عدت میں نکاح : غلطی تو مولوی کی تھی!
عرض مصنف: آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ نہ میرا تعلق مسئلہ مذکورہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے سے ہے اور نہ ان کے مخالفین سے۔ اس لئے جو کچھ پڑھیں وہ محض تصویر کا ایسا رخ ہے جو لکھنے والی کی نگاہ اور واجبی علمی بصیرت کا شاخسانہ ہے
بحیثیت پاکستانی مسلمان مجھے قوانین کی دو فہرستوں میں موجود کاموں سے دور رہنا ہوتا ہے۔ ایک وہ کام جن سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کرنے سے منع کیا ہے۔ انہیں گناہ کہتے ہیں۔ اور کرنے والا گناہ گار کہلاتا ہے۔ اسلام نے گناہوں کے بدلے سزا کے طور پر کفارہ مقرر کیا ہوا ہے۔ جیسے توبہ، جانور یا مال کی قربانی یا روزے رکھنا وغیرہ سے لے کر کوڑے مارنے سے ہاتھ کاٹنے تک کی سزا۔
کچھ کام کرنے سے مجھے ریاستی قانون روکتا ہے انہیں جرم کہا جاتا ہے۔ مثلاً چوری، قتل، زنا، اغوا یا شراب پینا وغیرہ۔ ریاستی قانون نے بھی اپنے مجرم کے لئے سزائیں مقرر کر رکھی ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر گناہ ریاستی جرم نہیں ہوتا اور ضروری نہیں کہ ہر جرم بھی گناہ ہو۔ البتہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک کام گناہ اور ریاستی جرم دونوں میں شمار ہو۔
لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی گناہ جو جرم نہ ہو اس کے بدلے میں ریاستی قانون زبردستی گناہ گار کو مجرم تصور کر کے ریاستی قانون کے تحت سزا دے۔ مثلاً مرد کا نامحرم عورت سے ہاتھ ملانا، بڑوں کی نافرمانی، روزہ بلاوجہ توڑ دینا۔ گناہ ضرور ہیں جس کا حساب کتاب انسان اور اللہ تعالی کے درمیان ہے۔ لیکن یہ جرم نہیں اور ان پر زبردستی ریاستی قانون مقدمہ چلا کر گناہ گار کو مجرم نہیں بنا سکتا۔
کسی مسلمان عورت کا عدت کے دوران نکاح کر لینا، گناہ تو ہو سکتا ہے ریاستی جرم نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ جنوری 2022ء میں ایک فیصلے میں قرار دے چکا ہے کہ اگر عورت خلع لینے کے بعد ، عدت کے دوران نکاح کر بھی لے تو نہ اسے زنا قراردیا جائے گا اور نا خلاف قانون۔ یہ گناہ تو ہو سکتا ہے جرم نہیں۔ اس شادی کو ریاست کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔ بالخصوص دسمبر دو ہزار چھ میں خواتین کو حاصل ہونے والے حقوق کی روشنی میں۔ اُس مقدمہ میں خاتون نے عدالت سے خلع ملنے کے دوسرے دن دوسری شادی کرلی تھی۔ عمران خان اور ان کی موجودہ بیوی کا پہلا نکاح لاہور ہی میں ہوا تھا اس لیے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے پہلے نکاح کو تحفظ دیتا ہے۔
نکاح ایک اسلامی فعل ہے۔ شرعی نکاح صرف اور صرف ایک زبانی عمل ہے۔ ایک مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ایک تیسرا مسلمان مرد آگے بڑھ کر دونوں کا نکاح پڑھانے کے لئے جج یا نکاح خواں کا کردار ادا کرتا ہے۔ مسلمان عورت چونکہ غیر محرم اور پردہ دار ہوتی ہے اس لئے اس کے گھر سے کسی محرم مرد (باپ دادا چچا یا بھائی وغیرہ جسے وکیل بھی کہتے ہیں ) گھر کی خواتین کی موجودگی میں دلہن کی زبانی رضامندی لیتا ہے اور مردانے میں آ کر سب کو آگاہ کر دیتا ہے۔ نکاح خواں چونکہ عموماً بزرگ ہوتا ہے وہ خود بھی لڑکی سے اس کی زبانی رضامندی لے لیتا ہے۔ دولہا سے بھی وہ زبانی رضامندی لیتا ہے اور وہاں موجود تمام لوگ اس نکاح کے گواہ ہو جاتے ہیں کہ آج سے کون سی لڑکی کس کے عقد میں چلی گئی ہے۔ یہ شرعی نکاح ہے جس میں کوئی لکھت پڑھت نہیں ہوتی۔
اسلام میں شرعی نکاح کا خاتمہ میاں بیوی کی زندگی میں تین طرح سے ختم ہو سکتا ہے۔
مرد، عورت سے تعلق ختم کر لے جسے طلاق کہتے ہیں۔ اسلام میں طلاق بھی محض زبانی فعل ہے۔ زیادہ تر مسالک کے مطابق شرعی طلاق، تین مراحل میں دی جاتی ہے۔ لیکن یہ سب زبانی کام ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ عورت، مرد سے نکاح ختم کرنے کا کہے۔ جسے خلع کہتے ہیں۔ اس کے بعد بھی مرد نے عورت کو اُسی طرح طلاق ہی دینی ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ اس پر راضی نہ ہو تو معاملہ دونوں خاندانوں کے بڑوں یا عدالت میں جاتا ہے۔ جہاں قاضی معاملہ جان کر مرد سے طلاق دینے کا کہتا ہے اور اگر مرد پھر بھی نہ مانے تو قاضی اپنے اختیار پر نکاح ختم کرنے کا اعلان کر دیتا ہے۔
نکاح ختم ہونے کی تیسری صورت یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں یا کوئی ایک کسی ایسے گناہ میں ملوث ہو جائے جس سے نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ مثلاً کوئی ایک اسلام سے خارج ہو جائے۔ ماضی میں کئی سیاستدان مذہب کے نام پر یہ فتوی دیتے رہے ہیں کہ اگر کسی مرد نے فلاں کو ووٹ دیا تو ان کا نکاح ختم ہو جائے گا۔ اور بعض اوقات پورے پورے گاؤں کے لوگوں نے دوبارہ نکاح بھی کیا اور کچھ نے اسے کوئی وقعت نہیں دی۔
تین مراحل کی طلاق کا پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں میاں بیوی الگ الگ رہنے لگتے ہیں۔ اسی طرح عورت اگر اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرتی ہے اور الگ رہنے لگتی ہے۔ تو یہ تاریخ بہت اہم ہوگی۔ کیونکہ آگے جاکر یہیں سے ممکنہ عدت کی مدت شروع ہو جائے گی۔ ضروری نہیں جس تاریخ کو تین طلاق مکمل ہو وہاں سے ہی عدت شروع ہو۔ عدت کا معاملہ صرف اور صرف اس بات کا تعین کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عورت پچھلے شوہر سے حاملہ تو نہیں۔
اسلام کی رو سے۔ چاہے طلاق ہو یا خلع۔ اگر عورت حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تک اس کا نکاح ختم ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ، عورت کے سابقہ ہونے والے شوہر کا ڈی این اے رکھتا ہے اور اس کی جائیداد یعنی وراثت میں حصہ دار ہو گا۔ اسلام بہت سارے مسائل سے عورت کو تحفظ دیتا ہے جس میں ایک بدکاری کا الزام بھی ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ جب کسی شادی شدہ عورت کے گھر بچہ پیدا ہو تو وہ اسی مرد کا بچہ تصور ہو گا عورت بچے کی پیدائش کے وقت جس کے عقد میں ہوگی۔ اسی لئے اسلام میں عورت کو لازم کیا گیا ہے کہ وہ نکاح ختم ہونے کے بعد ایک مخصوص مدت تک دوسری شادی یا نکاح نہیں کرے گی۔ جسے عدت کہتے ہیں۔
عدت صرف طلاق یا خلع کی وجہ سے ہی نہیں ہوتی بلکہ شوہر کی وفات کی وجہ سے بھی چونکہ نکاح ختم ہوجاتا ہے اس لئے عورت کو بیوگی کی عدت گزارنا پڑتی ہے۔ شوہر کے انتقال کی صورت میں منکوحہ نے قریب (130) ایک سو تیس دن (چار مہینے دس دن) بیوگی کی عدت گزارنے ہوتے ہیں (چاہے رخصتی نہ ہوئی ہو) اور اگر اس دوران یہ ظاہر ہو جائے کہ وہ اُمید سے ہے تو عدت بچے کی پیدائش تک رہے گی۔ چاہے بچہ اس کے شوہر کے انتقال کے چند گھنٹے بعد ہی کیوں نہ پیدا ہو جائے۔ اس میں سب سے اہم نکتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ بیوگی کی عدت اس تاریخ سے شروع ہوتی ہے جس دن عورت کے شوہر کا انتقال ہوا۔ اور اگر عورت کو اس بات کا علم ہی چھ مہینے یا سال کے بعد ہو کہ اس کا شوہر، سفر تجارت کے دوران یا بیرون ملک چھ مہینے پہلے فوت ہو گیا تھا۔ تو اگر وہ عورت امید سے نہ ہو تو اس کی بیوگی کی عدت کی مدت چار مہینے دس دن گزر چکی۔ نہ اس کو سوگ کی ضرورت ہے نہ عدت کی۔ لیکن طلاق یا خلع کی صورت میں یہ تاریخ، میاں بیوی کے علیحدہ ہونے سے گنی جا سکتی ہے۔ ایک سادہ سا مسئلہ ہے کہ ایک عورت کا شوہر اعلی تعلیم یا نوکری کے لئے ملک سے باہر جاتا ہے اور دو سال بعد وہاں سے طلاق بھیج دیتا ہے۔ تو عورت کو کتنی عدت گزارنی ہوگی؟ جبکہ وہ اپنے شوہر سے دو سال سے ملی ہی نہیں۔ اس کا جواب ہے، صفر دن۔
طلاق یا خلع کی صورت میں زیادہ تر علماء، عدت کی مدت، عورت کو تین دفعہ پیریڈز (حیض) آنا قرار دیتے ہیں۔ ان کا مہینوں یا دنوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اکثر مسالک میں حاملہ عورت یا حالت حیض میں طلاق دینا منع یعنی گناہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں البتہ اگر رخصتی نہ ہوئی ہو اور منکوحہ یہ جانتی ہو کہ اس کے حاملہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ تو اسے رخصتی سے پہلے طلاق کی صورت میں ”عدت طلاق“ نہیں گزارنی ہوتی۔ یہاں معاملہ بیوگی سے مختلف ہے کیونکہ بیوگی میں اسے وراثت میں حصہ بھی ملے گا۔ اسی طرح شوہر کے کافر ہو جانے کی صورت میں بھی نکاح ختم ہوجاتا ہے البتہ مسلمان عورت کو کافر شوہر سے الگ ہو کر خلع کی عدت بدستور گزارنا پڑتی ہے۔ اس عدت کے دوران اگر اس کا سابقہ شوہر واپس مسلمان ہو جائے تو وہ اپنی بیوی سے رجوع کر کے شادی اور زندگی وہیں سے گزار سکتا ہے۔ لیکن اگر اس مدت میں عورت کے تین پیریڈز (حیض) آ گئے تو وہ دوبارہ اتنی آسانی سے شادی نہیں کرسکے گا۔
نکاح اور طلاق چونکہ اسلام میں ایک زبانی عمل تھا۔ نکاح تو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں ہوجاتا تھا۔ لیکن طلاق کا ڈھنڈورا پیٹنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ یہ تعین کرنے کے لئے کہ عورت کہیں اُمید سے تو نہیں۔ اسلام میں طلاق کا ایک مسنون طریقہ ہے۔ جب عورت پیریڈز سے فارغ ہو چکی ہو تو شوہر بیوی کو بتاتا ہے کہ وہ اسے پہلی طلاق دے رہا ہے۔ یہاں سے میاں بیوی الگ الگ رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور عورت کے لئے عدت کی مدت یہیں سے شروع ہو جائے گی (جبکہ اسے ابھی مکمل یعنی تین طلاقیں نہیں ہوئیں ) ۔ مرد اب عورت کو نئے (یعنی طلاق کے بعد پہلے ) پیریڈز آنے کا انتظار کرے گا۔ سمجھیں ایک مہینہ۔ اس سے فراغت کے بعد وہ بیوی کو دوسری طلاق دے گا۔ اور پھر دوسرے پیریڈز کا انتظار۔ فراغت کے بعد تیسری طلاق۔ تین دفعہ طلاق کے بعد ان دونوں کے درمیان مصالحت یا رجوع کا امکان ختم ہو چکا۔ لیکن اس صورت میں عورت کو بدستور تیسرے اور نئے پیریڈز (حیض) کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ جس کے یعنی اب ایک مہینے بعد اس کی ”عدت طلاق“ مکمل ہو جائے گی۔ اور حاملہ نہ ہونے کی صورت میں وہ دوسری شادی کرسکے گی۔ بعض اوقات مرد حضرات جذبات میں آ کر تینوں طلاقیں اکٹھا دے مارتے ہیں جسے اکثر علماء جائز مگر گناہ قرار دیتے ہیں جس کا بارِ گناہ مرد پر ہوتا ہے۔ مگر اس کے بعد بھی عورت کو اسی طرح تین پیریڈز (حیض) کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ بہرحال خلع کا مطالبہ ہو یا طلاق، عورت کو تین حیض انتظار کرنا ہوتا ہے۔ جس دوران دوسری شادی کرنے سے اس کو اسلام نے منع کر رکھا ہے۔ وجہ وہی کہ اگر وہ امید سے ہوئی تو پیدا ہونے والا بچہ اپنے باپ کی وراثت سے محروم نہ رہ جائے اور اس کی کفالت باپ پر ہوگی نا کہ ماں پر یا نئے سوتیلے باپ پر ۔ پھر بھی اگر عورت اس دوران دوسری شادی کر لیتی ہے تو گناہ اس کے سر ہو گا۔
جس طرح بیوہ کو اگر شوہر کے انتقال کا علم، عدت کی مدت گزرنے کے بعد ہو تو اسے بیوگی کی 130 دن کی عدت نہیں گزارنی ہوتی۔ اسی طرح چونکہ نکاح کی طرح طلاق کا مرحلہ بھی زبانی ہے اس لئے اکثر علماء عدت کے دورانیہ کو گننا اور اس کا تعین کرنے کا اختیار عورت کو دیتے ہیں۔ یعنی اگر ایک شوہر نے اپنی بیوی کو ناراض ہو کر اس کے میکے بھیج دیا یا وہ خود چھ مہینوں سے اپنے ماں باپ کے پاس رہ رہی ہو یا شوہر امریکہ پڑھنے گیا اور دو سال بعد وہاں سے طلاق بھیج دی تو چونکہ عورت کو علم ہے کہ اس کے حاملہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اگر اس کے اپنے مطالبے پر یا شوہر خود ایک یا تین طلاقیں بھی بھیج دے تو بادی النظر میں وہ آخری بار شوہر سے ملنے کے بعد عدت کے تین حیض پوری کرچکی ہوگی۔ اور یوں اس پر دوسری شادی سے پہلے طلاق یا خلع کی عدت مکمل کرنا ضروری نہیں ہو گا۔ کچھ علماء پھر بھی بضد ہیں اور محض حجت کے طور پر ایک حیض اور کچھ دو حیض گزارنے کو بہتر قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا عورت کا اختیار ہے۔ اور اگر وہ حاملہ ہونے کے امکان کے باوجود عدت میں یا حمل کے دوران دوسری شادی کر کے گناہ کرتی بھی ہے تو اس کا کیا کفارہ ہو گا اسلام اس پر خاموش ہے۔ اس میں پیچیدگی صرف اسی صورت میں آتی ہے اگر عورت میں دوسری شادی کے کچھ ہی عرصے بعد حمل کے آثار پیدا ہوجائیں۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے معاملے میں چونکہ خود ان کے سابقہ شوہر کا ماننا ہے کہ ان کی بیوی کئی مہینوں سے اپنے میکے میں رہ رہی تھی۔ یا بالفرض وہ خاتون صرف اتنا کہہ دیں کہ ان کے شوہر نے چھ مہینے پہلے ہی زبانی طلاق دے دی تھی یا خاتون نے تین مہینے پہلے خلع کا مطالبہ کیا تھا۔ تو شرعی طلاق کی تاریخ عدت کی مدت گننے کے لئے تین یا چھ مہینے پہلے ہی موثر مانی جائے گی۔ بالفرض اگر عورت عدت میں جان بوجھ کر نکاح کر بھی لے تب بھی ایسے صرف دو مقدمات خلافت راشدہ کے دور میں وقوع ہوئے تھے۔ ایک میں عورت میں شادی کے کچھ عرصے بعد وضع حمل نمودار ہونے پر نئے جوڑے کو الگ کر دیا گیا تھا۔ (یہ صورت عمران خان کے مسئلہ میں پیش نہیں آئی) اور دوسرے مقدمے میں پہلے شوہر کے تین مہینے کے دوران ہی شور مچانے پر نئے جوڑے کو الگ کر دیا گیا تھا۔ اور چھ حیض انتظار کرنے کا کہا گیا تھا۔ جس دوران کچھ بھی نمودار نہیں ہوا تھا۔ یہ وقت بھی اب گزر چکا ہے۔
چونکہ نکاح اور طلاق اسلام میں تو زبانی عمل تھا مگر تعلیم اور ترقی کے بعد جیسے جیسے معاشرے حدود اور قیود کی پابندی کرنے لگے تو شادی یا میرج کے بھی قوانین بنا لئے گئے۔ جو تحریری ہوتے ہیں۔ اور ہر جوڑے کے لئے تاکید ہوتی ہے کہ وہ اگر اس ملک میں بحیثیت میاں بیوی رہنا چاہتے ہیں تو ان تحریری قوانین پر عمل کریں۔ یعنی مسلمان ہیں تو نکاح بے شک جو بھی پڑھائے۔ میاں بیوی لازماً کسی رجسٹرڈ نکاح خواں کے پاس اپنی شادی کو رجسٹر کروائیں وگرنہ ریاست ان کو بحیثیت خاندان اور ان کے بچوں کو بطور شہری قبول نہیں کرے گا۔ اس کا اسلام سے نہیں بلکہ پاکستان کے قانون سے تعلق ہے۔ کچھ جوڑے نکاح خواں کی بجائے گھر سے بھاگ کر عدالت کے ذریعہ شادی کرلیتے ہیں جسے نکاح کی بجائے کورٹ میرج کہا جاتا ہے۔ اسلامی طور پر یہ شرعی نکاح ممکن ہے نہ ہو لیکن ریاست ایسی شادیوں کو باقاعدہ مانتی ہے کیونکہ یہ ہر مذہب کے شہری کے لئے یکساں طریقہ متعین کرتا ہے۔ پاکستانی ریاست نے اسی طرح مسلمان جوڑوں کی شادیوں کی تنسیخ یعنی علیحدگی کے لئے بھی اصول مقرر کر رکھے ہیں۔ ان قوانین کو مسلم عائلی قوانین انیس سو اکسٹھ کہا جاتا ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر متعلقہ شخص مجرم تصور ہو گا ضروری نہیں گناہ گار بھی کہلائے۔ مثلاً ان قوانین کی رو سے خاوند پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ تو یہ گناہ نہیں مگر جرم ضرور ہے۔ اسی طرح 15 سال کی لڑکی کی شادی پاکستان میں جرم ہے لیکن شرعی نکاح میں جائز ہے۔ اگر نکاح خواں سے 15 سالہ لڑکی کا نکاح پڑھانے کو کہا جائے تو وہ زبانی نکاح تو پڑھا دے گا مگر اسے رجسٹر نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ قانوناً جرم ہے یا جوڑے کے والدین کو شرعی نکاح کے بعد رجسٹریشن کے لئے تین سال انتظار کا کہے گا۔
یوں پاکستان میں نکاح جو بھی پڑھائے ریاست کو اس سے سروکار نہیں لیکن جو شخص نکاح رجسٹر کرے گا اس کو متعدد باتوں کی تصدیق کرنا لازمی ہے۔ مثلاً کیا شادی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان ہی ہو رہی ہے۔ دو مرد، دو عورتوں یا کسی مخنث کے ساتھ تو نہیں ہو رہی۔ مرد و عورت 18 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہوں۔ نکاح خواں کے لئے یہ بھی لازمی ہوتا ہے کہ وہ دونوں کا شناختی کارڈ اور مذہب بھی چیک کرے۔ اور عمر کے علاوہ ان کی ازدواجی حیثیت کا بھی تعین کر لے۔ اگر مرد پہلے سے شادی شدہ ہے تو اس کی موجودہ بیوی کا اجازت نامہ موجود ہو یا اس کو دی جانے والی طلاق کے کاغذ یا فوتیدگی کا ثبوت۔ اگر عورت کسی کی بیوی رہی ہے تو سابقہ خاوند کے فوتیدگی کا کاغذ اور خلع یا طلاق کی صورت میں کاغذ۔
اب یہاں ایک اور دل چسپ صورت پیدا ہوتی ہے۔ نکاح خواں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے دلہن کے ماموں یا اس کی سہیلی سے پوچھا تھا تو اس نے زبانی بتایا تھا کہ یہ لڑکی ہے یا اسے طلاق کو دو سال ہوچکے ہیں۔ چونکہ رجسٹرڈ نکاح ایک تحریری عمل ہے اس لیے مولوی صاحب کو جو ہزاروں میں فیس ملتی ہے یہ سب چیک کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ اور خلاف ورزی کی صورت میں خود اس کی رجسٹریشن منسوخ ہونے کے ساتھ اس کو سزا بھی ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے۔ یہاں یہ پھر ضروری ہے کہ عدت کا پاکستان کے عائلی قوانین سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ پاکستان کے عائلی قوانین کی رو سے تین طلاقیں ایک ساتھ دی ہی نہیں جا سکتیں۔ شوہر پہلے متعلقہ کونسل کی معرفت پہلی طلاق بھجواتا ہے پھر دوسرے مہینے دوسری اور پھر تیسری۔ اگر وہ اس کے برعکس کرے تو شرعی معنوں میں تو طلاق ہوجاتی ہے مگر کونسل کے کاغذات میں تین مہینے گزرے بغیر طلاق موثر نہیں ہوتی۔ اور یہ بات میاں بیوی کو علم ہو یا نہ ہو نکاح خواں کو علم ہوتا ہے۔ نادرا، ضلعی کونسل کا طلاق سرٹیفیکیٹ دیکھے بغیر عورت کے ریکارڈ سے شوہر کا نام خارج نہیں کرتی۔ عمران خان کے مسئلے میں خود مولوی سعید گناہ گار تو نہیں لیکن قانوناً مجرم کہلائیں گے کہ انہوں نے بیگم بشری کے طلاق کے کاغذات دیکھنے پر اصرار کیوں نہیں کیا۔ اگر خاور مانیکا کے علم میں یہ بات آ گئی تھی کہ سابقہ بیوی نے عدت کے دوران نکاح کر لیا ہے تو انہوں نے اس وقت شور کیوں نہیں مچایا یا قانون کو آگاہ کیا۔
بہرحال عدالت میں چلنے والا یہ مذاق ختم ہونا چاہیے ایک مقدمہ جو پہلی پیشی پر ہی ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ زبردستی ایک جوڑے کو گندا کرنے کے لئے کھینچا جا رہا ہے۔ اگر خاتون اپنے حساب سے سمجھتی تھیں کہ وہ امید سے نہیں تو عدت کی مدت آخری طلاق کے بعد ایک حیض کافی تھی کیونکہ وہ کئی مہینوں سے اپنے خاوند سے الگ رہ رہی تھیں۔
طلاق شرعی طریقے سے ایک ایک حیض کے بعد وقفے وقفے سے دی جائے یا عائلی قوانین کے تحت ایک ایک مہینے کے بعد ، دونوں صورتوں میں مدت عدت تیسری طلاق کے بعد ایک حیض ہوگی نا کہ تین مہینے۔ یوں نومبر میں دی جانے والی آخری طلاق کے بعد خاتون کو ایک حیض یا مہینہ دسمبر تک انتظار کرنا تھا۔ مجھے یقین ہے خاور مانیکا نے طلاق شرعی اور قانونی طریقے سے ہی دی ہوگی۔ اور اگر یہ خلع تھی تو عدت کا تعین اختیار خاتون کو ہو گا۔
عورت کسی بھی حال میں پہلی (یا تین اکٹھی) طلاق کے دو حیض کے اندر شادی نہیں کر سکتی کیونکہ اس دوران اس کا موجودہ شوہر اس سے دوبارہ رجوع یا نکاح کر کے معاملہ بدستور ٹھیک کر سکتا ہے۔ اور اگر عورت اس دوران شادی کر لے تو شوہر عدالت سے رجوع کر کے زنا کا مقدمہ کر سکتا ہے لیکن تین حیض یا تین طلاق کے بعد اس کے پاس کوئی دعوی نہیں رہتا۔ طلاق کوئی ایسا انہونا کھیل یا گناہ نہیں ہے۔ دور رسالت ﷺ میں بھی سینکڑوں صحابہ اکرام اور صحابیات کی طلاقیں اور خلع کے واقعات ہوئے تھے۔ دور عمر رض میں جو دو واقعات عدت میں نکاح کے سامنے آئے وہ تین طلاقوں کے مکمل ہونے سے پہلے دوسری شادی کرنے کی وجہ سے پیش آئے۔ اور اس دوران خاتون بدستور پچھلے شوہر کی منکوحہ تھی۔ تیسری طلاق کے بعد یہ حق ختم ہوجاتا ہے اور مطلقہ کو محض ایک حیض انتظار کرنا ہوتا ہے۔
اگر جوڑے کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ رجسٹرڈ نکاح میں کوئی مسئلہ آ سکتا ہے تو انہوں نے اس غلطی کو ٹھیک کر لیا۔ اس کے بعد مشکل کیا ہے۔ اس سارے گند میں سب سے بڑے مجرم تو خود مولوی سعید ہیں جنہوں نے خاتون یا اس کے وکیل سے کاغذات مانگے بغیر کیسے معاملات کا تعین یا فرض کر لیا۔ ممکن ہے خاتون ہندو ہوتیں عمران مسلمان یا بشری وٹو سے شادی کرنے والا عمران نامی شخص قادیانی ہوتا۔ ہر بات کی تصدیق کرنا مولوی سعید پر لازم تھا ناکہ کسی عورت کے بیان پر اعتبار کرنا۔ شرعی نکاح جو زبانی ہوتا ہے اس میں ایسی غلطیاں کی جا سکتی ہیں لیکن رجسٹرڈ نکاح میں کوئی گنجائش نہیں۔ اگر مولوی سعید کے خیال میں عدت پوری نہیں ہوئی تھی تو انہیں پہلا ہی نہیں دوسرا نکاح بھی نہیں پڑھانا چاہیے تھا۔ کیونکہ عدت میں دوسرے نکاح کا اگر شک ہو تو دور عمر رض کے فیصلے کے مطابق مدت عدت چھ حیض ہوجاتی ہے۔ کیا مولوی سعید کو اس بات علم نہیں تھا؟ لیکن جب جوڑے نے دوبارہ نکاح کر کے کسی ممکنہ خرابی کو درست کر لیا تھا تو اب کیا مشکل ہے۔ موجودہ شوہر عمران یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہم سے کچھ ایسا گناہ ہو گیا تھا جس کے بعد ایک مفتی نے نکاح دوبارہ کرنے کو کہا۔ بعض لوگ تو قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے تین تین چار مرتبہ نکاح کرلیتے ہیں۔
بیگم عمران کے پچھلے شوہر کے بیانات بھی محض جھوٹ کا پلندا ہیں اور ان کے اپنے اس انٹرویو سے لَگا نہیں کھاتے جو انہوں نے گلف نیوز کو جنوری 2018ء میں دیا تھا۔ یا وہ اُس وقت جھوٹ بول رہے تھے یا اَب بول رہے ہیں۔ اور دونوں صورتوں میں وہ جھوٹا شمار ہوں گے اور ان کی گواہی کسی عدالت میں قابل قبول نہیں۔ میری ناقص رائے میں خاتون نے اپنی عدت مکمل کرلی تھی۔ اگر وہ صرف یہ بیان دے دیں کہ انہوں نے شوہر سے خلع مانگی تھی (چاہے کسی کی معرفت) اور اس کے بعد ان کا شوہر سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ تو عدت تو ان کی نومبر یا دسمبر میں ہی پوری ہو چکی تھی۔ اور نومبر کے بعد سے بھی اگر تین حیض عدت کی مدت بنتی تھی جسے گزرے ساڑھے پانچ سال ہونے کو ہیں۔ اور یہاں پھر شروع میں بتایا گیا مسئلہ سامنا آتا ہے کہ عدت میں نکاح، گناہ تو ہو سکتا ہے ریاستی جرم نہیں جس کے لئے مقدمہ چلایا جا سکے۔ اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو سیشن کورٹ کیا سزا دے گا کیونکہ ہائی کورٹ تو پہلے ہی اسے مقدمہ ہی نہیں مانتا۔
موجودہ مسئلہ سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے نام نہاد مولوی اسلام اور قوانین کو کتنا جانتے یا اس پر عمل کرتے ہیں اور ہماری عدالتوں میں کیوں مقدمات سالہا سال چلتے رہتے ہیں جن کی تعداد اب بھی پانچ دس لاکھ سے زیادہ ہی ہوگی!
نوٹ: اس مضمون کے جواب میں مفتی حضرات یا وکلا کسی اسلامی یا قانونی نکتے کی وضاحت کرنا چاہتے ہوں، تو ہم سب کے صفحات ان کے لیے حاضر ہیں: مدیر



I penned this writeup few days ago, thou i was convinced from day one about its fate
Yesterday, the case was taken back by the applicant and today it is uploaded here
But today Khawar maneka filed case ag couple on same grounds and in light of article the fate of the case can be judged well by readers
The 65 yrs old Khawar Maneka later marry the class mate of one of his daughter
So what he wanted to achieve from this case is beyond my imagination
A lady or his wife is not his slave Why he divorced her? and recalling her after 6 years
Is this some Halala happened in last 6 years after which Imran will get another divorce and he will marry his old lady
My fingers are crossed
مانیکا کا طلاق مامہ اور اگراسنے دوسری شادی اھست ۲۰۱۸ میں سمیرا آغا سے کی تھی اسکی کاپی ڈھونڈرہا ہوں کیونکہ اس سے کھیل دلچسپ ہوجائے گا۔
میں جامعہ ازہر، مدینہ میں دارالافتاہ اور بنوری ٹائون کے فتوہ چیک کئے ہیں۔ عدت میں نکاح دوسرا مسئلہ ہے لیکن عدت گزرنے کے بعد طلاق مستقل ہوجاتی ہے چاہے ایک ہو یا دو۔
اسلئے قانونی طور پر یہ مقدمہ اب میں کروں قاری حنیف یا خاور مانیکا۔۔۔ سب کی حیثیت ایک ہی ہے۔ اور تیکنیکی بنیادوں پر مقدمہ چل ہی نہیں سکتا۔
شرعی طلاق کی صورت میں صرف ایک ماہواری مزید انتظار کرنا ہوتا ہے۔
طلاق کے بعد عدت کے دوران مانیکا رجوع کرکے دوبارہ نکاح کرسکتے تھے ۔ لیکن محترمہ بزری انکی نوکر یا کنیز نہیں تھیں کہ یہ دوبارہ نکاح کو جاتے اور وہ راضی ہوجاتیں۔ اس لئے یہ تصور کرنا کہ یہ انکا حق تھا۔ غلط تصور ہے۔ یہ عورت کا اختیار ہے وہ دوبارہ نکاح کرے یا نہ کرے یا اپنی نئی شرائط اور پہر پر نکاح کرے۔
مانیکا کا طلاق نامہ اور اگراسنے دوسری شادی اگست ۲۰۱۸ میں سمیرا آغا سے کی تھی میں ان دونوں کی کاپی ڈھونڈرہا ہوں کیونکہ اس سے کھیل دلچسپ ہوجائے گا۔
میں نے جامعہ ازہر، مدینہ میں دارالافتاہ اور بنوری ٹائون کے فتاوی کے ریکارڈ چیک کئے ہیں۔ عدت میں نکاح دوسرا مسئلہ ہے لیکن عدت گزرنے کے بعد طلاق مستقل ہوجاتی ہے چاہے ایک ہو یا دو۔
اسلئے قانونی طور پر یہ مقدمہ اب میں کروں قاری حنیف یا خاور مانیکا۔۔۔ سب کی حیثیت ایک ہی ہے۔ اور تیکنیکی بنیادوں پر مقدمہ چل ہی نہیں سکتا۔
شرعی طلاق کی صورت میں صرف ایک ماہواری مزید انتظار کرنا ہوتا ہے۔
طلاق کے بعد عدت کے دوران مانیکا رجوع کرکے دوبارہ نکاح کرسکتے تھے ۔ لیکن محترمہ بشری انکی نوکر یا کنیز نہیں تھیں کہ یہ دوبارہ نکاح کو جاتے اور وہ راضی ہوجاتیں۔ اس لئے یہ تصور کرنا کہ یہ انکا حق تھا۔ غلط تصور ہے۔ یہ عورت کا اختیار ہے وہ دوبارہ نکاح کرے یا نہ کرے یا اپنی نئی شرائط اور پہر پر نکاح کرے۔
دوسرا ناجائز تعلقات یا زنا کا الزام بہت بھیانک ہے۔ انکے پاس گواہ موجود نہیں اور اگر واپس مقدمہ ہوا تو یہ لمبے پھنسیں گے اور انہیں پھنسنا بھی چاہئے۔ اینکر اور دوسرے افراد کو بھی سوچ سمجھ کر الزام لگانا ہوگا۔ گواہان یا عورت کے حاملہ نہ ہونے کی صورت میں الزام نوکر لظیف کی گواہی سے ثابت نہیں ہوگا۔