وہ اک تارا : قسط نمبر 15
زندگی نے کیسے یکایک ڈرامائی موڑ مڑا تھا۔ دن رات کتنے حسین ہو گئے تھے۔ وہ ان مصائب اور مظالم کی تفصیل اسے سناتا۔ جس میں اس نے چھ سال کا طویل عرصہ گزارا۔
”اینا تم یقین کرو گی ایسے بھی لوگ تھے جو ہم سے پیار کرتے تھے۔ وہ ہمارے دیوانے تھے۔ تمہارے بھی اور میرے بھی۔ الیکٹرک شاک کے لئے لے کر جاتے تو وہاں شاکس لگانے کی بجائے گپیں لگاتے۔ مجھے سکھاتے کہ مجھے کیسے Pretendکرنا ہے؟ بہت بڑا ڈرامہ رچانا پڑا تھا ہمارے ان عاشقوں کو۔
اکثر وہ اسے سمجھاتا۔
”اینا کچھ عرصے کے لئے اپنی سرگرمیاں روک دو۔ روس سے نکلنے کی کوشش کرو۔ بہت تھک چکا ہوں۔ کچھ وقت تمہارے ساتھ بہت سکون سے گزارنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے انگلینڈ میں سیاسی پناہ بہت جلد مل جائے گی۔
اس دن بھی وہ اس پر ناراض ہو رہا تھا۔ کہ ابھی اس کا ایک کالم اس نے پڑھا تھا۔ اور وہ بت اختیار بول اٹھا۔
”بس کرو اینا۔ رک جاؤ۔ خدا کے لئے رک جاؤ۔ دشمنوں اور مخالفوں کے ڈھیر لگا لئے ہیں ہم لوگوں نے۔ اس درجہ ننگی سچائی کو ہضم کرنا ہمارے خود غرض اور مفاد پرست لیڈروں کے لئے بہت مشکل ہے۔
ہزاروں میل دور سے آتی اس آواز میں محبت بھری تلخی کے ساتھ ساتھ دکھ اور ملال کی بھی آمیزش تھی۔
وہ ہنسی تھی۔ پل بھر کی چھوٹی سی ہنسی جسے اس ہیثم آگالیف نے ہمیشہ کی طرح یوں ہی محسوس کیا تھا۔ جیسے Baglama بگلما کی تاروں سے بھرپور زندگی میں گندھے ہوئے، دل میں ہلچل مچانے والے، خوبصورت احساس کا سر ابھی فضا میں بکھرا ہی ہو کہ ختم بھی ہو جائے۔
وہ اس کی ہنسی کا کتنا دیوانہ تھا۔ جان بوجھ کر اسے ہنساتا اور پھر کہتا تمہاری ہنسی مجھے میرے بچپن میں لے جاتی ہے۔ ان دنوں میں جب میرا دادا سردیوں کی لمبی راتوں میں آگ کے سامنے بیٹھتے ہوئے Baglama پر اناطولیہ Anatolia کے قدیم گیت گاتا۔ پتہ نہیں اس موسیقی اور تمہاری ہنسی میں کیا چیز مشترک ہے؟ میں یہ کبھی سمجھ نہیں پایا۔
”اینا آج تمہاری برتھ ڈے ہے اور میں کئی دنوں سے چاہ رہا تھا کہ تم سے ڈھیر ساری باتیں کروں گا پر ابھی تھوڑی دیر پہلے انٹرنیٹ پر تمہارا رمضان کیدروفRamzan Kadyrovپر تیر برساتا مضمون پڑھ کر میرے حواس گم ہو گئے ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے اب تمہاری تمنا گولی سے مرنے کی ہے کہ دنیا میں ڈنکا بج جائے کہ روس کی بہادر ترین اور بہترین جرنلسٹ حق سچ پر قربان ہو گئی ہے۔“
اس کے روم روم میں ایک لطیف سی سرشاری دوڑ رہی تھی۔ پیار، فکر مندی اور ڈانٹ ڈپٹ میں گھلا ہوا اس کا انداز ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔
” ہیثم آگالیف اتنے ظالم مت بنو۔“
”تو اور کیا کروں؟ کیسے تمہیں سمجھاؤں؟ ہر اہم غلط ملکی فیصلے پر تمہارے ایک مضمون کی لگائی ہوئی آگ ابھی مدھم نہیں پڑتی ہے کہ تم ایک اور دھماکہ کر دیتی ہو۔ چند لمحوں کے لئے وہ خاموش ہو گیا تھا۔ سچ کی تلخی سے بھری ہوئی یہ گولیاں وہ اسے محبت کے میٹھے میں لپیٹ کر دیتا تھا۔
اینا ایک بات بتاؤ مجھے۔ اینڈری کوزلوف کے قتل کا سراغ ملا۔ نہیں۔ کبھی ملے گا بھی نہیں۔ سنٹرل بینک کی مالی بے ضابطگیوں میں حکومتی مگرمچھ ملوث تھے اور وہ اس فراڈ کو بے نقاب کرنے پر تلا ہوا تھا۔ اب پیوٹن کا وہ نمبرون بدترین مخالف آئل کا ٹاپ بزنس مین میخائل خودور کوسکائے کی گمشدگی کا عنوان تمہارے ہاتھ آ گیا ہے۔ گھائل ہو رہی ہو۔ ہڑتالیں اور جلوس نکل رہے ہیں۔ ہونا کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ چند دن کے شوروغوغا کے بعد سب بیٹھ جائیں گے۔ یہی ہوتا ہے۔ جمہوریت کے علمبردار ہر بڑے اور چھوٹے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔
”مجھے تو اپنا فرض پورا کرنا ہے۔ مجھے تو اپنے حصے کی شمع جلانی ہے۔ اندھیرا کتنا کم ہوتا ہے، وہ سوچنا میرا کام نہیں۔“
اسے محسوس ہوا تھا جیسے اس کا لہجہ بوجھل سا ہو گیا ہے۔ نمناک سا۔
اور اس ہیثم آگالیف سے تو یہ بھی برداشت نہیں ہوتا تھا۔
”اچھا چھوڑو۔ چلو کینڈل جلاؤ۔ سامنے کیک رکھو۔ اسے کاٹو۔ میں ہیپی برتھ ڈے گاتا ہوں۔ پھر میں Live Long گاؤں گا۔
”کیا کرتے ہو تم؟ مجھے یہ سب کرنا مشکل لگتا ہے۔ تم سے زیادہ مجھے کون سمجھتا ہے؟“
”اینا پتھر مت بنتی جاؤ۔ جو میں کہتا ہوں کرو۔ کہیں تو چند لمحوں کے لئے زندگی کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں پر تمہاری آنکھ کو جمنا چاہیے۔ دیکھو میں کینڈل جلا رہا ہوں۔ کیک میرے پاس پڑا ہے۔ اس پر تمہارا نام ہے۔“
اس کی آنکھوں میں شبنم سی اتری۔ آواز میں بھی بھراہٹ سی ابھری۔
”کتنا مشکل ہو گیا ہے خو دپر ضبط کرنا۔“ اس نے جیسے خود سے یہ کہا تھا۔
”ہیثم ذرا ٹھہرو۔ میں چیزیں سیٹ کر لوں۔“
اپنے بھیگتے جذبات، اپنی بے چینی اور اضطراب پر قابو پانے کے لئے یہ بہانہ کتنا کارگر تھا۔
ان کے درمیان رابطے کا بڑا ذریعہ تو انٹرنیٹ تھا جہاں ویب کیم کے ذریعے بہت سی خواہشات کی سیری ہو جاتی تھی۔ کبھی کبھی ایک دوسرے میں اتنے مست ہو جاتے کہ یوں محسوس کرتے جیسے پاس پاس بیٹھے ہوں۔ ہیثم اس کے کھانے پینے سے لے کر پہناوے تک میں مداخلت کرتا۔
پرکل شام سے اس کے انٹرنیٹ میں کچھ خرابی تھی۔
”چلو اچھا ہی ہوا۔ کپڑوں سے لے کر کیک تک اور موم بتی ماچس تک تو باز پرس ہونی تھی۔“
جیسے ابھی وہ پوچھتا اور کہتا تھا۔
”مجھ سے کچھ نہیں ہوا۔ میں بہت اداس ہوں۔ تمہاری جدائی نے مجھے بہت زود رنج بنا دیا ہے۔ میں کس قدر حساس ہو گئی ہوں۔ وگرنہ تو ہمیشہ ہی منہ پھاڑ کر کہہ دیا کرتی تھی۔
چلو چھوڑو ہیثم۔ نرے چونچلے۔ کوئی کام کی بات کریں۔ ”
یہ سب گویا اس نے اپنے آپ کو سناتے ہوئے کہا تھا۔
اور پھر وہاں جھوٹ تھے۔
”میں نے وہی لونگ سکرٹ پہنا ہے۔ ارے بھئی وہی والا جو تم میرے لئے جارجیا سے لائے تھے۔ ہاں ہیثم اس کے ساتھ بلاؤز پھولوں والا ہے۔ میں نے برسلیٹ اور انگوٹھیاں بھی پہن رکھی ہیں۔ کافی کامگ میں نے بائیں ہاتھ رکھ لیا ہے۔ ہاں ہاں میں بھولی نہیں چھری میرے پاس رکھی ہوئی ہے۔ کیک سامنے پڑا ہے۔ شمع جل رہی ہے۔ لو میں نے کیک کاٹ دیا ہے۔“
تالی کی آواز۔ ہیپی برتھ ڈے۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی سویٹ اینا۔
ٹپ ٹپ کتنے ڈھیر سارے آنسو اس ادھڑے پدھڑے بد رنگے سے کارڈیگن کے دامن پر گرے تھے۔ جو وہ کل شام سے پہنے ہوئے تھی۔ پینٹ کوئی تین دنوں سے ایک ہی چل رہی تھی۔
پھر اچھے دنوں کی ایک نوید بڑے میٹھے سروں میں اس کے کانوں میں اترنے لگی تھی۔ وہ ولادی میر مایاکوفسکی کو گا رہا تھا۔
وہ شاعری کا ہمیشہ سے رسیا تھا۔ اس کی آواز بھی خوبصورت تھی۔ اس کی گفتگو اکثر و بیشتر کسی شاعر کے خوبصورت شعروں پر ختم ہوتی۔ بہت دھیان اور توجہ سے منتخب کردہ یہ اشعار امید کا پیغام دیتے دیتے روح کو بھی اس میں بھگو دیتے تھے۔ شاعری سے اینا کا لگاؤ، اس ذوق میں نکھار اور گہرائی اسے ہیشم کی قربت نے دی تھی۔
ریسیور واپس رکھتے ہوئے پشکن کی ”رات“ آنکھوں کے سامنے تھی۔
اک اداس سی شمع
جلتی ہے
میرے اجڑے ہوئے گھر میں
بجھی بجھی سی اس کی کرنیں
اندھیرا اور بھی بڑھاتی ہیں
(ظ انصاری)

