عسکری طاقت سے مایوسی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا
پاک فوج کی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے کہا ہے کہ ’ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے ملک میں مایوسی پھیلانے والے عناصر کو عوام کی حمایت سے شکست دی جائے گی‘ ۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں 82 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی جس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف افسران اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔
کانفرنس میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے تمام دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی مدد کرنے والوں سے ریاست کی پوری طاقت سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اس کے علاوہ معیشت کی پائیدار بحالی، اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کی روک تھام، ڈاکومنٹ رجیم کے نفاذ، غیرقانونی غیر ملکیوں کی باوقار وطن واپسی اور قومی ڈیٹا بیس کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب کے لیے مختلف شعبوں میں حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کی گئی۔
پاک فوج کے فارمیشن کمانڈرز نے ہر اس اہم معاملہ پر غور کیا اور دلچسپی و تشویش کا ظہار کیا ہے جو ملک میں گورننگ بہتر کرنے اور نظام حکومت کو موثر کرنے کے لیے اہم ہے۔ حیرت انگیز طور پر ملک میں نگران حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان تو موجود ہے لیکن اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ جلد ہی ملک میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں اور عوام کی منتخب حکومت ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کے اقدامات کرے گی۔ اس کے برعکس خاص طور سے مایوسی پھیلانے والے عناصر کا ذکر کرتے ہوئے عوام کی حمایت سے انہیں شکست دینے کا عزم کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے فارمیشن کمانڈرز کے حوالے سے سامنے آنے والا یہ بیان سیاسی لحاظ سے تشویش کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملے گی کہ موجودہ حالات میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا کوئی امکان نہیں ہے اور ایک بار پھر ملک میں منتخب حکومت کی بجائے ’نامزد‘ حکومت سے کام چلانے کی کوشش کی جائے گی۔
فارمیشن کمانڈرز کانفرنس حالات کی اس تفہیم کے تاثر کو رد کر سکتی تھی۔ ملک میں انتخابات کے انعقاد کو خوش آئند قرار دے کر جو ’حمایت و اعانت‘ ایک عارضی نگران کو فراہم کرنے کا عزم کیا گیا ہے، اس کا اظہار فروری میں انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی حکومت کے لیے بھی کیا جاسکتا تھا۔ آئینی لحاظ سے نگران حکومت کی اس سے زیادہ کوئی اہمیت و حیثیت نہیں ہے کہ اسے انتخابات کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے تاکہ کسی سیاسی پارٹی کی حکومت پر جانبداری کا الزام عائد نہ ہو۔ تاہم ملک میں حالات کی ترتیب سے دیکھا جاسکتا ہے کہ انتخابی نتائج کا تعلق نگران حکومت کی بجائے اسٹبلشمنٹ کے مزاج اور سوچ سے زیادہ ہوتا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ مستقبل میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ انتخابات کے انعقاد کے لیے نگران حکومت کے طریقہ کو ختم کرنے کے لئے آئینی اقدام کرے گی کیوں کہ جس مقصد سے یہ طریقہ وضع کیا گیا تھا، وہ پورا نہیں ہوسکا۔
ملک میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے ایک رکن جسٹس اطہر من اللہ کا نوٹ بھی آج ہی منظر عام پر آیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانے کا اعلان نہ کر کے صدر مملکت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ فاضل جج نے البتہ اس کی زیادہ ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد کی ہے اور کہا کہ آئینی طریقہ کے مطابق ملک میں 7 نومبر تک انتخابات منعقد ہونے چاہئیں تھے۔ اس کے بعد گزرنے والا ہر دن آئین کی صریحاً خلاف ورزی کا سبب بن رہا ہے۔ جس کی ذمہ داری ان عہدیداروں اور اداروں پر عائد ہوتی ہے جنہیں آئین نے بروقت انتخابات منعقد کروانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ اس ملک پر عوام کی رائے سے حکومت قائم کرنے کا فیصلہ آئین پاکستان میں کیا گیا ہے۔ اپنے نمائندوں کے ذریعے امور مملکت چلانا عوام کا بنیادی حق ہے جس کی ضمانت آئین میں فراہم کی گئی ہے۔
فاضل جج کے نوٹ کے تناظر میں نگران حکومت کے کردار پر غور کیا جائے تو نہ صرف صوبوں میں بلکہ مرکز کی حکومت بھی غیر آئینی قرار پائے گی۔ اس لیے ایسی حکومت کے لیے فوجی کمانڈرز کانفرنس کا اظہار وفاداری بے موقع بھی ہے اور یہ ملک میں آئینی عملداری کی عمومی صورت حال سے مماثلت بھی نہیں رکھتا۔ ملک میں مایوسی پھیلا نے والے عناصر کا ذکر کر کے عوامی حمایت سے انہیں شکست دینے کی بات اگر کوئی سیاسی پارٹی کسی انتخابی مہم میں کہے تو یہ قابل فہم ہو سکتی ہے۔ لیکن فوجی کمانڈروں کی طرف سے اس مبہم اور غیر واضح عزم کا اظہار نئے شبہات اور غلط فہمیاں پیدا کرے گا۔ پہلے تو یہ طے کرنا ہو گا کہ کون سے عناصر مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ اور ان عناصر کو عوام کی حمایت سے کیسے اور کیوں کر شکست دی جا سکتی ہے۔ نہ تو یہ فوج کا مینڈیٹ ہے اور نہ ہی عملی طور سے ایسی کوئی صورت حال دیکھی جا سکتی ہے کہ پاک فوج کوئی قومی مقصد حاصل کرنے کے لیے عوام کی تائید و حمایت حاصل کرنے کا اہتمام کرے۔ پاک فوج اس قوم کے سب لوگوں کا مشترکہ اثاثہ ہے اور سب ہی پاک فوج پر فخر بھی کرتے ہیں اور ملکی دفاع کے لیے اس کی خدمات اور ضرورت کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم فوج یا اس کی قیادت منتخب نہیں ہوتی بلکہ ایک خاص طریقہ کار کے تحت تربیت کے عمل سے گزر کر ان ذمہ داریوں پر فائز ہوتی ہے۔
البتہ فوج اور سیاست کے حوالے سے سامنے آنے والے مباحث میں فوج کے کردار کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات یا تجربات کی وجہ سے ضرور کچھ بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور بعض عناصر اپنی تفہیم کے مطابق بعض فوجی لیڈروں کو ضرور ملک میں غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ فی الوقت موجودہ عسکری قیادت پر ایسا کوئی الزام نہیں ہے۔ اگرچہ ماضی قریب کے تجربات کی روشنی میں اس حوالے سے شبہات ضرور سامنے آرہے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور سابق کور کمانڈر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر ضرور الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف زرداری نے آج ہی ایک ٹی وی انٹرویو میں جنرل فیض حمید کا نام لے کر کہا کہ وہ عمران خان کے ساتھ مل کر ملک پر طویل مدت تک ایک ہی پارٹی کو مسلط کرنے کی سازش کا حصہ تھے۔ ایسی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے جب مستقبل میں منعقد ہونے والے انتخابات یا حکومت سازی میں فوج کے کردار پر بات ہوتی ہے تو اس کی نوعیت دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، کے مصداق ہوتی ہے۔ اس صورت میں موجودہ فوجی قیادت کو اس مغالطے کو رفع کرنے اور ملک میں شفاف انتخابات کی مکمل حمایت کا اعلان کرنا چاہیے۔
کہا جاسکتا ہے کہ فوج تو ملک کے انتخابی عمل کا حصہ ہی نہیں ہے تو اس سے کیوں اور کیسے یہ توقع کی جائے۔ تو اس کا سادہ اور آسان جواب یہی ہے کہ فوج جب عوامی حمایت سے کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے حاصل کرنے کے لئے ایسے ہی خیرسگالی کے اظہار سے یہ اعتماد و حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر شبہات کا لاوا، سیاسی بیانات، اخباری تبصروں اور سوشل میڈیا مباحث کے ذریعے پکتا رہے گا اور قومی سیاست میں فوج کے کردار کے حوالے سے نت نئی کہانیاں سامنے آتی رہیں گی۔ یہ صورت حال نہ فوج کی شہرت کے لیے خوش آئند ہے اور نہ ہی ملکی مسائل کے حوالے سے یہ کوئی اچھی خبر کہی جا سکتی ہے۔ اسی بے یقینی میں درحقیقت وہ مایوسی پیدا ہوتی ہے، جس کا حوالہ دیتے ہوئے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے ان سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو شکست دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں مایوسی پھیلانے کا کام کون سے عناصر کر سکتے ہیں۔ ملکی سیاسی پارٹیاں تو انتخابات کی تیاری میں لگی ہوئی ہیں اور عوام کو خوش نما تصویر دکھا کر ملک کے بارے میں پر امید ہونے کا پیغام دے رہی ہیں۔ البتہ تحریک انصاف پر مایوسی پھیلانے کا الزام ضرور عائد ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کے لیے سیاسی سرگرمیوں کے تمام جائز دروازے مسلسل بند کیے جا رہے ہیں۔ اس کے لیڈر قید ہیں اور اسے انتخابات کے لیے متحرک ہونے کا موقع نہیں ملتا۔ ایسے میں اس کی قیادت کی طرف سے مایوسی کا اظہار ایک فطری ردعمل ہو گا۔ لیکن یہ مایوسی درحقیقت پارٹی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ہے۔ اس کا ملک کے مستقبل سے تعلق قائم کرنا ممکن نہیں۔ تحریک انصاف اس بات پر مایوسی کا اظہار کرتی ہے کہ جن پارٹیوں کو وہ ملکی مفاد کے خلاف سمجھتی ہے، انہیں سیاست میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم ہیں جبکہ پی ٹی آئی کا راستہ روکا جاتا ہے۔ اس مایوسی کا خاتمہ تو تحریک انصاف کے بارے میں ریاستی حکمت عملی تبدیل کر کے ہی ہو سکتا ۔
تحریک انصاف کے علاوہ میڈیا کے بعض حلقوں پر مایوسی پھیلانے کا ’الزام‘ عائد کیا جاسکتا ہے۔ قومی میڈیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو پاکستان کو درپیش حالات سے پریشان ہیں۔ سہولت کے لیے اسے ’مایوسی‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس مایوسی کو ختم کرنے کے لیے ان حالات کو خوشگوار طریقے سے تبدیل کرنا ضروری ہے۔ ملک میں عام طور سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ انتخابات کے شفاف انعقاد اور ایک قابل اعتبار منتخب حکومت قائم ہونے سے ہی ایسی پریشانی یا مایوسی کا خاتمہ ممکن ہے۔ فوج کے فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں اسی لیے انتخابات کے حوالے سے خاموشی پریشان کن ہے۔
کسی بھی صحافی، تجزیہ نگار یا مبصر کو حالات کے بارے میں رائے رکھنے سے نہیں روکا جاسکتا البتہ اس رائے کو غلط ثابت کتنے کے لئے حالات کا رخ ضرور موڑا جاسکتا ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتیں انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ کر یہی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ عوام انتخابات میں بھرپور شرکت کے ذریعے ملک کو ایک قابل اعتبار مضبوط حکومت دے کر ہی ملک میں پائی جانے والی مایوسی ختم کر سکتے ہیں۔ اسے ختم کرنے لیے کسی فوجی عزم یا عسکری طاقت کی ضرورت نہیں ہوگی۔


