وقفے کے بعد پھر بمباری اور بربادی شروع ہو جائی گی


آگے آتی تھی حال دل پے ہنسی۔ اب کسی بات پر نہیں آتی

مرزا غالب کا یہ شعر ہمارے جیسے بے طاقت ایکٹوسٹس کے لیے ہے ہمارے جیسے جو ساری عمر حق و صداقت کی بات کرتے رہے اور سچائی کا ساتھ بنا کسے صلے یا ستائش کے کرتے رہے اور پھر انھیں معلوم ہوا یا ان پر انکشاف ہوا کہ بہت کچھ دھوکہ تھا انسانی حقوق کی سیاست اور ایلیٹ کیپ چر کی کے سمبندھ کی بہت دیر سے سمجھ آئی اور تب قلب و ذہن کی تکلیف میں بے حد اضافہ ہوا

اس کی وجہ یہ تھی کے ہمارے جیسے نان الٹیس سب کچھ جاننے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتے تھے ماسوائے اس کہ کے یا تو وہ ڈپلومیسی سے کام لے کر نام نہاد ایلیٹ ایکٹ و سیٹس کو ان کے جعلی ایکٹ و ازم پر داد دیں یا نکتہ اعتراض اٹھائیں کھلی دشمنی مول لیں اور معتوب ٹھہریں

میں نے وضع داری اور تمیز کا دامن کبھی نہیں چھوڑا لوگوں پر نکتہ چینی نہیں کی ان لوگوں پر بھی نہیں جنھوں نے اپنی پوزیشن کے زعم میں مجھے ذاتی طور پر بے انتہا دکھ دیا ہے اور میرے کیریئر کو تہس نس کرنے کی کوشش بھی کی

لیکن میں ایشوز کے حوالے سے سخت موقف جو میرے نزدیک اصولی اور منصفانہ موقف ہوتا ہے اختیار کرتی رہی ہوں اور ایسا کرنے کو ہی درست جانتی ہوں

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنی اصلاح کی قائل نہیں اگر دلیل سے حقائق سے کوئی میرا موقف تبدیل کر سکے تو میں ایسا ضرور کرتی ہوں زندگی کی یونیورسٹی کی طالبہ ہوں سیکھنے اور دوبارہ سیکھنے اور نئی باتیں چاہے ٹیکنالوجی کی ہوں یا سوشل کنٹریکٹ کی ان کے بارے میں جاننے پر یقین رکھتی ہوں

زندگی میں انگنت باتیں جو باوجود کوشش کے بھی سمجھ نہ آ سکیں وہ ایلٹسٹ کونسنسس ہے

اگر فمنسٹس اشرافیہ کے اتفاق رائے کو رد نہیں کرتے اور اس کے خلاف مزاحمت نہیں کرتے تو کیا وہ فمنسٹس ہیں؟

اسی حوالے سے ڈونرز اور عالمی سرمایہ کاروں کے ڈرافٹ کیے گئے کئی ایجنڈا آئٹمز کے خلاف رہی
سلیکٹو مزاحمت اوراڈواکسی کو ہمیشہ چیلنج کیا اور نتائج بھی بھگتے

ابھی تک طاقتور حلقوں کی زبان لفظوں کے انتخاب پر مستند ہے ان کا فرمایا ہوا کی عملی تفسیر بنا ہوا ہماری سول سوسائٹی کا ایک بڑا حصہ جو انسانی ’نسائی اور بچوں کے حقوق کا بھی رکھوالا سمجھا جاتا ہے‘ میری محدود سمجھ سے بلا تر ہے اس کی ایک مثال اور آج کل کے حالات بلکہ سانحات جیسے کے غزہ میں جاری لائیو نشر کی جانے والی مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی بھی شامل ہے

جنگ کے اصول کیا ہوتے ہیں؟ کیا کمزوروں کو مارنا جنگ ہے اور کیا جنگ بھی کوئی اصولی حرکت ہے؟ یہ جنگ میں انسانی ہمدردی کا وقفہ کیا ہوتا ہے؟ ابھی ان سطروں تک ٹائپ کیا تھا کے بریکنگ نیوز آ گئی۔ مبارک ہو ریاست فلسطین میں پانچ دن کی عارضی جنگ بندی جس کو اقوام متحدہ کی لغت میں وقفہ کہا جاتا ہے ہو گی

سمجھ نہیں آیا پھر کیا ہو گا؟ بمباری اور بربادی دوبارہ الجزیرہ کے توسط سے براہ راست دکھائی جائی گی اور ہمارے ایلیٹ کلب کے ممبران مہنگے ترین شماغ کیفیہ اسکارف زیب کئیے نظر آئن گے اور استہزائیہ انداز میں ہمارے جیسے بے نوا سماجی کارکنان سے پوچھیں گے کہ آپ احتجاجی مظاہروں میں نظر کیوں نہیں آتے

ابھی تک کسی بڑے نام نے کھل کر دہشت گردی کا نشانہ بننے والی امن کے نوبل اعزاز کی مالک کروڑوں نوجوانوں خاص طور پر بچیوں کے لیے رول ماڈل ملالہ کی خاموشی کو تشویش یا مایوسی کی نظر سے نہیں دیکھا

کسی نے ہمارے دانشوروں کو نہیں للکارا کہ وہ دنیا میں جاری جنگی جرائم پر اپنا غصہ کیوں نہیں ظاہر کر رہے

کاش نوجوان اور ہمارے جیسے کئی سیزنڈ ا کٹی وسٹس بھی اس ڈف لک شن کو بھانپ سکیں
ہمارے مقبول ٹی وی اینکرز اور ٹویٹر اسٹار صحافی کبھی اس زاویے سے بھی ان کو پرکھیں
مگر پورا سچ کون بولے اور کیوں بولے؟
پھر بھی بہت سے اور بہت سوں کے پول کھل رہے ہیں
جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا
کاش ان مراعات یافتہ طبقات کو پتہ ہو کے نام نہاد دانشوری ’سوشلزم اور مزاحمت کی حقیقت کھل چکی ہے

کاش یہ بڑے لوگ اپنے پرویلج کو مفاد عامہ کے لیے مخلص ہو کر استعمال کریں جس سے مظلوم ’محکوم‘ مجبور ’اور بے بس انسانوں کا بھلا ہو سکے نہ کہ ان کو ان کے اہل عیال کو مزید شہرت‘ ایوارڈز اور دیگر فوائد حاصل ہوں

مصلحت اور منافقت میں رواداری اور بزدلی میں فرق اور فاصلہ ہے

Facebook Comments HS