اسلام بمقابلہ سیکولر ازم: فرنود عالم اور قیصر احمد راجہ کے درمیان ایک مکالمہ
گزشتہ دنوں اسلامی جمعیت طلبا کے زیر انتظام ”اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد“ میں ایک مکالمے کا اہتمام کیا گیا، جس میں دو طبقہ ہائے فکر کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا جنہوں نے ”اسلام بمقابلہ سیکولر ازم“ پر اپنے اپنے خیالات کو سامعین کے سامنے رکھا، روایتی یا مذہبی فکر کو پیش کرنے کے لیے اس بار قیصر احمد راجہ کا انتخاب کیا گیا جو کہ ہماری نظر میں ایک نامناسب سا انتخاب تھا، موصوف جملے بازی تو اچھی کرلیتے ہیں اور سائنس میں سے مذہب اور مذہب میں سے سائنس برآمد کرنا ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے مگر روایتی فکر پر مدلل گفتگو ان کے بس کی بات نہیں ہے، خیر یہ جماعتی ساتھیوں کا استحقاق ہے اور ہمیں ان کے انتخاب کو عزت دینی چاہیے۔
دوسری طرف سیکولر ازم پر بات کرنے کے لیے فرنود عالم موجود تھے۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیے بتانا ضروری ہے کہ 2019 میں بھی اسی عنوان کے تحت مکالمہ ہوا تھا جس میں دونوں طرف سے دو دو لوگ تھے، کافی اچھی گفتگو ہوئی تھی جس میں فرنود عالم کے ہمراہ حاشر ابن ارشاد بھی تھے، اس مکالمے کے اختتام پر غالباً ہم ایسے دوستوں کا یہی تاثر بنا تھا کہ شاید مستقبل میں کبھی اس قسم کا مکالمہ ممکن نہ ہو پائے لیکن 2023 کی اختتامی ساعتوں کو یہ شرف حاصل ہو ہی گیا کہ ہمیں ایک اور جاندار مکالمہ اسی عنوان کے تحت سننے کو ملا جس کے انعقاد پر اسلامی جمعیت طلبا کے دوست، یونیورسٹی انتظامیہ اور باشعور سامعین مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے دوران گفتگو اپنے ظرف کو بلند رکھا اور دونوں مکتبہ فکر کے خیالات کو حوصلے سے سنا اور اہمیت بخشی۔
میٹھی میٹھی باتوں کے بعد اب کچھ کڑوی باتیں بھی کر لیتے ہیں، اس پروگرام کو چار چاند لگانے میں دونوں مہمان شخصیات کی انتہائی شاندار انداز میں گفتگو نے اہم کردار ادا کیا اور احترام باہمی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دونوں نے ماحول کا توازن بگڑنے نہیں دیا۔
اس پروگرام کی بدصورتی یہ تھی کہ اسے ماڈریٹر اچھا نہیں ملا، جس نے پروگرام کو تلپٹ کرنے اور اس کا مزا کرکرا کرنے کی اپنے تئیں پوری کوشش کی کہ کسی بھی طرح سے اس مکالمے کی فضا کو مذہبی جنونیت میں بدلا جائے۔
موصوف کا نام عمران شفیق ہے جسے ہم نے 2019 میں بھی چار و ناچار برداشت کر لیا تھا مگر ہر بار تو ایسا ظلم مت کیجیے۔ اس بار پھر اسی صاحب کو بھگتنا پڑا، ان کے متعلق ہمارا موقف کچھ اس طرح سے ہے کہ موصوف کو خطابت کے فرائض سر انجام دینے چاہئیں وہ خطیب تو اچھے ثابت ہو سکتے ہیں مگر ماڈریٹر بالکل نہیں۔ انہیں اس قسم کے سنجیدہ مکالمے کے بیچ آ نے سے اجتناب برتنا چاہیے۔
موصوف چونکہ وکیل ہیں اور اس پروگرام میں مہمانوں کے تعارف سے زیادہ انہیں یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ وہ جلدی جلدی سامعین کو کسی بھی طرح سے یہ بتا دیں کہ وہ اسمبلی کے منظور کردہ جینڈر ایکٹ بل کی مخالفت میں پیش پیش رہے تھے اور اس بل کے خلاف عدالت میں بھی پیش ہوئے تھے، خیر موصوف اپنی کوشش میں کامیاب رہے اور ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
ماڈریٹر کا کام مہمان اور سامعین کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کو ختم کرنا اور گفتگو کی ترسیل کو آسان اور بہتر بنانا ہوتا ہے تاکہ لوگ اچھے سے مستفید ہو سکیں۔
جبکہ پچھلے پروگرام کی طرح اس بار بھی موصوف نے ماڈریٹر کے نام پر خواہ مخواہ کی طول کلامی، بلا وجہ کی مداخلت اور بے بنیاد اور بے تکے سے سوالات داغنے کی مشق کو جاری رکھا اور اپنے تئیں پوری کوشش کی کہ فرنود عالم کی گفتگو سے بلاسفیمی کا کوئی پہلو برآمد کرسکے اور مجمع میں بدنظمی پیدا ہو جائے۔
ظاہر ہے اس کا نتیجہ تلخی، نعرہ بازی، جملہ بازی کے علاوہ اور کیا نکل سکتا تھا؟
لیکن موصوف کی کاوش تشنہ رہی اور فرنود نے اس کی طول کلامی و فضول گوئی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی گفتگو کے تسلسل کو برقرار رکھا اور بات کو وہیں سے جوڑتے رہے جہاں سے بات کاٹی گئی یا جہاں ماڈریٹر نے الجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش فرمائی۔
سیکولر ازم پر فرنود نے مدلل گفتگو کی اور اس نظریے سے جڑے ہوئے تقریباً تمام پہلوؤں کو اس کے پس منظر کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی اور ان کی گفتگو کا حسن یہ تھا کہ وہ تھوڑا تھوڑا ہر پہلو کو ٹچ کرتے گئے تاکہ مختصر سے وقت میں ان ذہنوں کی آ بیاری ہو سکے جو واقعی جمود سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں اور اپنے محدود تخیل کی چار دیواری سے باہر جھانکنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
فرنود نے موسیقی کی دھنوں کی طرح فلسفہ و تاریخ کے ہر راگ کو چھیڑنے کی کوشش کی، کہیں تھوڑا رکے، کہیں آ گے بڑھ گئے اور کہیں اشاروں کنایوں میں وہ ”سب“ عقل و شعور والوں کو سمجھا گئے جسے سمجھنے کی نیت سے وہ اسلامی یونیورسٹی کے ہال میں پہنچے تھے۔
دوسری طرف قیصر احمد راجہ کی وہی باتیں تھیں جو روایتی فکر کے آبا شروع دن سے کرتے چلے آئے ہیں، ان کی گفتگو میں کچھ بھی نیا یا منفرد نہیں تھا سوائے تکرار یا احساس تفاخر میں گندھے ہوئے بے لچک سے موقف اور چند رٹے رٹائے جملوں کے۔
روایتی فکر کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہ مکالمہ کی بجائے مناظرہ میں دلچسپی رکھتے ہیں، اپنی رائے کو طالب علمانہ انداز پیش کرنے کی بجائے منوانا چاہتے ہیں، طالب علمانہ لہجے میں بات کرنے کی بجائے خدائی لہجے میں بولتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ سامنے والا بندہ کاؤنٹر کوئسچن یا انکوائری کرنے کی بجائے ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔
مثال کے طور پر فرنود عالم نے اپنے تئیں تمام پہلوؤں کو اس کے تناظر میں کھولنے کی کوشش کی اور اہم نکات گوش گزار کر دیے تاکہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے طالب علم خود مطلوبہ سورس تک رسائی حاصل کریں اور نقطے سے نقطہ ملاتے ہوئے اپنے ذہنوں میں پیدا ہونے والے خلا کو خود اپنی کاوشوں سے پر کر سکیں۔
داروغہ اور طالب علم کے بیچ یہی تو بنیادی فرق ہوتا ہے کہ داروغہ اپنی بات زبردستی منوانے پر مصر ہوتا ہے اور کسی بھی طرح سے اپنی برتری جتاتا چاہتا ہے جبکہ طالب علم اپنے حاصلات کے آ گے کبھی بھی فل سٹاپ نہیں لگاتا، ہر نئی سوچ، فکر اور فلسفے کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسے اپنے ذہن کے نہاں خانے میں اتارنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر وقت ”ان لرن یا ری لرن“ کے عمل سے گزرنے کے لیے تیار رہتا ہے، حتمیت، رعب و دبدبہ یا تمسخرانہ زبان یا لہجے میں بات کرنے والے کا دامن دلیل یا منطق سے خالی ہوتا ہے اسی لیے تو اسے اس قسم کے وقتی سے سہاروں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے تاکہ شور شرابا اور الجھاؤ پیدا کر کے دلیل کا گلا گھونٹ دیا جائے۔


