سیاسی سموگ پھیلانے والے
عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان اور اس کی تاریخ کو طے کر دیا گیا ہے اور کوئی وجہ محسوس نہیں ہو رہی ہے کہ جس کی بنا پر ان اعلانات سے انحراف کی کوئی ضرورت یا صورت کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ بھی نوشتہ دیوار ہے کہ نو منتخب حکومت معاشی اور خارجی محاذ پر سخت چیلنجز سے نبرد آزما ہوگی۔ چین اور امریکہ سے تعلقات کی نہج کیا ہونی چاہیے؟ اور اس مطلوبہ نہج کو کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے کے سوال کا جواب دینا ہی نئی حکومت کی خارجہ حکمت عملی کا اصل امتحان ہو گا۔
ہمارے یہاں یہ تصور بہت تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے کہ جیسے چین اور امریکہ کے علیحدہ علیحدہ بلاک تشکیل پا چکے ہیں اور ہم اس وقت ایک بلاک کے بہت زیادہ نزدیک ہیں۔ حالاں کہ صدر شی اور صدر بائیڈن کی حالیہ ملاقات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ یہ دونوں عالمی طاقتیں ماضی کی سرد جنگ کی مانند کوئی غلطی نہیں دوہرانا چاہتی ہیں۔ صدر شی نے اس ملاقات کے موقع پر کہا کہ ”باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور باہمی تعاون وہ سبق ہیں جو ہم نے چین اور امریکہ تعلقات کے 50 سال اور تاریخ میں بڑے ممالک کے مابین تنازعات کے دور سے سیکھا ہے۔ چین اور امریکہ کو ان پر عمل درآمد کے لئے بہت سی کوششیں کرنی چاہئیں۔ جب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، امن کے ساتھ مل جل کر کام کرتے رہیں گے اور باہمی تعاون کو آگے بڑھائیں گے، تب تک وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر دونوں بڑے ممالک کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا صحیح راستہ تلاش کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
گزشتہ سال بالی میں امریکہ نے کہا تھا کہ وہ چین کے نظام کو تبدیل کرنے، نئی سرد جنگ شروع کرنے، چین کے خلاف اتحاد تشکیل دینے، ”تائیوان کی علیحدگی“ کی حمایت کرنے یا چین کے ساتھ تنازع میں ملوث ہونے کا خواہاں نہیں ہے۔ سان فرانسسکو میں چین اور امریکہ کو ایک نیا ویژن اپنانا چاہیے اور چین۔ امریکہ تعلقات کے لیے پانچ ستونوں کی تعمیر کرنی چاہیے۔ صدر شی کی گفتگو واضح کرتی ہے کہ ان مسائل پر دونوں ممالک کی نظر کیا ہے اور اس کے ہی تناظر میں ہماری آئندہ حکومت کو معاملات طے کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اسی طرح غزہ کی آگ کے اثرات صرف فلسطین یا عرب دنیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ ابھی جماعت اسلامی کے غزہ مارچ کے لئے جو کامیاب رہا کے لئے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھائی نے رابطہ کر کے مجھ سے ریکارڈڈ ویڈیو پر اپنے تاثرات ارسال کرنے کا کہا تو اس ویڈیو میں، میں نے جہاں عالم اسلام کے مایوسانہ رد عمل کا ذکر کیا وہیں پر اس کی بھی نشان دہی کی کہ پاکستان بھلا کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم تو دیوالیہ سے بچنے کے لئے بھی اس وقت آئی ایم ایف کے محتاج ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔
بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ابراہام معاہدہ سے لے کر عرب کی موجودہ صورتحال اور اس پر سونے پر سہاگہ انڈیا کا عرب ممالک میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ خطرے کے نشان کو بس عبور کرنے ہی والا ہے۔ اور یہ معاملات صرف بیان بازی، حاضر سروس یا ریٹائرڈ افراد کی بیوروکریٹک چرب زبانی سے حل نہیں ہوں گے بلکہ ان کے لئے نہایت احتیاط سے تیار کردہ حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔ اور ایسی کامیاب حکمت عملی وہ ہی حکومت اختیار کر سکتی ہے کہ جس کو سیاسی استحکام حاصل ہو اور اس کے منتخب ہونے پر سیاسی فضا کو گدلا اور انتخابی عمل کو مشکوک نہ کر دیا گیا ہو مگر بد قسمتی سے ایک منظم کوشش کے طور پر بار بار اس کو عوام کے اذہان پر مسلط کیا جا رہا ہے کہ مقبولیت کسی کو حاصل ہے اور قبولیت کے کندھوں پر کوئی اور سوار ہے۔ اس مقبولیت کو جانچنے کا پیمانہ کیا ہے، ترازو میں کیسے تولا گیا ہے اگر پوچھا جائے تو جواب سوائے آئیں بائیں شائیں کے اور کچھ نہیں آتا ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت کی مقبولیت کو پرکھنے کا صرف ایک ہی پیمانہ ہوتا ہے اور وہ انتخابی عمل ہے۔ مرکز میں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی اور تب سے ہی مقبولیت کے دعوے شد و مد سے کیے جانے لگے۔ مگر ان دعوؤں کی بنیاد کیا ہے؟ پنجاب میں بیس نشستوں پر ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ اپنی ہی نشستوں میں سے پچیس فیصد پر شکست کھا گئے۔ اگر پندرہ نشستوں پر کامیابی مقبولیت کی دلیل ہے تو پھر یہ تو 100 فیصد تسلیم کرنا پڑے گا کہ دو ہزار اٹھارہ کی“ کامیابی ”100 فیصد جعلی تھی اور اس کی بنیاد پر تو ایک نشست پر کامیابی بھی مشکوک ہی تھی، آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لئے اپنے دور حکومت میں کرائے گئے انتخابات میں اپنے آپ کو ہر جگہ پر ہی کم و بیش“ کامیاب ”قرار دے دیا تھا مگر جب وہاں پر بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ آیا تو اپنی آزاد کشمیر حکومت ہوتے ہوئے بھی جگہ جگہ پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں کون سا معرکہ مار لیا اور اب نگران حکومت کے دور میں بھی جو سندھ میں بلدیاتی ضمنی انتخابات منعقد ہوئے وہاں کہیں نام و نشان بھی نظر آیا، یاد رہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں کراچی سے کھڑکی توڑ کامیابی کا اعلان کیا گیا تھا مگر اب وہ“ کامیابی ”سوائے سراب کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتی ہے۔
مقبولیت یہ ہوتی ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے وقت نواز شریف ثاقب نثاریت سے سخت مضمحل، جیل میں قید تھے اور ان کے نام پر ایک کروڑ انتیس لاکھ ووٹ مسلم لیگ نون حاصل کر گئی تھی اب تو پلوں کے نیچے سے پانی ہی نہیں بلکہ پل ہی تبدیل ہو چکے ہیں۔ کیا جو ووٹ ان حالات میں بھی ادھر ادھر نہیں ہوئے تھے اب کسی اور کے حق میں چلے جائیں گے؟ گزارشات عرض کرنے کا صرف اتنا مقصد ہے کہ کسی کہانی کو گھڑ کر لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کرنے کی کوشش سے اجتناب کیا جائے اور انتخابی عمل کا انتظار کیا جائے پھر کوئی اعتراض ہو تو جمہوری معاشرہ ہے ضرور کیجئے لیکن صرف ایک سیاسی سموگ کو پیدا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے
ویسے بھی دنیا پاکستان سے معاملات میں ایک خاص سوچ کی حامل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ابھی امریکی سفیر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملی مگر حیرت ناک امر یہ ہوا کہ اس کے بعد امریکی طرف سے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں وہ کچھ بیان نہیں کیا گیا جو پاکستانی سائیڈ کی طرف سے اخبارات کو بتایا گیا اور پولیٹیکل ایکٹر جیسا ذو معنی لفظ استعمال کیا گیا ایسا کبھی نہیں کیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس سطح کی ملاقات پر کوآرڈینیشن میں کیوں کوتاہی ہوئی؟ بہت اہم سوال ہے اور یہ پریس ریلیز آنے والے وقت میں نو منتخب حکومت کو درپیش ممکنہ چیلنجز کو بھی بیان کر رہی ہے۔ لیکن کم از کم ہمیں تو سیاسی سموگ پھیلانے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

