وہ دن بھی گزرا تھا
سوچوں کے گرداب میں گم تھا کہ سورج کے کرنیں چار سو بکھر گئیں، جس کو دیار غیر میں جس قدر نیند میسر آئی تھی وہ انہی سوالوں کے ساتھ بیدار ہو رہا تھا جو انہیں گزشتہ شب نیند کی آغوش تک چھوڑ آئے تھے۔ نیا دن نئی امیدوں کے ساتھ کیسے شروع ہوتا ہے اس کا اندازہ اس دن ہوا۔ کوئی امید رکھ رہا ہو گا کہ شب بھر میں بند کمروں میں فیصلے ہوچکے ہوں گے ، مقتدر حلقوں نے حالات پر قابو پا لیا ہو گا اور کاروبار زندگی معمول پر آچکے ہوں گے ۔ جانے کتنے ہی لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ اذیت ناک سفر اب ختم ہونے کو ہو گا، کوئی آصف برخیا چشم زدن میں مثل تخت بلقیس انہیں اس مقام سے اٹھا کر منزل مقصود پر پہنچا دے گا۔ ایسے میں شدت بھوک بھی غالب آ رہی تھی کہ ہم لوگوں کو ناشتے کی غرض سے ریستوران میں بٹھا دیا گیا، ابھی ہمارے کاروان والے نشستوں پر براجمان ہوئے ہی تھے کہ حکم آیا آپ لوگ فوری طور پر واپس اپنی سواریوں میں سوار ہو جائیں آپ کا وقت رخصت آ گیا ہے۔
ہم سب جوش و خروش سے واپس سواریوں کی طرف روانہ ہوئے، جب پولیس کی طرف سے سپیکر پر اعلان ہوا کہ ”گورنمنٹ کالج والے کیوں اب تک سوار نہیں ہو رہے“ تو ہم میں اک اور ہی طرح کا جذبہ آ گیا وہاں موجود تمام افراد اس امتیاز پر ہمیں حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ پولیس کی گاڑی ہمیں ٹریفک قوانین بالائے طاق رکھتے ہوئے اک راستے سے لے جا کر شہر کے درمیاں چھوڑ آئی جہاں آمدورفت معطل نہ تھی اور آگے کے راستے بتا دیے گئے۔
سڑک کہیں ٹوٹی تھی کہیں تنگ مگر آمدورفت جاری تھی، کچھ سفر طے کرنے کے بعد دوبارہ موٹروے ایم۔ 2 کا رخ کیا اور سکھیکی قیام و طعام پر رک کر ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ گزشتہ روز و شب کے مضطرب چہرے اب خوش تھے کہ اپنے شہر سے قریب ہیں اور جلد یہ سفر تمام ہونے والا ہے۔ اس مقام پر رونق سیال موڑ قیام و طعام کی نسبت کم تھی۔ پھر سے سفر شروع ہوا مگر شیخوپورہ کے قریب پہنچتے ہی سڑک کی بندش کی بازگشت سنائی دی اور قریب موجود اک چھوٹی آرام گاہ پر پڑاؤ ڈال دیا گیا۔ اس آرام گاہ پر وسعت سے زائد افراد آن جمع تھے۔ خوراک اور اسے خریدنے کے لیے زر دونوں کی قلت پیدا ہو رہی تھی۔ منچلے زحمتِ سفر کا غم غلط کرنے کو طرح طرح کے کھیل کھیل رہے تھے۔
دوپہر کے وقت میں اک بار پھر اسی حالت میں تھا جس میں اس صبح کا آغاز کیا تھا، سوچیں بھی وہیں تھیں، سوال بھی۔ قریب موجود اک لڑکی اپنے گھر والوں سے فون پر بات کر رہی تھی اور سفر کے ناتمام ہونے پر بے چین تھی، پریشانی کے عالم میں آنسو بھی رواں تھے، اتنے میں کوئی اسے حرف تسلی دینے کو بڑھا اور ڈھارس بندھائی۔ کسی نے مجھ سے متعلق سوال کیا تو جواب دیا گیا ”وہ تو سویا پڑا ہے“ ، کاش واقعی ایسا ہوتا۔
بے چینی و قرب میں دن ڈھل گیا، ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ ہم تک پہنچے ہمیں شیخوپورہ کے سرکاری ریسٹ ہاؤس لے جایا گیا، وہاں قیام و طعام کا بندوبست کیا گیا۔ انہیں یہ ہدایات غالباً چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی/گورنر پنجاب کی جانب سے مل رہی تھیں۔ وہاں قیام کے دوران میڈیا کے چند نمائندے آئے دربدری کی خبریں لیے چلے گئے۔ رات کے قریبا گیارہ بجے پولیس کی گاڑیوں کے ساتھ پھر سے سفر کا آغاز ہوا سنسان و تاریک راستوں سے ہوتے ہوئے ہمیں شہر لاہور کی حدود میں لایا گیا، تاریخ کے اعتبار سے جو سفر ایک روز کا تھا وہ تیسرے دن اپنی تکمیل کو پہنچا۔
یہ واقعات 27 نومبر 2017 ء کو پیش آئے تھے، اور اسی رات تحریک لبیک اور حکومت کے مابین بہ وساطت میجر جنرل فیض حمید 6 نکاتی معاہدہ طے پا گیا۔ جسے بعد ازاں سپریم کورٹ نے حلف سے تجاوز قرار دیا اور مشہور زمانہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ سنانے والے جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف یہ فیصلہ سنانے کے بعد جو کچھ کیا گیا الگ موضوع ہے۔ آج وہی قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس ہیں ان کے سامنے فیض آباد دھرنا کیس کے خلاف اپیلوں کا کیس ہے، وہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سوال حکومت و حکومتی اداروں سے کر رہے ہیں، اس وقت کے چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروایا ہے جس میں میڈیا پر دباؤ، چینلز کی بندش کو لیفٹینینٹ جنرل ر فیض حمید کی کارستانی قرار دیا ہے، عدالت سوال کر رہی ہے دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا۔ کیا عدالت کو اس سوال کا جواب ملے گا؟


