افغانستان پھر سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے
افغانستان جنگوں اور شورشوں کی سرزمین ہے۔ دنیا کی بیشتر آبادی جنگوں اور شورشوں سے نجات پا چکی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو پتہ چل گیا تھا کہ جنگیں کتنا نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کے بعد زیادہ تر جنگیں طاقت کے لیے زور آزمائی کرنے والوں نے دوسروں کے ملکوں میں لڑی ہیں۔ افغانستان اس سلسلے میں ایک مثالی ملک ہے۔ افغانستان سے جب 25 فروری 1989 میں روسی فوج نے انخلاء مکمل کیا۔ اس دن سے ہی وہاں خانہ جنگی شروع ہوئی جو چار برس تک جاری اور پھر ”پشاور معاہدہ“ کے نتیجے میں 27 اپریل 1992 کو اس خانہ جنگی کا وقتی خاتمہ ہوا تھا۔
افغانستان کے سربراہان شاہ شجاع، دوست محمد خان بچہ سقہ، نادر شاہ، سردار داود، نور محمد ترکئی، حفیظ اللہ، ڈاکٹر نجیب تک ان خانہ جنگیوں کا نشانہ بنے اور ہلاک کر دیے گئے۔ امریکہ اور روس نے افغانستان میں اپنے اپنے ہمنوا پیدا کیے ان کی تربیت کی۔ ان کو اسلحہ اور امداد دی اور ایک دوسرے سے لڑاتے رہے۔ لیکن اس لڑائی میں اس وقت شدت پیدا ہوئی جب چالیس روسی افراد کو ہرات میں قتل کر دیا گیا جس کے جواب میں کابل میں امریکی سفیر کو مارا گیا۔
اور پھر روسی افواج نے باقاعدہ افغانستان میں جنگ کا آغاز کر دیا۔ یہ دو نظاموں کی جنگ تھی۔ یعنی کیپٹلسٹ اور کمیونسٹوں کی جنگ مگر کیپٹلسٹ اس جنگ کو خود لڑنے نہیں آئے بلکہ انہوں نے یہ کام مسلمانوں کے سپرد کیا۔ جبکہ روسی خود اس جنگ میں کود پڑے تھے اس لیے نقصان مسلمانوں اور روسیوں کا ہوا اور فائدے میں امریکہ رہا۔ اس جنگ سے روسیوں کی کمر ٹوٹ گئی اور وہ عملاً اس قابل نہیں رہے کہ سرد جنگ جاری رکھ سکیں۔
امریکہ نے یہ جنگ جن کی مدد سے لڑی وہ سب ایک جیسے لوگ نہیں تھے۔ ان کی سوچ مختلف تھی، ان کے مسلک مختلف تھے۔ ان کی زبانیں اور رہن سہن مختلف تھے۔ بلکہ ان کے مفادات بھی الگ الگ تھے۔ ان لوگوں میں وہ قبائل بھی شامل تھے جو اس سے پہلے دہائیوں تک ایک دوسرے سے لڑتے رہے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے سینکڑوں لوگوں کو مار چکے تھے۔ جس کی ایک چھوٹی سی مثال پکتیا کے دو قبیلوں کی دی جا سکتی ہیں جنہوں نے دو درختوں کی لڑائی میں گیارہ سو جانیں ضائع کی تھیں۔
افغانستان جہاں بائیس سے زیادہ مختلف اقوام مختلف خطوں میں آباد ہیں۔ یہ سارے اقوام کسی ایک بات پر ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہیں رکھتے اور ان کی دشمنیاں بھی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے علاقوں میں جانے سے بھی کتراتے ہیں۔ ان کو امریکہ نے یکجا کیا اور ایک ساتھ روسیوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا۔ روسیوں کے خلاف جنگ میں پشتون۔ تاجک۔ ہزارہ، ازبک، ایماق، ترکمان، بلوچ، فارسی بان، پاشائی، نورستانی، پامیری، واخانی، گوجر، براہوی سب کو یکجا کر دیا گیا تھا، اس جنگ میں سنی، شیعہ، اسماعیلیوں کو بھی ایک ساتھ لڑنے کے لیے تیار کیا گیا۔
مگر روسی انخلاء کے بعد یہ سب قبائل اسی طرح اپنے اپنے مفادات اور تاریخی ورثے کی طرف لوٹ گئے۔ اب ان میں عربوں کا بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ شاید بہت ہی کم لوگوں کو علم ہو گا کہ روس کے خلاف جنگ میں ان ہزاروں عربوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ جن کو ان کے ممالک میں منشیات کی سمگلنگ اور کاروبار کی وجہ سے سزائے موت سنا دی گئی تھی۔ امریکہ سی آئی اے نے ان کو ان ممالک کی جیلوں سے نکال کر افغانستان میں جہاد پر بھیج دیا تھا۔
جب افغانستان سے روسی انخلاء ہوا تو تمام عرب ممالک نے جرائم پیشہ عربوں کو واپس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں سے کچھ کو وزیر ستان میں بھی بسایا گیا تھا۔ ان میں سے بہت سارے عرب اٹلی کی جیلوں سے بھی افغانستان پہنچائے گئے تھے۔ یہ سب لوگ جب ایک مشترکہ مقصد روس سے فارغ ہوئے تو اس کے بعد یہ ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ اس لڑائی کو ختم کرنے کے لیے کئی ایک منصوبے بنے مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ افغانستان کو امریکیوں نے استعمال کیا اور جب ان کا مقصد نکل گیا تو وہ ان کو ویسا ہی چھوڑ کر چلے گئے۔
اس گیپ کا فائدہ انڈیا اور دیگر ممالک نے اٹھایا اور ان گروہوں میں کچھ کی سرپرستی شروع کی جس کا مقصد پاکستان کو اس کے شمال مغربی سرحدوں پر مصروف رکھنا تھا۔ جس کے جواب میں طالبان کو بنایا گیا اور ان عربوں کو جن کو ان کے اپنے ممالک قبول کرنے کو تیار نہیں تھے ان کو بھی ان سے منسلک کیا گیا۔ پھر ان عربوں نے جن کو امریکی حمایت اور مدد حاصل تھی۔ جب انہوں نے امریکہ پر ہی وار کیا تو ان کی سرکوبی کے لیے امریکہ نے افغانستان میں ڈیرے ڈال دیے۔
امریکہ نے رخصت ہوتے ہوئے دوبارہ طالبان کو اپنے حربی آلات اور افغانستان کی حکومت دی۔ امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کے دورانیے میں طالبان کے علاوہ جتنے گروہ تھے ان کو بہت زیادہ سہولتیں اور امداد ملی تھی۔ اور ان کو منشیات کی سمگلنگ اور دیگر فائدہ مند کاموں میں کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ حربی میدان سے دور رہے۔ اب جب پورے افغانستان پر طالبان کی عبوری حکومت قائم ہے۔ اور دیگر افغان گروہ جو زیادہ تر افغانستان چھوڑ چکے ہیں۔ وہ متحد ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ماسکو میں ان کے نمائندوں کی ایک طویل نشست ہوئی ہے۔ جس میں انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ طالبان کو یوں آسانی کے ساتھ افغانستان کے وسائل پر قابض ہونے نہیں دیں گے۔ یہ دنیا بھی عجیب ہے کل جو افغان سب مل کر روس کے خلاف جہاد کر رہے تھے۔ آج وہ جہادی روس کی میزبانی میں ایک او ر جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ یعنی روس پھر سے طاقت پکڑ رہا ہے وہ یوکرین جنگ سے اپنی جنگی قوت کا اظہار کرچکا ہے۔
افغانستان میں خانہ جنگی کی یہ تیاری اس بات کا اشارہ ہے کہ بہار کے موسم میں افغانستان کے شمال مغربی اطراف میں طالبان اور دیگر گروہوں کے مابین جھڑپیں شروع ہوجائیں گی۔ اور اس بار ان کو پنجشیریوں کی قیادت میں طالبان سے لڑایا جائے گا۔ پھر آہستہ آہستہ ازبک، تاجک گروپوں کو فعال کیا جائے گا جو دیگر اطراف سے طالبان کو گھیرنا شروع کر دیں گے۔ طالبان میں اپنے بھی سترہ گروہ ہیں جن کو مختلف لوگ سنبھال رہے ہیں۔ ان میں کچھ ایک دوسرے کے شدید مخالف بھی ہیں۔ اور موقع کی تاک میں ہیں۔ افغان طالبان کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔ معدنیات پر صرف ایک گروپ کا قبضہ ہے جس کو دیگر طالبان گروہ وقتی طور پر برداشت کر رہے ہیں۔ یہ گروہ چینیوں سے مل کر معدنیات کو افغانستان سے منتقل کر رہا ہے۔ اس کام کے لیے اس گروہ نے اپنے ہزاروں لوگوں کو ان علاقوں تک پہنچایا ہے جہاں سے معدنیات نکالی جا رہی ہیں۔ جبکہ دیگر طالبان گروہوں کو ان علاقوں کے قریب جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
ایک طالبان گروپ نے کوئلے کی کانوں پر اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے۔ جبکہ طالبان کے چھوٹے چھوٹے گروپس اب آہستہ آہستہ ان سے دور ہو رہے ہیں۔ اس لیے کہ ان کو یہ بڑے گروہ کسی فائدے میں شریک نہیں کر رہے۔ لیکن موقع ملتے ہی وہ ان مخصوص گروپوں کے خلاف صف آراء ہوں گے۔ لسانی بنیادوں پر بھی طالبان میں اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ اختیارات کے جھگڑے بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں امریکیوں کا طالبان مخالف بیان بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کے اور طالبان کے بیچ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
افغانستان کی تاریخ رہی ہے کہ اس خطے کے لوگ بہت کم فائدے کے لیے دوسروں کے ہاتھوں بک جاتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ ہمیشہ دوسروں نے اٹھایا ہے۔ پشتونوں کے متعلق قدیم تاریخی کتابوں میں درج ہے کہ یہ کسی بھی صورت میں دیگر مخالف قبائل کی سربراہی قبول نہیں کرتے اور لڑ پڑتے ہیں۔ طالبان کو بھی سب سے بڑا مسئلہ یہی درپیش ہے کہ پشتون طالبان کسی ایک قبیلے کے فرد کی سربراہی پر متفق نہیں ہیں۔ ان میں یہ اختلاف وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے۔
چونکہ طالبان کو عالمی منظر نامے میں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے ان پر شدید دباؤ ہے لیکن طالبان کی تربیت اور سرشت میں یہ بات ڈالی گئی تھی کہ عورتوں کی تعلیم سے تباہی پھیلتی ہے۔ یہ نکتہ دریافت کرنے والے پروفیسر تھامسن گویئٹر تھے۔ جس نے ان کو یہ باور کرایا تھا کہ عورتوں کی تعلیم ہی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ اور روسی آپ کی عورتوں کو تعلیم دے کر ان کو خراب کر رہے ہیں۔ گزشتہ چالیس برسوں سے وہ اس پر متفق ہیں۔
اگر طالبان کی عبوری حکومت عورتوں کو تعلیم کا حق دے دیتی ہے تو طالبان کا وہ سارا بیانیہ ہی زمین بوس ہو جائے گا جو نبراسکا یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنے نصابی کتابوں کی مدد سے دہائیوں پہلے بنایا تھا اور جس کو اب افغانستان کے مجاہد ایمان کا درجہ دیتے ہیں۔ افغان طالبان کی زیادہ تر لیڈر غلزئی پشتون ہیں۔ جو مالیات اور دیگر شعبوں پر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ یہ غلزئی پشتون دوسرے قبائل کو اہم عہدوں تک پہنچنے کے لیے جگہ ہی نہیں دے رہے۔ جس کی وجہ سے طالبان کے وہ دیگر گروپس جو دیگر قبائل سے تعلق رکھتے ہیں وہ آہستہ آہستہ غلزئی گروہ کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔
یوں ایک طرف کٹر طالبان مخالف گروہ شمال سے جھڑپوں کا آغاز کر دیں گے اور دوسرے خطوں میں گلہ مند طالبان کچھ علاقوں اور وسائل پر قبضہ جمانے کے لیے غلزئی پشتونوں کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے۔ یوں افغانستان ایک مرتبہ پھر ایک طویل خانہ جنگی کا شکار ہو گا۔ اس سارے قضیے میں امریکہ دوبارہ اس خطے میں دخیل ہو گا اور یہ خانہ جنگی چینی اور روسی مفاد کا راستہ روکنے کے واحد زمینی حل کے طور پر ان کے سامنے ہے۔
پاکستانی حکومت کا بروقت اقدام کہ غیر قانونی افغانستانیوں کو پاکستان سے واپس بھیجا جائے ایک بہت ہی عملی فیصلہ ہے۔ اور ساتھ اگر یہ بندوبست بھی کر دیا جائے کہ ان کے دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے کے راستے بند کر دیے جائیں تو پاکستان اس بدترین معاشی اور انتظامی بحران سے نکل سکے گا۔ اور افغانستان کے متوقع خانہ جنگی کے منفی اثرات سے بھی محفوظ رہ سکے گا۔


