’لاڈلے‘ کی بحث اور نگران حکومت کی مشکوک غیر جانبداری


نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ایک دلچسپ انٹرویو دیا ہے جس میں عمران خان کو عدالتوں کا لاڈلا اور نواز شریف کو بے گناہ قرار دیا ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کو جیل میں جو سہولتیں دی جا رہی ہیں، کوئی عام شہری ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ نگران وزیر داخلہ کی ان باتوں کا بظاہر کوئی جواز نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ایک غیر ملکی میڈیا کے ذریعے ان باتوں کو عام کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے۔

اس پورے انٹرویو میں تین باتیں نمایاں ہیں۔ ایک: عمران خان جیل میں ’پرتعیش‘ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سہولتیں نہ تو اس سے پہلے کسی سابق وزیر اعظم یا عہدیدار کو فراہم کی گئیں اور نہ ہی ملک کے عام شہری اس کا تصور کر سکتے ہیں۔ دوئم: عمران خان عدالتوں کے لاڈلے رہے ہیں۔ گرفتاری کے چند منٹ بعد انہیں مرسڈیز پر پولیس لائن منتقل کرنے کا حکم دیا جاتا تھا اور عدالت میں ’گڈ ٹو سی یو‘ سے استقبال کیا جاتا تھا۔ سوئم: مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف بے گناہ ہیں اور ان پر ناجائز مقدمے قائم کیے گئے تھے۔ سرفراز بگٹی نے کسی وفادار لیگی کارکن کی طرح استفسار کیا کہ ’تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ بیٹے سے تنخواہ لینے کے جرم میں کوئی نا اہل ہوا ہو‘ ۔

ان تین بنیادی نکات کے علاوہ سرفراز بگٹی نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ سب سیاسی پارٹیوں کو مساوی مواقع حاصل نہیں ہیں اور نگران حکومت جانبداری سے کام لیتی ہے۔ عام انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نون لیگ کو کوئی فیور نہیں دیا جا رہا۔ ’تمام سیاسی جماعتیں اپنا کام کر رہی ہیں۔ جس طرح ذکا اشرف ( پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین) کا سب کو پتہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے لاڈلے ہیں اور انہی کے امیدوار ہیں۔ یہاں سب کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ ہے۔ یہ مناسب نہیں کہ بلاول بھٹو کے بیان پر تبصرہ کیا جائے‘ ۔

انٹرویو کے جوابات میں استعمال کی گئی زبان سے ہی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نگران وزیر داخلہ کسی غیر جانبدار نگران حکومت کے وزیر نہیں ہیں بلکہ ایک خاص سیاسی سوچ کا برملا ظہار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ وہ بیک وقت ملک کی دو بڑی پارٹیوں پر تنقید کر رہے ہیں لیکن اپنی غیر جانبداری کا راگ الاپنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ عجیب غیر جانبداری ہے کہ وزیر داخلہ اہم سیاسی لیڈروں کے بارے میں ہتک آمیز لب و لہجہ میں گفتگو کر رہے ہیں اور ایسے موضوعات پر لب کشائی کرتے ہیں جو درحقیقت موجودہ عبوری حکومت کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔ اس انٹرویو کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بداعتمادی کی دھول فروری میں منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کی صورت میں سامنے آئے گی۔ ان انتخابات میں جس پارٹی کو بھی اپنی مرضی کے مطابق کامیابی نہ ملی، وہ وزیر داخلہ کی باتوں کا حوالہ دے کر دعویٰ کرسکے گا کہ نگران حکومت تو پہلے دن سے بدنیتی سے معاملات طے کر رہی تھی۔

عمران خان کو عدالتوں کا لاڈلا قرار دیتے ہوئے اگرچہ سرفراز بگٹی نے سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے بعض اقدامات اور طرز تکلم کا حوالہ دیا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’ملکی عدالتی نظام میں اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ عدلیہ کے مسائل ہیں، جن کا سب کو پتہ ہے‘ ۔ نگران وزیر داخلہ کی ان باتوں کو اگر سیاسی طور سے درست بھی مان لیا جائے تو بھی کسی ایسی حکومت کے کسی عہدیدار سے اس رائے کی توقع نہیں کی جاتی جو ایک محدود مدت کے لیے ایک خاص مقصد سے قائم کی گئی ہے۔ اس حکومت کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے اور نہ ہی اس نے مقررہ وقت میں انتخابات منعقد کروانے کی ذمہ داری پوری کی ہے۔ گزشتہ روز انتخابات کے انعقاد سے متعلق جسٹس اطہر من اللہ کے جاری ہونے والی نوٹ میں صراحت کی گئی ہے کہ 90 دن کی مدت کے بعد انتخابات میں تعطل کا ہر دن ملکی آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس کا یہی مقصد ہے کہ 7 نومبر کے بعد موجودہ نگران حکومت کا ہر دن بھی ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اب اسی حکومت کے وزیر داخلہ عدالتی طریقہ کار اور نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔

سرفراز بگٹی ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ وہ ملکی نظام کے بارے میں کچھ مخصوص نظریات بھی رکھتے ہوں گے لیکن ایک نگران حکومت میں وزارت کا عہدہ سنبھالتے ہوئے انہیں اس بات کا شعور ہونا چاہیے تھا کہ اس حیثیت میں انہیں اپنے سیاسی نظریات کو خود تک محدود رکھنا ہو گا۔ اور جب تک وہ نگران حکومت میں وزیر کے طور خدمات سرانجام دے رہے ہیں، انہیں پوری ایمانداری سے سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے بارے میں متوازن اور اعتدال پسندانہ رویہ اختیار کرنا ہو گا۔ لیکن جب وہ ایک لیڈر کو عدالتوں کا لاڈلا کہیں گے اور کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین کو پیپلز پارٹی کا لاڈلا کہہ کر پکاریں گے تو ان کی پوری گفتگو ایک خاص سیاسی تعصب کا نمونہ بن جائے گی۔ نگران حکومت کے کسی وزیر اسے ایسی غیر ذمہ داری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ یا تو اپنے وزیر داخلہ کی زبان بندی کا اہتمام کریں یا یہ تسلیم کریں کہ موجودہ حکومت اپنے خیالات میں تو غیر جانبدار نہیں ہے لیکن وہ سرکاری خدمات انجام دیتے ہوئے کسی ایک فریق کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ لیکن ایسے دعوے پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں ہو گا۔

نگران وزیر داخلہ کے بقول عمران خان کے ساتھ سابقہ ججوں کی طرف سے روا رکھے جانے والے خصوصی سلوک کی بنیاد پر وہ ’عدلیہ کا لاڈلا‘ قرار پاتے ہیں۔ اور عدالتی نظام، نقائص سے پر دکھائی دینے لگا ہے۔ اس بیان سے تو موجودہ نگران حکومت پورے عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے لیکن اس کے پاس یہ دعویٰ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جس چیف جسٹس کے اقدام اور باتوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ ماضی کا قصہ بن چکے ہیں اور جس لیڈر کو عدلیہ کا لاڈلا کہا جا رہا ہے وہ کسی عدالتی حکم کے بغیر کئی ماہ سے جیل میں بند ہے۔ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں ضمانت مل چکی ہے لیکن حکومت کسی نہ کسی مقدمے میں انہیں مسلسل گرفتار رکھنا چاہتی ہے۔ بلکہ ان کی مکمل زبان بندی اور انہیں میڈیا سے دور رکھنے کے لیے ان کے جیل میں ٹرائل پر اصرار کیا جاتا رہا ہے۔ اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو ’من و عن‘ تسلیم کریں گے۔ تاہم یہ اسی وقت واضح ہو سکے گا جب حکومت عمران خان کو مقدمات کی پیروی کے لیے عدالتوں میں جانے اور عام طریقہ کے مطابق اپنے وکلا یا میڈیا سے مکالمہ کرنے کا موقع دے گی۔

نگران وزیر داخلہ کا زور اس بات پر تھا کہ جیل میں عمران خان کو ملنے والی سہولیات ایک عام قیدی یا جیل میں رہنے والے سابق وزرائے اعظم سے زیادہ ہیں۔ ’عمران خان کو جیل میں ملنے والی سہولیات کا ایک عام شہری تصور بھی نہیں کر سکتا‘ ۔ سرفراز بگٹی نے یہ ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے اپنی طرف سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عمران خان جیل کی صعوبت یا مشکلات پر جو شکوہ شکایت کرتے ہیں، اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ حکومت انہیں بہترین سہولتیں دے رہی ہے۔ تاہم انہوں نے جن الفاظ میں یہ بات کہی ہے، اس سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ عمران خان کسی سابق چیف جسٹس کے لاڈلے تھے یا نہیں تھے موجودہ نگران حکومت کے ’لاڈلے‘ ضرور ہیں۔ اسی لیے تو وزیر داخلہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں جیل میں جو سہولتیں مل رہی ہیں، عام شہری ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور سابق وزرائے اعظم کو کبھی ایسی سہولیات نہیں ملیں۔ ایسے میں سرفراز بگٹی کو یہ جواب دینا چاہیے کہ موجودہ نگران حکومت کے پاس ایسا کون سا مینڈیٹ ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی بھی قیدی کو ایسی غیر معمولی سہولتیں بہم پہنچا رہی ہے جو عام شہریوں کے خواب و خیال سے بھی عمدہ اور بہتر ہیں۔ نگران وزیر داخلہ کا یہ بیان تو اپنی حکومت کے خلاف استغاثہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ حکومت عمران خان یا کسی بھی قیدی کو غیر معمولی اور ناقابل تصور بہتر سہولتیں ’فراہم کرنے کا انتظام کیوں کر رہی ہے؟

سابق وزیر اعظم کے طور پر عمران خان کو بہتر کلاس کا حق حاصل ہے جس میں گھر سے کھانا منگوانے اور اہل خاندان کے علاوہ دیگر لوگوں سے ملاقات کا حق شامل ہے۔ ابھی تک کوئی ایسی خبر سامنے نہیں آئی کہ عمران خان کو ان بنیادی سہولتوں سے بڑھ کر کوئی تعاون فراہم کیا گیا ہو۔ ان کی اہلیہ کو تخلیہ میں ملاقات تک کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے، اسی طرح اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کے لیے بھی عمران خان متعدد بار جج سے درخواست کرچکے ہیں۔ خصوصی عدالت کے نگران جج نے ہی جیل کے معائنے کے دوران عمران خان کی چہل قدمی کے لئے بڑی جگہ فراہم کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ اب ان بنیادی سہولتوں کا حوالہ دے کر نگران وزیر داخلہ عمران خان کی کردار کشی کا افسوسناک اقدام کر رہے ہیں جو بجائے خود غیر جانبداری کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

بہتر ہو گا کہ نگران حکومت کے عہدیدار اپنے بیانات عملی انتظامی امور تک محدود رکھیں اور سیاسی معاملات یا لیڈروں کے بارے میں اپنے بیش قیمت خیالات کا اظہار کرنے سے اجتناب کریں تاکہ کسی حد تک موجودہ نگران حکومت کی ’غیر جانبداری‘ کا بھرم قائم رہ سکے۔ ورنہ عمران خان اور ‍ ذکا اشرف کے ’لاڈلا‘ ہونے کی بجائے یہ سوال پیدا ہو جائے گا کہ موجودہ سیٹ اپ کسی کی نظر عنایت سے قائم کیا گیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2719 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments