ڈاکٹر خالد سہیل کا نوجوانوں کے لیے معلومات سے بھرا خط


جنسی تعلیم اور شادی

محترمی و مکرمی سلیم ملک صاحب!
آپ مجھے استاد کہہ کر شرمندہ نہ کریں۔ آپ میرے دوست ہیں شاگرد نہیں۔

میں نے سوچا تھا کہ کینیڈا سے پاکستان جانے کے بعد آپ غم دوراں میں اتنے مشغول اور مصروف ہو جائیں گے کہ ادبی سماجی اور نظریاتی مکالمے کے لیے آپ کو وقت نہیں ملے گا اسی لیے آپ کا خط ایک خوشگوار حیرت لیے ہوئے ہے۔

میری شخصیت اور میری تخلیقی کاوشوں کو سراہنا میری کسی خصوصیت سے زیادہ آپ کی محبت اور اپنائیت کا آئینہ دار ہے۔ میں تو زندگی ادب اور نفسیات کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور عمر بھر سیکھتے رہنے کو زندگی کا مقصد سمجھتا ہوں۔ مجھے اس بات کا بھی شوق ہے کہ جو سیکھوں اسے دوسروں تک بھی پہنچاؤں تاکہ میرے دوست بھی اس سے استفادہ کر سکیں اسی لیے میں ”ہم سب“ پر باقاعدگی سے کالم لکھتا ہوں اور اپنے قارئین کے ساتھ اپنے خیالات و نظریات شیئر کرتا ہوں۔ میرے قارئین بھی اپنے خطوط اور سوالات سے میری حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں اور مزید لکھنے کے لیے انسپائر بھی کرتے ہیں۔ میں evolution through educationکا قائل ہوں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے نوجوانوں کو زندگی کے حقائق کے بارے میں جتنا باخبر رکھیں گے وہ اتنا ہی اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حقیقت پسندانہ حل تلاش کر سکیں گے۔

پاکستان کے روایتی و مذہبی ماحول میں جن موضوعات پر کھل کر بات نہیں ہو سکتی ان میں مذہب جنس اور نفسیات سر فہرست ہیں۔ چونکہ پاکستان میں اکثر لوگ ہر عمل کو مذہب کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اسی لیے وہ جنس کو بھی گناہ و ثواب کے حوالے سے دیکھتے ہیں اور جن لوگوں کے اعمال کو پسند نہیں کرتے ان پر فتوے لگا دیتے ہیں۔

میں نوجوانوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ انہیں جنس کا مذہب کی بجائے سائنس، طب اور نفسیات کی روشنی میں مطالعہ کرنا چاہیے اور اپنے جسم کے بارے میں جاننا چاہیے۔ اپنے جسموں سے بے خبری ہمیں نفسیاتی و سماجی مسائل کا شکار کر سکتی ہے۔

اگر ہم جنس کا سائنسی اور طبی نقطہ نظر سے مطالعہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے انسان کی جنسی زندگی پانچ مراحل، مدارج اور ادوار سے گزرتی ہے۔ میں ان مراحل کا اختصار سے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

۔ ۔
پہلا مرحلہ
GENETIC SEX

جب ماں کے رحم میں حمل ٹھہرتا ہے تو اس وقت یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ بچہ جینیاتی طور پر لڑکا ہو گا یا لڑکی۔ اگر بچے کے دونوں جنسی کروموسوم ایکس ہوں XX تو وہ بچہ لڑکی ہو گا اور اگر بچے کا ایک جنسی کروموسوم ایکس اور ایکس وائی XY تو وہ بچہ لڑکا ہو گا

۔ ۔ ۔
دوسرا مرحلہ
ANATOMICAL SEX

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ڈاکٹر اس کے داخلی اور خارجی جنسی اعضا کا معائنہ کرتے ہیں۔ جس بچے کے جنسی اعضا OVARIES AND VAGINAہوں وہ بچہ لڑکی کہلاتا ہے جس بچے کے جنسی اعضا TESTICLES AND PENIS ہوں وہ بچہ لڑکا کہلاتا ہے اور جس بچے کے اعضا غیر واضح ہوں تو ہم اسے

HERMAPHRODITE کہتے ہیں جسے عرف عام میں ہیجڑا بھی کہا جاتا ہے۔
۔ ۔ ۔
تیسرا مرحلہ
SEXUAL IDENTITY

اکثر بچے کا جسم جس جنس کا ہو اس کا احساس بھی اسی جنس کا ہوتا ہے۔ لڑکے کا جسم رکھنے والا لڑکا لڑکی کا جسم رکھنے والا لڑکی محسوس کرتا ہے۔ لیکن اگر جسم ایک جنس کا ہو اور احساس دوسری جنس کا تو ہم اسے RANSGENDERیا RANSSEXUALکا نام دیتے ہیں۔

۔ ۔ ۔
چوتھا مرحلہ
SEXUAL ORIENTATION

جب بچہ سن بلوغت کو پہنچتا تو نہ صرف اس کے جسمانی غدود فعال ہو جاتے ہیں (لڑکوں کو شہوانی خواب اور چہرے پر بال آتے ہیں اور لڑکیوں کے پستان بڑھتے ہیں اور حیض آتا ہے ) بلکہ وہ دوسرے انسانوں میں رومانوی دلچسپی بھی لینے لگتے ہیں۔ جو مردو زن دوسری جنس میں رومانوی دلچسپی لیتے ہیں ہم انہیں HETEROSEXUALکہتے ہیں۔ جو اپنی ہی جنس میں رومانوی دلچسپی لیں ہم انہیں HOMOSEXUALکہتے ہیں۔ اور جو دونوں جنسوں میں رومانوی دلچسپی لیں وہ BISEXUALکہلاتے ہیں۔

۔ ۔ ۔
پانچواں مرحلہ
SEXUAL PERFORMANCE

جب نوجوان رومانوی طور پر فعال ہوتے ہیں اور اپنے لیے محبوب اور شریک سفر تلاش کرتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ ہمبستری کرنا چاہتے ہیں۔ اکثر مرد و زن ہمبستری اور جنسی مباشرت سے محظوظ و مسحور ہوتے ہیں۔ جو مرد جنسی مباشرت نہیں کر پاتے ہم انہیں IMPOTENTکہتے ہیں اور جو خواتین مباشرت سے محظوظ نہیں ہوتیں ہم انہیں FRIGIDکہتے ہیں۔

۔ ۔ ۔
سلیم صاحب!

میں سمجھتا ہوں کہ یہ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھروں اور سکولوں میں اپنے بچوں کو ان کے جسم کے بارے میں جنسی تعلیم دیں تا کہ وہ اپنی زندگی کے ازدواجی اور رومانوی فیصلے دانشمندی سے کر سکیں۔

میں لڑکوں اور لڑکیوں، عورتوں اور مردوں کو سماجی طور پر علیحدہ رکھنا غیر فطری اور ان کی مرضی کے بغیر ان کی شادی کر دینے کو غیر اخلاقی سمجھتا ہوں۔ ایسی شادیاں اکثر اوقات کامیاب بھی نہیں ہوتیں۔

آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

مجھے آپ نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ آپ نوجوانوں کے ساتھ سیمینار کرتے ہیں مجھے ان سیمیناروں کے بارے میں بتائیں کہ ان سیمیناروں میں کن موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے اور نوجوانوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے؟

آپ کی تحریروں کا مداح
خالد سہیل
13 نومبر 2023

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik