوص جدید ٹیکنالوجی کی صنعتوں کا فروغ شروع کیا۔ شروع میں وہاں گھریلو صنعتوں کو فروغ دیا گیا جس وجہ سے لامحالہ جہاں خواتین کی بڑی تعداد کو روزگار کے ذرایع میسر آۓ اور آبادی کا یہ بڑا طبقہ پیداواری عمل کا حصہ بننے لگا وہیں معیشت بنیادی سطح پر مضبوط ہونے لگی۔ انہی گھریلو صنعتوں میں سے متعدد نے بڑی صنعت کی شکل اختیار کرنی شروع کردی جس سے ملک میں صنعتی ترقی کے دور کا آغاز ہوا۔ آج بھی 90فیصد صنعتی معیشت ایس ایم ایز یعنی چھوٹی اور درمیانے حجم کے کاروبار پر ہی مشتمل ہے۔

بنگلہ دیش خطے میں اپنی کم ترین پیداواری لاگت کی وجہ سے دنیاء کی توجہ حاصل کرنے لگا یوں ریڈی میڈ گارمنٹس سمیت تقریباََ ہر اُس صنعت میں اپنا سکہ جمانے لگا جس میں اب تک بھارت اور پاکستان کی اجارہ داری رہی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ 1971 کے بعد بنگلہ دیش میں جدید صنعتوں کے قیام کے لیئے ٹھوس اور مربوط پالیسیاں بنائی گئیں، یہی وجہ تھی کہ 1975 میں والٹن الیکٹریکل نے کام کا آغاز کیا جس نے بعد میں الیکٹرکل کے علاوہ الیکٹرونکس، آٹی ٹی اور پھر سیلیولر فون بنانے کا بھی آغاز کر دیا جو اب امریکہ سمیت دیگر ممالک کو بھی فروخت کیئے جارہے ہیں۔ آج بنگلہ دیشی صنعتی پیداوار خطے میں بھارت کے بعد سب سے زیادہ ہے جبکہ آبادی میں بےہنگم اضافے پر کنٹرول نے وہاں غربت میں نمایاں کمی اختیار کی ہے۔

آزادی کے وقت بنگلہ دیش کی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی تب اگلے ہی سال 1972 میں عالمی فنڈ اکھٹا کرنے اور اسے ملک کو ترقی دینے کے غرض سے ایک غیر حکومتی تنظیم "بنگلہ دیش رورل ایڈوانسمنٹ کمیٹی” جسے عرف عام میں براک بھی کہا جاتا ہے، نے مسلسل جدوجہد کی وہ تاریخ رقم کی جس نے ملک کی زیادہ تر دیہات پر مشتمل آبادی کی قسمت جگادی اور یو دیہات شہری سہولیات سے لیس ہونے لگے۔ براک کے اقدامات کا ملکی معیشت سدھارنے میں جہاں کلیدی کردار ہے وہیں معیشت کے میدان میں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے غریبوں کے بنک "گرامن بنک” کا کردار بہت نمایاں ہے جس نے ملک کے بیشتر بےروزگار اور بھیک مانگنے والوں کو مالیاتی معاونت کی بدولت معیشت پر بوجھ بننے کے بجاۓ اس کا فعال رکن بنایا۔

بنگلہ دیش کی ایک اہم ترین صنعت بحری جہاز سازی ہے جو مکمل حکومتی سرپرستی کی بدولت عالمی میعار کے جہاز نستباََ کم دام تیار کرنے کے قابل کیا ہوئی کہ دنیاء بھر بالخصوص یورپ سے پیداواری آرڈر کا تانتا بندھ گیا۔ آج بنگلہ دیش بحری جیاز سازی میں دنیاء میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے بہت سے شپ یارڈ ہیں لیکن سب ہی کئی سال کے آرڈر بک کر چکے ہیں اور مزید آرڈر کی فوری گنجائش نہیں۔

سن 2005 میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی پالیسیوں کے نفاذ کی وجہ سے پاکستان کی طرح بنگلہ دیش بھی برآدی مسائل اور رکاوٹوں کا شکار ہوا مگر پاکستان کے برعکس وہاں برسراقتدار خالدہ ضیا کی حکومت نے برآمد کنندگان کے تحفظات کو بہت اہمیت دی اسی لیئے حکومتی اہلکاروں کے ساتھ برآمد کنندگان کے وفود کے ذریعہ ڈبلیو ٹی او سے کامیاب مذاکرات کیئے گئے اور نئی پالیسیاں ترتیب دی گئیں جن کی بدولت ایک سال میں ہی بنگلہ دیش نہ صرف ان مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہوا بلکہ ترقی کے ایک سفر کا آغاز ہوا۔ آج بنگلہ دیش کی مجموعی قومی پیداوار 447 ارب ڈال کے لگ بھگ ہے جبکہ اوسط شرح نمو 7 فیصد اور فی کس آمدن 2,621 ڈالر کے ساتھ یہ دنیاء کی 33ویں معیشت ہے جس کے زرمبادلہ کے زخائر کی موجودہ سطح 27 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جو اس سال کے آغاز میں 40 ارب ڈالر تھی۔ بنگلہ دیش میں مہنگائی کا تناسب 9.6فیصد تک ہے اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کا تناسب تقریباََ 19 فیصد ہے جبکہ صنعتی ترقی کا تناسب قابل رشک ہے۔

مملکت خداد بنام اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کے قیام کے وقت اسے اپنے حصے کا پیسہ جو تقریباَََ ایک ارب روپے بنتا تھا پورا نہ ملا بلکہ اس کا محض 20 فیصدی یعنی 20 کروڑ ہی مل سکا۔ ان حالات میں جب سرکاری ادارے یا تو منتقل ہورہے تھے یا تشکیل دیئے جارہے تھے، مزید برآں مہاجرین کی آبادکاری ایک بہت اہم اور بڑا مسئلہ تھا جبکہ زراعت اور اس سے متعلقہ امور ہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھے، معیشت کو استحکام دینے یا اس سلسلے میں فوری اور لازمی انتظامات کرنا ممکن نہ تھا سو ابتدائی کئی سال ایسے ہی گذر گئے۔

آزادی کے بعد آٹھ سال تک جب کسی بھی ترقیاتی شعبہ میں کچھ نہ ہوا تو غیر حکومتی کرداروں نے کچھ فوری کرنے کا فیصلہ کیا، یہ اور بات ہے کہ ان کا یہ اقدام کتنا آئینی اور اصولی تھا؟ آئین تو تب تک نافذ ہی نہ ہوا تھا البتہ اصول ایک ہی رہ گیا تھا اور وہ تھا "ضرورت”۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اس لیئے ان کرداروں جن میں آرمی کے ڈپٹی کمانڈر اینڈ چیف ایوب خان، گورنر جنرل غلام محمد اور پہلے امپورٹڈ وزیراعظم محمد علی بوگرہ نمایں ہیں، کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کو پہلی بھاری بھرکم امریکی امداد کے عیوض سیٹو اور سینٹو کے معائدوں کا حصہ بنا کر غلامی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا گیا۔

اس امریکی امداد جس میں فوجی اور ترقیاتی امداد دونوں شامل تھیں کی بدولت جہاں فوج کو جدید خطوط پر استور کیا گیا وہیں ایسے ادارے بنائے گئے جن کے ذریعہ صنعتی اور معاشی ترقی ممکن بنائی جاسکے۔ اس سلسلے میں 1952 میں حکومتی مدد سے کام کرنے والا صنعتی ترقیاتی ادارہ پی آئی ڈی سی کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ 1957 میں صنعتی و تجارتی سرمایہ کاری کے ادارے پکیک کی تشکیل بھی کی گئی۔ ان پالیسوں کی بدولت پاکستان میں معاشی اشاریئے مثبت ترین ہوگئے جبکہ صنعت و حرفت کا دور چل نکلا جس کی وجہ سے ملک 60 کی دہائی میں معاشی طور پر تیز ترین ترقی پذیر ممالک میں شامل ہوگیا لیکن پاکستان کی پالیسی سازی اور حکومت سازی میں امریکی عمل دخل براہ راست ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ میں استحکام ناممکن ہوگیا اور یوں یہ "نظریاتی ریاست” نظریہ ضرورت کے نظریہ کو ہمیشہ کے لیئے اپنا کر بے نام و نشاں منزل کی جانب گامزن ہوگئی۔

ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجہ میں جہاں ملک کی سیاست میں تبدیلی نمودار ہوئی وہیں معیشت کو بھی دھچکہ لگا جبکہ مشرقی حصے میں مسلسل ناانصافی اور لاپرواہی کی وجہ سے عوامی کشیدگی میں اضافے نے بڑی تبدیلی ناگزیر بنادی یوں 1970 کے عام انتخابات ہوئے جس میں عوامی لیگ نے جہاں فقید المثال اکثریت حاصل کی وہیں ملک کی نام نہاد نظریاتی اساس کے نگہبانوں کو بھی خبردار کر دیا کہ انتخابات کو کبھی بھی عوام پر نہ چھوڑا جائے۔ اس ہٹ دھرمی کے کارن ملک دولخت ہوگیا اور یوں محمد علی بوگرہ کی طرح ایک "موزوں” شخص ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کی باگ ڈور سونپ دی گئی۔

بھٹو نظریاتی لحاظ سے اشترکیت پسند تھے اس لیئے انہوں نے عوام کو بظاہر خوش کن روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا جسے سایسی نظریات سے نابلد قوم نے اپنے اپنے لحاظ سے مختلف معنوں میں سمجھا۔ بھٹو نے اپنے اشتراکی منشور پر عملدرآمد کے لیئے بغیر کسی پیش بندی اور منصوبہ سازی کے 1974 میں بہ یک جنبشِ قلم کاروبار قومیانے کا حکم جاری فرمایا جس نے دو دہائی میں بمشکل صنعت پر منتقل ہوتی معیشت پر ایک دم روک لگا دیا جس کے اثرات یہ ملک اور قوم آج تک بھگت رہے ہیں۔

چند سال بعد بیرونی ترجیحات تبدیل ہونے کی وجہ سے بھٹو کی "موزونیت” ختم ہوگئی یوں 1977 میں بھٹو حکومت فوجی بغاوت کے ذریعہ ختم کردی گئی اور ملک ایک مکمل ملٹری اسٹیٹ بن گیا جس کے نتیجہ میں ترجیحات میں معیشت ثانوی حثیت اختیار کر گئی۔ 1979 کی افغان جنگ میں ملنے والی دوسری بڑی امریکی امداد فوجی ہی رہی اس لیئے ملک میں سواۓ مذہب کی فروخت کے کوئی اہم معاشی سنگ میل عبور نہ کیا گیا نہ ہی معیشت کی رفتار پر کوئی توجہ دی گئی البتہ ڈالروں کی ریل پیل نے روپے کو مضبوط بنائے رکھا اور معاشی اشاریے بھی مجموعی طور پر مثبت ہی رہے۔

سن 1988 میں امریکی مفادات کی تکمیل کے ساتھ ہی آمریت کی بساط بھی لپیٹ دی گئی اور ایک بار پھر جمہوری دور کا آغاز پابندیوں کے ساتھ ہوا۔ اب امریکہ کی طرف سے تو کوئی دلچسپی رہی نہ تھی سو ایک بار پھر غیر آئینی کرداروں نے موزوں اور غیر موزوں کا کھیل شروع کردیا اور اگلی ایک دہائی تک سیاست کی میوزیکل چیئر ہر دوسرے تیسرے سال ایک نئے سنگیت کے ساتھ شروع کی جاتی جس نے اول کسی نتیجہ خیز پالیسی کو بننے ہی نہ دیا اور جو کچھ اقدامات یہ حکومتیں اپنی کرسی بچانے سے کچھ فرصت میں کر پائیں انہیں ان کے خاتمے کے ساتھ ہی لپیٹ دیا جاتا جس وجہ سے ملکی معیشت ایک مستقل گرداب کا شکار ہوگئی جس نے قرضوں کی واپسی اور نئے قرضوں سے جان چھڑانے کو ناممکن بنا دیا۔

اس عرصہ میں ایک اہم ترین مسئلہ توانائی کے بحران تھا جس پر فوری قابو پانے کے لیئے بجلی بناننے والی نجی کمپنیوں سے معاہدے کیئے گیئ جس وجہ سے توانائی کی کمی کا مسئلہ فوری طور پر حل تو ہوا مگر چونکہ یہ کمنیاں معدنی تیل سے بجلی بناتی ہیں اس لیئے یہ اضافی بوجھ نے گردشی قرضوں کی صورت معیشت کا پر ایک کاری ضرب لگائی جبکہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے نے بھی ان کارخانوں نے اہم کردار ادا کیا۔

ان حالات میں اب ہر نئی حکومت قرضہ لے کر کام چلاتی کیونکہ اس کے پاس معیشت سدھارنے اور محصولات بڑھانے کے لیئے وقت ہی نہ بچتا تھا اور رہی سہی کسر کم ہوتی ملکی پیداوار کی وجہ سے ادائیگیوں کے بڑھتے عدم توازن اور گردشی قرضوں نے پوری کردی۔ حاصل یہ کہ ملک کو تب ہی تکنیکی طور پر دیوالیہ ہونا شروع ہوگیا تھا اور یہی وہ وقت تھا جب بھارت قرضوں سے خلاصی کے ساتھ نئے معاشی دور میں داخل ہورہا تھا۔

سن 1999 میں سیاست کی یہ میوزیکل چیئیر کاخاتمہ آمریت کے ایک نئے دور کے ساتھ ہوا جسکے دو سال بعد امریکہ میں 9/11 کا سانحہ پیش آیا اور اب افغان جنگ دوسرے انداز میں لڑنے کے امریکی فیصلے نے پاکستان کے ایک مخصوص طبقے کو ایک بار پھر ڈالر سمیٹنے کا موقع فراہم کیا۔ افغانستان میں امریکہ اگلے 20 سال تک غیر واضح اقدامات کرتا رہا جو اس کے بیان کردہ کردہ اہداف کی تائید بالکل نہیں کرتے البتہ وہاں ان کے ساتھ کام کرنے والوں کی زبانی معلوم ہوا کہ "بزرگ شیطان” نے وہاں سے مال بہت بنایا جس کا درست اندازہ لگانا بھی یوں ممکن نہیں کیونکہ یہ سب کھل کے ہونے کے باوجود بغیر کسی دستاویز ہوتا رہا۔

پاکستان میں موجود امریکی باج گزاروں نے ایک بار پھر اس مقصد کے لیئے ملک کو تختہ مشق بنایا اور ڈالروں کی بارش میں سیراب ہوئے۔ اس دور میں ایک اقدام کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا جس نے اسٹاک ایکسچینج، ریٹئل اسٹیٹ، میڈیاء اور دیگر کئی ایسے کاموں کو جلا بخشی جن سے فوری اور زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔

اس دور میں بھی معاشی اشاریئے پہلے کی طرح ایک بار پھر مثبت ہوئے مگر ملک میں کسی طویل المیعاد منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے جہاں بیرونی سرمایہ کاری قابل ذکر حد تک نہ ہوئی وہیں اقتصادی سرگرمیاں بھی روائتی انداز سے آگے نہ بڑھیں البتہ اس دوران محصولات کی وصولی بڑھانے کے لیئے معیشت کو دستاویزی کرنے کا احسن اقدام ضرور کیا گیا لیکن یہ بھی ایک حد سے آگے مخصوص وجوہات کے باعث نہ بڑھ سکا ۔ اس دور میں متعدد مقتدر ادارے قائم ہوئے جن کی بدولت انتظامی اور ادارہ جاتی سطح پر گوں نا گوں بہتری کسی حد تک ضرور آئی جبکہ ان اداروں کا قیا٘م کئی دہائی قبل ہی ہو جانا چاہیئے تھا۔

سن 2008 سے یہ ملک تاحال جمہوریت سے مستفیض ہورہا ہے مگر موزوں اور غیر موزوں کا کھیل اب بھی ویسے ہی جاری ہے اسی لیئے کوئی وزیراعظم اب تک 5 سال حکومت نہ کرسکتا اور اب "ہائبریڈ رجیم” یعنی بظاہر جمہوریت کے درپردہ آمریت اور غیر سیاسی کرداروں کی حکومت نے جہاں ملک کو انتظامی سطح پر مفلوج کر دیا وہیں اس کا نتیجہ معاشی زبوں حالی کی صورت نمودار ہوا جس کا تسلسل 2008 سے تاحال بالکل مختلف اور انوکھے انداز سے جاری ہے۔

معیشت میں بروقت بہتری نہ لانے کے کارن ضعف اس قدر آگیا کہ جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت پیش آئی مگر ایک طرف غیر سیاسی کرداروں کی اس معاملے میں عدم دلچسپی کے ساتھ مداخلت تو دوسری طرف حکومتوں کے شدید تناؤ اور کھیچا تانی میں حکومت کرنے کی وجہ سے اس طرف کوئی توجہ نہ ہوسکی اور قرض در قرض سے کام چلانا معمول بن گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کو وہ فروغ ملا جس کی سطح، حجم اور انداز کا اس سے پہلے کبھی تصور بھی نہ تھا۔ ان سب وجوہات نے معیشت کو بالکل ہی تباہ و برباد کر ڈالا۔

قرض معاشی صحت اور آمدن پر دیا جاتا ہے۔ معاشی صحت یہاں شدید ضعف اور آمدن قلت کا شکار تھی اس لیئے ہر نیاء قرض کڑی، غیر ترقی پسند رجحانات کی حامل اور معیشت کو نچوڑ دینے والی شرائط پر دیا جاتا جسے ہر حکومت اس لیئے قبول کرتی کیونکہ بروقت منصوبہ بندی اور مطلوبہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے ان کے پاس اب کوئی راستہ رہ بھی نہیں گیا۔ ورلڈ بنک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 114,000,000 (11 کروڑ 40 لاکھ) افراد روزگار سے وابسطہ ہیں جن میں سے محض 8,000,000 (80 لاکھ) ہی ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں۔

حاصل کالم یہ کہ اس وقت مکلی معیشت کا مجموعی حجم 376ارب امریکی ڈالر کے ساتھ دنہائ کی 46ویں معیشت ہے جس کی فی کس آمدن 1658 امریکی ڈالر، شرح نمو مجموعی طور پر 4 سے 5 فیصد جبکہ افراط ز 25 سے 30 فیصد کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان تب تک اپنے معاشی مسائل جو اب زوال کی صورت اختیار کرچکے ہیں، پر قابو نہیں پاسکتا جب تک مختصر دورانیئے کی نہایت ضروری اور طویل المدتی پالیساں نہ اپنائی جائیں جن میں سے کچھ یہ ہیں؛

1- ہر قسم کے غیر پیداواری اخراجات میں کمی
2- امن عامہ کے شعبے کے علاوہ حکومتی انتظامی اخراجات میں کمی
3- حکومتی ادارجاتی اصلاحات
4- طبی سہولیات کے علاوہ افواج کے غیر دفاعی اخراجات کا خاتمہ
5- فوری طور پر ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نظام کی درستگی
6- ٹیکس وصولی کو بڑھانے کے لیئے جنگی بنایدوں پر اقدامات
7- پیداواری ٹیکس کو پیداواری رجحان سے منسلک کرنا
8- خدمات کی صنعت کی ترقی اور فروغ
9- جدید خدمات بالخصوص آئی ٹی میں پیشہ ورانہ تربیت کا بہترین انتظام پیداواری اضافہ
10- حکومتی سطح پر خدمات کے شعبہ میں سرمایہ کاری کو پرکشش اور سہل بنانا
11- گھریلو صنعت کا فروغ اور اسے بڑی صنعت کا معاون بنانا
12- زرعی اصلاحات جس میں پیداواری حدف بہ لحاظ رقبہ اور مکمل پیداواری استعداد مقرر کیا جائے
13- زراعی پیداوار میں اضافے کے لیئے کم پیداواری فصلوں اور علاقوں کو خصوصی توجہ دی جائے
14- غیر روائتی کاشت کاری کا فروغ
15- غیر روائتی زرعی پیداوار کا فروغ جن میں زیتون، جوجوبہ، جیٹروپا اور دیگر نقدآور پیداوار شامل ہے
16- زرعی شعبہ میں تحقیق اور سرمایہ کاری کا فروغ
17- چھوٹے کاروبار کا فروغ اور اس کے لیئے قرض کے بجائے حکومتی ضمانت کے ساتھ سرمایہ کاری
18- آن لائن زرائع آمدن کا فروغ اور ان کی نجی شعبہ کے تحت مفت تربیت
19- جدید تعلیم میں سرمایہ کاری کو پرکشش بنانا اور انہیں تحیقیق کو عالمی میرار سے ہم آہنگ کرنا
20- جدید تعلیم کے سرکاری اداروں کو عالمی میعار کے مطابق بنانا
21- سیاحت کے فروغ کے لیئے درکار سہولیت فل فور مہیا کرنا
22- قدرتی وسائل میں مشارکہ طرز کی سرمایہ کاری کا فروغ
23- ان سب کاموں کے لیئے درکار بنیادی ڈھانچہ میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کا فروغ

یہ اور ان جیسے متعدد اقدامات اگر شفاف طریقہ سے تسلسل کے ساتھ کیئے جائیں تو پاکستان اس بحرانی کیفیت سے اگلے چند سال میں نہ صرف نکل باہر آجائے بلکہ آنے والے ماہ و سال میں حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب ملک میں حقیق جمہوریت کا تسلسل قائم رہے اور تمام ادارے اپنی اپنی آئینی حدود کی مکمل پاسداری کریں۔ جو سیاسی قیادتیں ان کے علاوہ کسی اور ہی ایجنڈے کا راگ الاپ رہی ہیں چاہے وہ روٹی کپڑا اور مکان جیسی بھکاری سوچ ہو یا موٹر وے اور میٹرو جیسی محدود سوچ، عوام کو چاہیئے کہ اجتماعی مفاد میں ان سب کو مسترد کردیں۔

Facebook Comments HS