مہدی صاحب کے لڑکے کی شادی

ہمارے عزیز مہدی صاحب کے لڑکے کی شادی خانہ آبادی اس مہینے ہونا قرار پائی ہے جس کی وجہ سے مسلسل دس روز سے ”شبانہ“ اور ”روز“ کے ساتھ جشن جاری ہے۔ ٹھیک رات 11 بجے نصف گھنٹے کے لیے ”پٹاخہ چلائی“ کی رسم بطریق احسن انجام پاتی ہے جو گہری نیند کے نتھنوں میں ”باد لہسن“ کی طرح در آتی ہے۔ اس لیے اب میں ”شرلی سنگیت“ سن کر ہی سونا بہتر پاتا ہوں۔
کل ان کے لڑکے کی بارات پر جانا ہوا۔ ہمیں یقین تھا کہ لاہور کے سب راستے ہمیں ازبر ہیں لیکن ہوا یوں کہ بالکل سامنے کی سڑک پر موجود شادی ہال چھوڑ کر الٹے ہاتھ گاڑی گھما لی اور 3 کلومیٹر بعد شادی کا کارڈ پھر سے پڑھا تو معلوم ہوا ”راوی مارکی“ تو پیچھے رہ گیا۔ گاڑی فوراً گھمائی ورنہ دریائے راوی پہنچنے کا ان دیکھا خواب پورا ہو جاتا۔
تمبو لگے ہال میں داخل ہوئے تو حال کچھ یوں تھا کہ گن کے 19 لوگ براجمان تھے اور ایک کونے میں کچھ سرجن گول میز پر کانفرنس کر رہے تھے۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سرجن نہیں بلکہ شادی ہال والوں کے خدمت گار لونڈے تھے جو سبز جالیوں سے سر ڈھانپ کر انتظامیہ کی طرف سے ”ہائی جین“ کی کی گئی تلقین کا پالن کر رہے تھے۔
3 چھوٹے بچے دو ساتھ جڑے ہوئے صوفوں کی آہنی پشت پر جمناسٹک سیکھ کر اگلے اولمپک کی تیاری کر رہے تھے جب کے دو بوڑھے انکل مجھے اور ابو کو دیکھ کر اندازہ لگا رہے تھے کہ یہ دو ”نئے“ آنے والے کن کے رشتہ دار ہیں کیوں کہ ان کے منہ تو برادری والے نہیں لگتے۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر سے آپس میں باتیں کرنے لگے، شاید ہم 5 منٹ بعد ”پرانے“ ہو گئے تھے۔
بارات چوں کہ ابھی پہنچی نہیں تھی لہذا استقبال کے طور پر ”موضع لوسیاں والا“ کی ایک مکھی نے خود آگے بڑھ کر خوش آمدید کہا اور میٹھا کھا کر واپس گھر آنے تک ساتھ نہیں چھوڑا۔
دل کو لگنے والی دھمک نشر کرتے وڈے سپیکروں کے ساتھ ڈی جے اپنے من پسند گانے چلائی جا رہا تھا جس میں ایک پنجابی گانا سر فہرست تھا۔ اس پورے گانے میں مجھے اور ابو کو صرف ”جٹ دی“ کے دو الفاظ سمجھ آ رہے تھے۔ آخر ابو نے جھنجھلا کر پوچھا ”یار یہ کوں سا گانا ہے، تم نے سنا ہے کبھی“ ۔ میرے فوری انکار پر ابو نے ”کیا مصیبت ہے یار“ والی شکل بنائی۔ قریب تھا کہ ابو ”جٹ دی“ کے آگے اپنے کچھ ذاتی الفاظ لگا کر جملہ مکمل کرتے، میں نے مہدی صاحب کے شاندار انتظامات کی جانب ان کی توجہ مبذول کروا دی۔ جٹ کی بچت ہو گئی۔
سخت کھچے ہوئے ڈھول کی بھنگڑا مائل تھاپ سنائی دی اور ساتھ بینڈ باجا بارات کے ناچتا ہجوم ہال کے داخلی دروازے پر وارد ہوا۔ چمکیلے کرتے پر بوسیدہ سویٹر پہنے توتی بجانے والا ساری زندگی کا زور لگائے ایسے سر میں تھا کہ سارے باراتی سر دھن رہے تھے۔ ”سرجنی“ جالیوں والی ٹوپیاں چڑھائے سارے بیران راوی مارکی کھانے کے برتنوں کے نیچے روئی کے چھوٹے چھوٹے گالوں کو ”آتش نمرود“ دکھا رہے تھے کیوں کہ یہ جلد ہی بجھ کر آل ابراہیم کے لیے کھانا ٹھنڈا کر دینے والی تھی۔
بینڈ والوں نے ”سوہنا لگدے علی والا“ سے لے کر ”میرے چمن کے مالی“ سے لے کر ”دانے پہ دانا“ سمیت ڈائری میں موجود ساری دھنیں بجا ڈالیں۔ میٹھے میں لب شیریں 20 فیصد لب اور 80 فیصد شیریں کا منظر پیش کر رہا تھا۔ عقلمند لوگ مال غنیمت سمجھ کر سویاں اور اشرفیاں نکال کر باقی کسٹرڈ شاید مضر صحت محلول سمجھ کر چھوڑ گئے تھے۔ خیر ”شیریں“ سے ہی دو بار معاملہ طے کیا اور دلہا صاحب کو مبارک دینے سٹیج کی طرف قدم بڑھایا۔
کالی شیروانی، لال کلاہ اور سبز امام ضامن باندھے دلہا میاں کو سعید مسرت و شادمانی دیتے ہوئے سٹیج پر سجی میز پر رکھے لب شیریں کے برتن پر نظر پڑی۔ شیریں مکمل طور پر اشرفیوں اور سویوں سے ”لب آ لب“ تھی لیکن اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ تیسری بار۔ بھئی میری شادی تھوڑی نہ تھی! خیر واپسی کی راہ لی۔ آج تقریب ولیمہ ہے۔ میرا سونے کا وقت تو اب سیٹ ہو جائے گا لیکن دلہا میاں کو اب ”وقت“ کا پتہ چلے گا۔

