ہم نرگس کب بنیں گے


ہمیں آزاد ہوئے تقریباً چھہتر سال ہو گئے ہیں لگتا ہے ہم وہاں سے پیچھے چلے گئے ہیں! لیکن آگے بھی نہیں نکل سکے۔ دیکھیں تو وہی سیاست، وہی معیشت اور وہی معاشرت۔ بس بدلے ہیں تو اتنا کچھ کہ اب کچھ چھپا نہیں۔ شاید میں بڑا ہو گیا ہوں یا پھر اس ملک کے حالات ایسے رہے ہیں۔ کیا واقعی یہ ریاست ایسے ہی تھی؟

میں چھوٹا تھا تو سوچتا تھا کہ اس ملک کے سٹیک ہولڈرز اور سیاستدان ملک کے مفاد کے لیے اور لوگوں کے ترجیحات کے لیے اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟ اتنی پارٹیاں، اتنی گہما گہمی اور اتنے لیڈرز۔ بڑا ہوا تو اس کا جواب ملا کہ جب ایک بھائی بھائی کا اور باپ کا قتل زمین کے ٹکڑے پر کر دے تو پھر اس میں کوئی حیرت نہیں رہتی کہ سٹیک ہولڈرز اپنی ترجیحات اور مفادات اور سیاستدان اپنے سیاسی داؤ پیچ میں بے زبان کروڑوں لاشوں کے مستقبل سے کھیلیں۔

پھر اس ذہنی کشمکش میں تھا کہ یہ سب کیسے، کب اور کون بدلے گا؟ تو اس کا جواب ملا فرانس کے انقلاب سے، ایران کے انقلاب سے، چین کے انقلاب سے اور جاپان کے ابھرتی سورج کی سرزمیں سے۔ وہ نوجوان جن کے خون اس دھرتی کے لیے گرم ہے وہ جوان جسے اپنی قوم اور ملک کی سوچتا ہے وہ جب پوچھے گا کہ یہ سب کیسے اور کیوں ہوا تو سب بدل جائے گا۔

یہ دنیا بہت ہی عجیب ہے یہاں نرگس ناچتی نظر آتی ہے نرگس اپنی بے نوری پے تب روتی ہے جب سالوں دور چلی جاتی ہے پھر نرگس کو نچانے والوں کے عیب نظر آنے لگ جاتے ہیں نرگس جن پر الزام لگاتی ہے وہ پھر نرگس کے تمام اگلے پچھلے حالات و واقعات کا کچا چھٹا کھول کر رکھ دیتے ہیں اپنی بات نا ماننے پر وہ نرگس کو حتی المقدور کوشش کرتے ہیں۔ جمہوریت کا تعلق صرف جبر اور زور زبردستی سے ہے ورنہ اس کا تعلق جمہور کی آزادی سے نہیں قلم کار قلم کش ہے اس نے قلم اٹھایا ہدایات لیں اور بنی بنائی کسی کی کردار کشی پر مبنی کہانی کو اپنے الفاظ میں لے آیا تو کہیں واہ واہ تو کہیں بدنام۔

لیکن اس قلم کش کو پتا ہے اسے مفاد کہاں سے ملنا ہے سو وہ کسی کے خیالات یا احساسات سے ماوراء ہوتا ہے۔ باقی سب کردار پر بات کرنا الگ ہے وہ کہیں نا کہیں نرگس اور نرگس کے نچانے والوں میں شامل ہیں انھیں پیسہ، اپنا وقت اور اپنا اعتماد دے کر نرگس کو دیکھنے والوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ انھیں نا تو نرگس کی ناظرین سے محظوظ ہونے اور نا ہی ناظرین کے احساسات سے کچھ لینا دینا ہوتا ہے۔ لیکن ایک کردار جو بہت حساس ہے جنھیں نرگس کی فکر رہتی ہے جنھیں نرگس کو نچانے والوں پر چیخا دیکھا جا سکتا ہے جنھیں نرگس کے ناظرین کی فکر رہتی ہے جن کے بارے میں، میں سوچتا تھا کہ ان کا اہم کردار ہے لیکن بڑا ہوا تو دیکھا انھیں بھی اپنی پسند کی نرگس کا خیال رہتا ہے جب اپنی پسند کی نرگس نا ہوتو یہ نرگس کو لانے والوں پر چیختے چلاتے نظر آتے ہیں کبھی موجودہ نرگس انتظامیہ کو کوستے ہیں تو کبھی اس نرگس کو دیکھ کے چپ رہنے والوں کو کوستے رہتے ہیں۔ قصہ مختصر یہ حساس لوگ بس اپنی نرگس کی پروموشن اور اس کے دلال ہوتے ہیں۔

لاکھوں بے روزگار نوجوان سینکڑوں سوال لیے میری طرح گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں خود کو بے بس اور بے زبان کہتے ہیں ایک طرف بے روزگاری کا خوف، بڑی فیملی کے نان و نفقہ کی پریشانی اور مستقبل کا ڈر انھیں اپاہج بنا کر رکھ دیا ہے وہ بھی اپنی پسند کی نرگس کے شو پر تو ناچتے ہیں لیکن نرگس کو دلالوں سے لیے ہوئی ڈائریکشن پر کوئی سوال نہیں کرتے نرگس کے جانے پر پھر مخالفین کو کوستے رہتے ہیں۔ یہ کھیل پچھلے پچھتر سال سے جاری ہے کسی میں ہمت نہیں کہ وہ نرگس سے یا پھر نرگس کے دلالوں سے یا پھر نرگس کے منتظمین سے سوال کر سکے جبکہ تھیٹر ہے کہ گاہے بگاہے اپنی خستہ حالی کی طرف گامزن ہے اور بوسیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

نا تو نوجوان تیار ہیں کہ اس تھیٹر کی حالت بدلی جا سکے نا پہلے سے براجمان لوگ اس کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ گاہے بگاہے انھیں نرگس بننے کا موقع مل رہا ہے اس تھیٹر کے سکیورٹی گارڈ جو نام نہاد مالک ہوتے ہیں وہ اس سب کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ تھیٹر بار بار کی ناکام نرگس کو دے کر دوبارہ مایوسی، نا امیدی اور بے یقینی پھیلانے کی بجائے نرگس کے ناظرین کو ایک امید ایک نئی صبح اور ایک اچھی شام دینی چاہیے وقت کی ضرورت ہے کہ تھیٹر کے آئین و قانون بدلے جائیں نرگس بدلی جائے تھیٹر کے تمام امور نرگس کے کارندوں کی بجائے نرگس کے نوجوان چاہنے والوں کو دیے جائیں تاکہ تھیٹر کے ناظرین کا اعتماد رہے سب مل جل کر آگے بڑھیں ہمارا ایک نام ہو ہماری پہچان ہو۔

تھیٹر کے ناظرین کو اپنی اہمیت نظر آئے وہ جوش کے ساتھ تھیٹر کی کامیابی اور مدد میں حصہ لیں۔ تھیٹر کے ناظرین خصوصاً نوجوان ناظرین کا حق ہے کہ وہ تھیٹر کی بحالی، آزادی اور تھیٹر کی خوشحالی کے لیے کھڑے ہوں بوسیدہ روایات اور قانون بدلیں سکرین بدلیں اور سب کی ایک جیسی کرسیاں ہونی چاہیے یہ سب ممکن ہے اور انشاء اللہ

*ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا*
کالم نگار: سلیم اکبر رئیس

Facebook Comments HS