ایٹم بم چلا دو۔ پھر کیا ہو گا؟


غزہ میں خون ریزی جاری ہے۔ روزانہ انسانی المیوں کی نئی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ اس تنازع نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اور کئی ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جو کہ پہلے ابہام کی دھند میں پوشیدہ تھے۔ اس کالم میں ان میں سے صرف ایک پہلو یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال پر تبصرہ کیا جائے گا۔

جب یہ جنگ شروع ہوئی تو اسرائیلی کابینہ کے ایک رکن امیچے الیاہو (Amichay Eliyahu) نے یہ بیان جاری کیا کہ غزہ کے مسئلہ کو حل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ غزہ پر ایٹم بم گرا کر وہاں کی تمام آبادی کو ختم کر دیا جائے۔ یہ صاحب انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت جویش پاور پارٹی کے لیڈر ہیں۔ جب اس بیان پر شور مچا تو ان صاحب نے بذریعہ ٹویٹ یہ وضاحت جاری کی کہ وہ محض تمثیلی زبان میں بات کر رہے تھے۔ خاکسار یہ سمجھ نہیں سکا کہ ایٹم بم کا تمثیلی استعمال کس طرح کیا جا سکتا ہے؟

اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ امیچے الیاہو اور ان جیسے خیالات کے صاحبان کا خیال ہے کہ جوہری بموں کی جنگ میں فوری طور پر تباہی ہوگی اور جو بد نصیب نشانہ بنیں گے وہ ختم ہوجائیں گے اور اس کے بعد باقی دنیا اپنی معمول کی زندگی گزارنا شروع کر دے گی اور ان جیسے سیاستدان اس بارے میں جدید سائنسی تحقیقات سے واقف نہیں ہیں۔

سابق امریکی صدر ہیری ٹرومین تاریخ کے وہ واحد سربراہ حکومت ہیں جنہوں نے ایٹم بم گرانے کے احکامات جاری کیے تھے۔ جب انہیں یہ اطلاع ملی کہ ایٹم بم نے ہیروشیما کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے تو اس وقت یہ صاحب ایک بحری جہاز میں سفر کر رہے تھے۔ ٹرومین اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے خود جا کر جہاز کے عملہ کو یہ خوش خبری سنائی اور کہا کہ یہ دنیا کی تاریخ کا عظیم ترین لمحہ ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ٹرومین ’بھیانک ترین‘ اور ’عظیم ترین‘ کے درمیان فرق نہیں کر پا رہے تھے۔

اور اس واقعہ کے کئی سال بعد مئی 1950 میں ٹرومین نے یہ بیان دیا کہ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کا ان کا فیصلہ بالکل درست تھا اور اگر ضرورت پڑی وہ دوبارہ اس بم کا استعمال کریں گے۔ جب رفتہ رفتہ مختلف ممالک نے ایٹم بم کا کامیاب تجربہ کر لیا اور دنیا میں ایٹم بموں کی تعداد بڑھتی چلی گئی تو سب کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے کہ اگر اب بھرپور ایٹمی جنگ ہوئی تو کیا ہو گا؟

1970 کی دہائی تک دنیا کے چھ ممالک نے جوہری ہتھیاروں کا ایک ذخیرہ جمع کر لیا تھا اور بڑی طاقتوں کے سیاستدانوں اور ماہرین میں یہ سوچ پنپ رہی تھی کہ یہ ضروری نہیں کہ جب جوہری ہتھیاروں سے جنگ ہو تو فریقین مکمل طور پر تباہ ہوجائیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ دونوں فریق محدود پیمانے پر ان بموں کا استعمال کریں اور صرف کچھ علاقے تباہ ہوں اور باقی ملک اور باقی دنیا محفوظ رہے۔ امریکہ کے وزیر دفاع نے 1974 میں امریکی کانگرس کو بریفنگ بھی دی کہ محدود ایٹمی جنگ کے کیا نتائج ہوں گے۔ اور سائنسی جرائد بھی اس ممکنہ صورت حال کا تجزیہ کر رہے تھے کہ اس سلسلہ میں فوری تباہی کے علاوہ تابکاری سے سات آٹھ لاکھ افراد کی موت ہوگی اور اس کا اس طرح ذکر کیا جا تا تھا جیسے انسانوں کی نہیں مولیوں اور گاجروں یا آلو پیاز کی بات ہو رہی ہو۔

(Sidney D. Drell and Frank von Hippe (1976) LIMITED NUCLEAR WAR. Scientific American 235 (5) , 29-37.)

1982 میں سائنسدانوں کی ایک کمیٹی بنائی گئی جو کہ یہ جائزہ لے کہ اگر اس وقت کی دو بڑی طاقتوں یعنی امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی بھر پور جنگ شروع ہو جاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں کتنا دھواں اور کتنی گرد فضا میں بلند ہو گی اور اس کے زمین کے موسم پر کیا ممکنہ نتائج ہوں گے۔ تین چار سال بعد کمپیوٹروں کی مدد سے سائنسدانوں کی ٹیم نے جو ممکنہ نتائج بیان کیے وہ پوری دنیا کے لئے ہوشربا تھے۔ ان کا تخمینہ یہ تھا کہ اگر دو بڑی طاقتیں اپنی جوہری اسلحہ کا چالیس فیصد بھی ایک دوسرے پر چلا دیتی ہیں، تو اس کی فوری تباہی سے جو انسانیت کا قتل ہو گا وہ تو ہو گا لیکن اس بعد جو بھیانک نتیجے نکلیں گے وہ فوری تباہی سے بھی زیادہ خوفناک ہوں گے۔

یہ تو ہم جانتے ہیں کہ جب کسی مقام پر ایٹم بم پھٹتا ہے تو اس سے پورے علاقہ میں آگ لگتی ہے اور اس کے نتیجہ میں دھوں بلند ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ حساب لگایا گیا کہ اگر بھرپور ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں اندازہ کتنا دھواں فضا میں بلند ہو گا؟ سائنسدانوں نے یہ حساب لگایا کہ اس کے نتیجہ میں دس کروڑ ٹن دھواں بلند ہو گا۔ یہ ایک محتاط اندازہ تھا۔ کچھ سائنسدانوں نے یہ اندازہ لگایا کہ اس کے نتیجہ میں تیس کروڑ ٹن دھواں بلند ہو گا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر دس کروڑ ٹن دھواں بھی پیدا ہو تو اس کے زمین تک پہنچنے والی سورج کی روشنی پر کیا اثرات ہوں گے۔ حساب کتاب کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اتنے دھوئیں سے زمین تک پہنچنے والی روشنی کا 95فیصد حصہ رک جائے گا گویا دن کے وقت بھی تاریکی کا راج ہو گا۔ چونکہ زمین پر خوراک کی پیدائش کا انحصار سورج کی توانائی پر ہے، اس لئے اس عمل سے زمین پر فصلیں، پھل وغیرہ پیدا نہیں ہوں گے۔ اور اس کا نتیجہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے لئے تباہ کن ہو گا۔ گویا ایٹمی جنگ کے نتیجہ میں آگ کے شعلوں سے فوری تباہی ہو گی اور اس کے بعد دھواں بلند ہو گا جو طویل المیعاد تباہی کا باعث بنے گا۔

یہ صرف ایک پہلو تھا۔ اگر اس قسم کی جنگ ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں صرف دھواں ہی نہیں بلکہ گرد کی بہت بڑی مقدار فضا میں بلند ہو گی۔ رہا یہ سوال کہ گرد یا مٹی کی کتنی مقدار فضا میں بلند ہو گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ کہ یہ ایٹمی ہتھیار کس قسم کی زمین پر چلائے گئے ہیں۔ سائنسی زبان میں دھواں تو بارہ کلومیٹر تک یعنی فضا کی قریبی تہہ ٹروپوسفیر Troposphere تک بلند ہو گا اور گرد کا طوفان اس سے اوپر کی تہہ سٹریٹو سفیر (Stratosphere) تک بلند ہو کر تباہی کا باعث بنے گا۔

ان کا مجموعی نتیجہ یہ نکلے گا کہ سطح زمین پر درجہ حرارت کی کمی ہو گی۔ اور ایک تخمینہ کے مطابق درجہ حرارت میں چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک کی کمی ہو سکتی ہے۔ اسے سائنسی اصطلاح میں جوہری سردی (Nuclear Winter) کہا جاتا ہے۔ اگر صرف چند ڈگری کمی سے فصلوں پر مضر حضرات نکلتے ہیں تو اس صورت حال میں قحط کی کیا کیفیت ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ طوفانوں اور طویل المیعاد تابکاری اثرات سے جو تباہی ہو گی وہ اس کے علاوہ ہے۔

(Richard P. Turco, Owen B. Toon,Thomas P. Ackerman, James B. Pollack and Carl Sagan (1984) THE CLIMATIC EFFECTS OF NUCLEAR WAR.Scientific American. 251 (2) , 33-43.)

2009 میں سائنسدانوں نے کمپیوٹروں کی مدد سے یہ تحقیق شروع کی کہ اگر نسبتاً چھوٹے پیمانے پر مثال کے طور پر برصغیر میں ایسے تصادم کی نوبت آ جائے جس میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہو تو کیا صورت حال پیدا ہو گی۔ اس تحقیق سے یہ خوفناک اعداد و شمار سامنے آئے کہ اگر محدود جوہری جنگ بھی ہو جس میں طرفین سو کے قریب جوہری بم استعمال کیے جائیں تو بھی دھوئیں کہ ایک بڑی مقدار فضا میں بلند ہو گی جو کہ دو ہفتہ میں پورے کرہ ارض پر محیط ہو جائے گا۔ اس کے نتیجہ میں سورج کی روشنی میں جو کمی ہو گی اس جو درجہ حرارت میں تھوڑی کمی ہو گی، دنیا کی زراعت پر اس کا اثر اتنا شدید ہو گا جو دنیا کو بد ترین قحط سے دوچار کردے گا۔ فضا میں اوزون کی لہر کو نقصان پہنچے گا اور موسمی تبدیلی سے نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

(Alan Robock& Owen Brian Toon (2010) Local Nuclear War, Scientific American 302 (1) 74-81)

یہ خوش فہمی ذہنوں میں نہیں پنپنی چاہیے کہ اگر کسی نے ایٹم بم کا استعمال کیا تو یہ صرف ایک دو بموں تک محدود رہے گا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر بھی سیاستدان یہی اندازے لگا رہے تھے کہ چند مہینوں کی بات ہے یہ جنگ ختم ہو جائے گی۔ ایسی جنگ کبھی محدود نہیں رہتی۔ خواہ اسرائیل کے حکمران ہوں یا بڑی طاقتوں کے یا پاکستان اور ہندوستان کے، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی بھی بیان دینے سے قبل اس کے بارے میں حقائق معلوم کر کے لب کشائی کیا کریں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ لفظوں کی جنگ حقیقی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے اور محدود جنگ دیکھتے دیکھتے ایک عالمی جنگ کا روپ دھار لیتی۔ سائنسی حقائق یہی ظاہر کرتے ہیں کہ نسل انسانی کسی قسم کی ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments