ہری پور کی انتخابی سیاست


ہری پور خیبر پختونخوا کا سب سے اہم ضلع ہے۔ آج ہم اس صوبہ کے ایک اہم صوبائی حلقہ پی کے چالیس کی انتخابی سیاست کا جائزہ لیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ آئندہ انتخابات میں کس کا پلڑا بھاری رہے گا۔

ویسے تو ہری پو ر کی شہرت کی کئی وجوہات ہیں مگر اس شہر کو قومی سیاست میں اس وقت اہمیت ملی جب ایوب خان نے مارشل لا لگایا۔ ایوب خان کا دور سیاسی طور پر تو ہمیشہ تنقید کی زد میں رہے گا لیکن ترقی اور خاص طور پر ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایوب خان کے دور نے ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ ہری پور کی سیاست پر بھی گہرے نقوش چھوڑے اور تب سے اب تک اس شہر میں ان کا خاندان کسی نہ کسی صورت سیاست پر حاوی ہے۔ ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب خان اور پوتوں یوسف ایوب خان و عمر ایوب خان نے ہمیشہ اقتدار کے ایوانوں کی سیاست کی اور ہمیشہ اس پارٹی کا حصہ بنے جو اقتدار میں موجود ہو یا اس کے پاس اقتدار آنے کے امکانات ہوں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک فوجی جنرل کا یہ خاندان ہمیشہ فوجی جنرلوں کے ساتھ رہا۔

اپنے پچھلے کالم میں تذکرہ کیا تھا کہ اس خاندان نے پہلی دفعہ اپنی روایت توڑی ہے اور یہ خاندان ابھی تک عمران خان کے ساتھ ہے۔ چونکہ یہ خاندان اس سے قبل کسی ایسے سیاسی لیڈر کے ساتھ کھڑا نہیں رہا جو زیر عتاب ہو اور خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ جس کے خلاف ہو اس لیے ان کے اس اقدام کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ میں اپنے پچھلے کالم میں اس بات کا امکان ظاہر کر چکا ہوں کہ پی ٹی آئی کی قیادت سنبھالنے کے لیے تین خاندانوں کے درمیان مقابلہ ہے اور ایوب خان کا خاندان زیادہ مضبوط امیدوار ہے۔

اس خاندان نے کئی دہائیوں تک ہری پور کی صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کی ہے۔ قومی اسمبلی کی نشست پر تو پھر راجہ سکندر زمان خان اور ان کے بیٹے راجہ عامر زمان خان ایوب خاندان کو مشکل میں ڈالتے رہے اور اب سابق صوبائی وزیر اختر نواز خان کے بیٹے بابر نواز خان عمر ایوب کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ نشست جیت بھی سکتے ہیں لیکن صوبائی اسمبلی میں فی الحال یوسف ایوب خان کے مقابلے میں کوئی مضبوط امیدوار موجود نہیں۔

اس نشست پر کئی دہائیوں تک یوسف ایوب خان اور حبیب اللہ خان ترین (آپس میں کزن) ایک خاموش معاہدے کے تحت باریاں لیتے رہے اور کوئی دوسرا شخص ان کا مقابلہ نہ کر سکا۔ پھر قاضیال خاندان کے نوجوان قاضی محمد اسد میدان سیاست میں آئے تو انہوں نے اپنے 2002 کے عام انتخابات میں یوسف ایوب خان کو چاروں شانے چت کیا۔ قاضی اسد مسلم لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے میدان میں آئے تھے اور یہ ان کا پہلا الیکشن تھا۔ ان کی کامیابی سے بظاہر یہ لگتا تھا کہ اب دوبارہ اس حلقے میں یوسف ایوب خان یا ایوب خان خاندان کا کوئی بھی فرد آسانی سے نہیں جیت سکے گا اور اگر قاضی محمد اسد سمجھداری کا مظاہرہ کرتے اور روایتی سیاست کا شکار نہ ہوتے تو ایسا ہی ہوتا لیکن کامیابی کے بعد قاضی اسد نے بڑی غلطیاں کیں۔

ایک غلطی جو انتخابات سے قبل کی کہ مسلم لیگ ق میں شامل ہو گئے اور انہیں صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا اور باقی غلطیاں جیتنے کے بعد کیں۔ انہوں نے ان تمام لوگوں سے رابطہ منقطع کر دیا جنہوں نے ان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے سپورٹرز کو ایک بڑی شکایت یہ بھی تھی کہ وہ ٹیلی فون اٹینڈ نہیں کرتے، لوگوں کے ذاتی کام اگر قانونی بھی ہوں تو قاضی اسد ٹال مٹول کرتے ہیں مگر ان سب کے باوجود اگلے عام انتخابات میں جو کہ 2008 میں منعقد ہوئے قاضی اسد آزاد حیثیت سے الیکشن میں آئے تو جیت گئے۔

چونکہ آزاد جیتے تھے تو اے این پی میں شامل ہو گئے جس کی صوبائی اسمبلی میں اکثریت تھی اور یوں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن بنے۔ شاید عوام نے قاضی اسد کی چھوٹی بڑی غلطیاں اس لیے بھی معاف کر دیں کہ وہ اپوزیشن میں تھے لیکن جب وہ حکومت میں ہو کر بھی وہ ہی غلطیاں دہراتے رہے تو عوام میں ان کی مخالفت بڑھنے لگی۔ جب اے این پی نے صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھا تو ہزارہ ڈویژن نے شدید مخالفت کی۔ عوامی احتجاج پر پولیس کی فائرنگ سے ایبٹ آباد میں کئی افراد شہید ہو گئے۔

یہ موقع تھا اگر قاضی اسد اے این پی سے الگ ہو جاتے اور عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے کہ وہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کے حق میں نہیں تھے اس لیے اے این پی کو چھوڑ دیا تو شاید ہری پور کی اس سیٹ پر اگلی باری میں انہیں ہی نصیب ہوتی مگر انہوں نے یہ موقع گنوا دیا۔ اس کے مقابلے میں یوسف ایوب خان، گوہر ایوب خان (مرحوم) اور عمر ایوب خان نے تحریک صوبہ ہزارہ کی حمایت کر کے اور بابا حیدر زمان کی قیادت میں تحریک صوبہ ہزارہ میں عملی طور پر شامل ہو کر عوام کی ہمدردیاں جیت لیں۔

2013 کے انتخابات میں قاضی اسد الیکشن ہار گئے اور یوسف ایوب خان جیت گئے تاہم قاضی اسد نے عدالت میں یوسف ایوب خان کی ڈگری کو چیلنج کر دیا۔ قاضی اسد یہ کیس جیت گئے اور یوسف ایوب خان کو جعلی ڈگری کیس میں تاحیات نا اہل قرار دے دیا گیا۔ دوبارہ پولنگ ہوئی تو یوسف ایوب خان اپنے بھائی اکبر ایوب خان کو میدان میں لے آئے اور اکبر ایوب خان نے ایک مرتبہ پھر قاضی اسد کو شکست دے دی۔ اکبر ایوب خان کی جیت کے بعد جتنے بھی ترقیاتی کام ہوئے ان کا افتتاح یوسف ایوب خان ہی نے کیا اور کریڈٹ بھی انہوں نے ہی لیا۔ ہر ترقیاتی سکیم پر تختی بھی یوسف ایوب خان کے نام کی ہی لگی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ 2013 کے عام انتخابات میں اکبر ایوب خان نے پی کے چالیس سے انتخاب جیت لیا اور ان کے چھوٹے بھائی نے ارشد ایوب خان کے پی کے اکتالیس سے۔ اس طرح یہ خاندان ہری پور سے دو ایم پی اے صوبائی اسمبلی میں بھجوانے میں کامیاب رہا۔

2018 سے 2023 صحیح معنوں میں یوسف ایوب خان کا دور تھا۔ اس عرصے کے دوران صوبائی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے اور اس خاندان کے شدید مخالفین بھی ان کاموں کے معترف ہیں۔

قاضی اسد نے حال ہی میں نون لیگ کو چھوڑ کر آزاد الیکشن لڑنے کے فیصلے سے اپنے لیے مزید مشکلات پیدا کر لی ہیں۔ امکان تو یہ ہی ہے کہ یوسف ایوب خان جنہیں قومی اسمبلی میں کی گئی ایک آئینی ترمیم سے فائدہ پہنچے گا اور وہ انتخابات کے لیے اہل قرار پائیں گے قاضی اسد کو آسانی سے شکست دے دیں گے۔ اگر آنے والے وقتوں میں کچھ ایسا ہوتا ہے کہ قاضی اسد کوئی اچھی سیاسی چال چلتے ہیں تو ان کے کامیاب ہونے کے امکانات ہیں دوسری صورت میں وہ اگلے عام انتخابات کا انتظار کریں۔

Facebook Comments HS