ہمیں تو انگریزی لے ڈوبی
میرا کام ختم ہو چکا تھا۔ گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ سندھو صاحب یعنی محمد عمر سندھو نے میرا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا۔ کہنے لگے : چائے پیتے جاؤ۔ میں نے ایک کپ تمہارے لیے بچا رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ اب تو گھر جانے کی تیاری ہے۔ آپ کسی اور دوست کو چائے سے مستفید کیجیے۔ کہنے لگے : تیاری تو آخرت کی ہوتی ہے میاں! جو تم یقیناً کر رہے ہو۔ میرے پاس بیٹھو۔ میں ناچار بیٹھ گیا۔ کپ ہاتھ میں لے کر گھونٹ گھونٹ چسکیاں لگاتا رہا اور سندھو صاحب کو پرچوں کی جانچ کرتے ہوئے دیکھنے لگا۔
سندھو صاحب بڑے مزے کے آدمی ہیں۔ ستر کے پیٹے میں ہیں اور پچاس کے دکھائی دیتے ہیں۔ کھانا پیا جاٹوں والا اور رہن سہن درویشوں ایسا۔ اپنی حرکات و سکنات سے عجیب و غریب جبکہ خیالات و افکار سے پر اثر اور دل میں گھر کر جانے والے۔ انگریزی کے پرچوں کی پڑتال کر رہے تھے۔ چائے پیتے ہوئے میں نے کہا کہ سندھو صاحب کسی بچے کو پاس بھی کر دیں۔ جب سے بیٹھا ہوں۔ دیکھ رہا ہوں کہ پانچ، سات، دس نمبر سے کوئی بچہ آگے ہی نہیں بڑھ رہا۔ آپ جان بوجھ کر فیل کیے جا رہے ہیں کہ ہمارے چشم و چراغ کے پرچہ جات ہی میں کوئی دم خم نہیں ہے۔
سندھو صاحب نے پیپروں کا بنڈل مجھے تھما دیا اور کہا کہ آپ ذرا، ورق گردانی کر کے دیکھیے۔ ہو سکتا ہے آپ کی نظر میں کسی لائق اور ہونہار طالب علم کا پرچے کو چھو لے جو ممتحن کی حیثیت سے میری کی گئی پل سراطی کسوٹی پر پورا اتر کر خود کو ثابت کر دے یعنی پاس ہو جائے۔ پچیس پرچوں والا پیکٹ ہاتھ میں تھام کر فرداً فرداً ایک ایک پیپر کو جب سرسری دیکھا۔ میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میں تو جیسے سکتے کے عالم میں چلا گیا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ پچیس پیپر میں شاید کوئی ایک بچہ ہو جس نے تین سوال حل کیے ہیں۔ سب کے سب ایک ہی منزل کے راہی دکھائے دیے۔ سندھو صاحب نے میری سنجیدگی کو بھانپ لیا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ میں نے کہا تھا، نا! کہ، یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجیے، اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔ ہا ہا ہا۔
میں نے شکیل صاحب سے کہا کہ یار! سندھو صاحب تو کسی کو پاس نہیں کر رہے۔ آپ کے ہاں کیا صورتحال ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ یہاں اس سے بھی بری حالت ہے۔ سندھو صاحب تو دعا اور منت سماجت سے متصل بچوں کی تحریر پڑھ کر رحم کھا لیتے ہیں اور دو چار اضافی نمبر دے جاتے ہیں۔ میرے ہاں تو سو پیپر میں فقط پانچ چھے بچے ہوں گے جو چالیس فیصد نمبر لے رہے ہیں۔ میں نے چائے کا کپ رکھا دیا۔ انگریزی اساتذہ کے چہروں پر چھائی اداسی اور اضطراب کو محسوس کرتے ہوئے دوبارہ سندھو صاحب کی طرف رجوع کیا۔
انھیں مخاطب کر کے پوچھا کہ سر! ہم تو اردو زبان سے متصل ہیں۔ ہمارے بچے تو کچھ نہ کچھ لکھ لیتے ہیں اور پاس بھی ہو جاتے ہیں لیکن انگریزی میں اتنی مایوس کن صورتحال کیوں ہے؟ سندھو صاحب نے کہا کہ شکیل صاحب کے پاس چلتے ہیں وہ ایم فل (انگریزی) ہے اور مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ وہ بتائے گا کہ کیا وجہ ہے؟ ہم دونوں اٹھ کر شکیل کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ نوجوان! آپ انگریزی کے استاد ہیں۔ آپ بتائے کہ بچے فیل کیوں ہو رہے ہیں؟
کیا آپ سکول اور کالجز میں پڑھاتے نہیں ہیں؟ کیا آپ کو خود بھی انگریزی آتی ہے کہ نہیں؟ کیا آپ نے خود شوق سے انگریزی سیکھی تھی یا محض ملازمت کے حصول کے لیے اس طرف آ نکلے؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان پچھتر برس سے انگریزی کے غلبے کو توڑنے میں ناکام رہا ہے اور یہاں انگریزی کے پرچے میں غلبہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟ سندھو صاحب نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا کہ بس، بس! آپ چپ رہو میاں۔ آپ نے تو انگریزی کے بہانے الٹا ہمیں جھاڑ دیا ہے۔
یہ کیا بات ہوئی کہ ہم پڑھاتے نہیں ہیں اور ہم نے انگریزی کو خود کتنا پڑھا ہے اور اس میں ہمارا ذاتی شوق ہے کہ نہیں۔ میں خاموش ہو گیا۔ حفیظ بٹ صاحب، نسیم اور افتخار نے میری طرف دیکھا۔ میں شرمندہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ شکیل نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ ہمارے بچے سوشل میڈیا کی وجہ سے بہکا دیے گئے ہیں۔ کووڈ۔ 19 کے بعد موبائل ہر بچے کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ موبائل کے لایعنی اور بے سود استعمال کی وجہ سے بچے اب پڑھنے سے کتراتے ہیں۔
ان کے پاس دنیا جہان کی ممنوعہ ویب گاہوں کی ایکسس موجود ہے۔ یہ دنیا بھر کی معلومات رکھتے ہیں لیکن پڑھنے کے نام پر انھیں موت پڑتی ہے۔ موبائل سے اگر اس نسل کا چھٹکارا ممکن ہو جائے تو بات بن سکتی ہے۔ بچے بہت ایڈیٹ ہو گئے ہیں۔ یہ بت میزی کی حد تک اساتذہ سے منفی رویہ رکھتے ہیں۔ جنسی اشغال و افعال سے متصل حرکات و سکنات اور تلذذ آمیز جنسی گفتگو میں جی خوش کرنے کی دھن میں رہتے ہیں۔ والدین نے بچوں کو مار نہیں پیار کے ایجنڈے کے تحت اتنا پیمپر کر دیا ہے کہ ذرا سا کسی بچے کو ڈانٹ دیں تو فوراً والدین کو بلا لیا جاتا ہے اور ہماری شکایت ہو جاتی ہے۔
آپ بتائیے کہ جب بچے کو ہم کچھ ہی نہیں سکتے تو یہ خود بہ خود کیسے پڑھ سکتے ہیں؟ استاد کو روحانی باپ کہا گیا ہے۔ اب یہ رتبہ ان سے چھین لیا گیا ہے۔ اب یہ ریسورس پرسن ہیں۔ اب یہ گویا کرائے کے ٹٹو ہیں۔ شکایت کی صورت میں نجی تعلیمی اداروں میں بچہ سکول میں رہتا ہے اور استاد باہر نکال دیا جاتا ہے۔ ہر چیز کی ایک قیمت طے کر دی گئی ہے۔ استاد اس مارکیٹ میں ایک سستا پراڈکٹ ہے جس کی کوئی ویلیو نہیں ہے۔ سندھو صاحب نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پچاس برس سبھی مضامین کو پڑھایا ہے۔ گزشتہ دس برس سے جو تباہی ہمارے معاشرے میں جدیدیت کے نام پر ہوئی ہے ؛اس نے ہر چیز کو تلپٹ کر دیا ہے۔ اب بچے استاد کو ایک فضول اور لایعنی سی چیز سمجھتے ہیں۔ میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ ہمارے کیمونٹی میں ایسے اساتذہ ضرور ہیں جو کلاس میں نہیں آتے اور نہ ہی بچوں کو درست طریقے سے پڑھاتے ہیں۔ ایسے نکمے، فرض سے غافل اور ہڈ حرام کرداروں کی تعداد بہت کم ہے۔ ہم ویسے ہی بدنام زیادہ ہیں۔ جہاں تک انگریزی کا سوال ہے۔
ہمیں انگریزی بالکل آتی ہے لیکن ہم کیا کریں کہ ہمیں پڑھانے ہی نہیں دیا جاتا۔ بے تکا سا سلیبس بنایا گیا ہے اور اس میں ٹیچنگ میتھڈالوجی کے نام پر آئے روز تجربات کیے جاتے ہیں۔ غیر ملکی فنڈنگ کی صورت میں ہمارے معاشرے کے ماحول، رہن سہن، پس منظر، تہذیب و ثقافت اور تمدن کو نظر انداز کرتے ہوئے سلیبس وضع کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں ستر فیصد اسلام کو داخل کر رکھا ہے۔ ہر چیز میں اسلام نے آنا ہے۔ انگریزی ایک زبان ہے۔ اس کو زبان کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے۔ اس میں اسلامی شخصیات کے چیپٹر داخل کر کے ہمیں انگریزی میں بھی مذہب ہی کی تبلیغ کا تاثر دیا جاتا ہے۔ اردو، انگریزی، پنجابی، سرائیکی، سندھی وغیرہ زبانیں ہیں۔ ان زبانوں کو زبانوں کی طرح پڑھایا جائے۔ زبان میں جی ٹی ایم میتھ ایک فضول چیز ہے۔
میں نے کہا کہ یہ تو مسائل ہی مسائل ہیں۔ ان کا کوئی حل بھی ہے کہ نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے مڈل کلاس کے بچے جو سرکاری اور نان برانڈڈ نجی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ وہ کم از کم اتنی انگریزی سیکھ لیں کہ ان کا گزارا ہو جائے۔ دونوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ انگریزی کو انگریزی کی طرح پڑھانے دیا جائے۔ ایک خاص طریق تدریس اور سلیبس کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ سلیبس میں اسلام، تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے متصل سطحی اور بے معنی مواد کو کم رکھا جائے جبکہ زبان کی قواعد، انشا، لسانیات اور ادبیات سے متصل فن پاروں کو زیادہ سے زیادہ جگہ دی جائے۔ سننے، دیکھنے، پڑھنے اور لکھنے کی مہارت پر توجہ عملی سرگرمیوں سے متصل فطری ماحول کی صورت بچوں کو بہم پہنچائی جائے۔
اساتذہ کو ہر سال دو ہفتہ کی ٹریننگ دی جائے اور ہر تین سال بعد ان کا پیشہ ورانہ امتحان لیا جائے۔ ناکام رہنے والے اساتذہ کی پرموشن روک لی جائے جبکہ اچھی کارکردگی دکھانے والوں کی تحسین کی جائے۔ مزید یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کو مقدس پیشے سے منسلک ہونے کا طعنہ نما اعزاز دے کر بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رکھے۔ ساری قربانیاں ہم نے نہیں دینی۔ ترقی یافتہ ممالک نے ایجوکیشن سیکٹر کو بجٹ میں سب سے مقدم رکھا ہے۔
ہمارے ہاں اس فوقیت کا نام و نشان نہیں ہے۔ سندھو صاحب نے کہا۔ بات ختم یوں ہوتی ہے کہ حکومت چاہتی ہی نہیں کہ ہمارے بچے پڑھ جائیں۔ انھیں خوف ہے کہ اگر یہ پڑھ گئے تو ہماری سیاست دفن ہو جائے گی۔ قیمے کے نان پر ووٹ دینے والا دلائل اور بیانیے پر ووٹ دینے کا سوال کرے گا۔ ہم تو انھیں بے وقوف بنا کر ملکی وسائل پر قابض رہتے ہیں۔ یہ ہمارا کاروبار بند کر دیں گے۔ یہ ایسے ہی ٹھیک ہیں۔ انھیں جہالت کی لاٹھی سے ہانکا جائے تو یہ ٹھیک رہتے ہیں اور ہمارے آگے دم ہلاتے رہتے ہیں۔ مجھے مرزا محمودؔ سرحدی کا قطعہ یاد آ گیا
؎ اے ساقی گل فام برا ہو ترا تو نے ؍؍باتوں میں لبھا کر ہمیں وہ جام پلایا
یہ حال ہے سو سال غلامی میں بسر کی؍؍ اور ہوش ہمیں اب بھی مکمل نہیں آیا


