وہ عوامل جو مردوں اور خواتین میں جنسی تعلق قائم کرنے کی خواہش کو کم کرتے ہیں

گویلیا گرانچی - بی بی سی نیوز، برازیل


تصویر

آج کل کے دور میں کسی بھی جوڑے میں جنسی خواہش کا کم ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔

برطانیہ کے قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کے مطابق جنسی خواہش میں کمی کا مسئلہ ہر پانچ میں سے ایک مرد کو درپیش ہے جبکہ خواتین کو یہ مسئلہ اس سے زیادہ متاثر کر سکتا ہے اور ان کی زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر جنسی خواہش میں کمی کے مسئلے کی شرح مردوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہے مگر جنسی خواہش میں کمی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ آپ کی جنسی زندگی کو سنگین طبی مسائل یا خطرات لاحق ہیں۔ اس کی وجوہات میں آپ کی پیشہ ورانہ زندگی (یعنی کہیں آپ کو کام کی جگہ یا آفس میں کوئی مسئلہ تو نہیں) یا ذہنی تناؤ جیسے مسائل کے ساتھ ساتھ زندگی کے مخصوص مراحل جیسے حمل، بچے کی پیدائش یا دودھ پلانے سے متعلق ہو سکتی ہیں۔

تاہم، اگر جنسی خواہش میں کمی کا مسئلہ غیر متوقع طور پر بار بار پیش آ رہا ہو یا مستقل ہو، تو اس کے پیچھے وجوہات کے تعین کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

ماہر نفسیات کیٹرینا ڈی موریس کہتی ہیں کہ ’سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جنسی خواہش میں کمی کا مسئلہ ہے کیا۔‘

کیٹرینا ڈی موریس برازیلین ایسوسی ایشن آف سیکشوئل میڈیسن کی سیکریٹری بھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’بعض اوقات جنسی خواہش میں کمی کے مسئلے کو عضو تناسل میں ایستادگی کے مسئلے یا نامناسب جنسی کارکردگی سے جوڑ کر الجھا دیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں یہ صرف اور صرف جنسی خواہش کے نہ ہونے کا معاملہ ہے۔‘

اینڈو کرائنولوجسٹ ڈیاگو فونسیکا کے مطابق زندگی کی کسی سٹیج پر جنسی خواہش میں کمی یا اس کے ختم ہونے کی علامات اگر لگاتار چھ ماہ تک رہیں تو ہی اس کے علاج کے لیے تشخیصی عمل سے گزرنا چاہیے۔

ان کے مطابق کلینکل تشخیص کے عمل کے دوران بھی ہر انفرادی شخص کی صورتحال پر غور کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کی مدد سے ذیل میں ہم چار ایسے عوامل کا تذکرہ کر رہے ہیں جو جنسی خواہش میں تبدیلی کی وجہ ہو سکتے ہیں۔

زندگی کے مختلف مراحل میں ہونے والی تبدیلیاں

سیکس کی خواہش میں کمی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ذہنی تناؤ، تھکاوٹ، روٹین کی تبدیلی اور طرز زندگی، وہ وقت جب سیکس ممکن ہو سکتا ہے کسی اور سرگرمی میں بیت جائے جیسا کہ بچوں کا خیال رکھنا۔

کیٹرینا کا کہنا ہے کہ ’ضروری نہیں کہ یہ کسی بیماری کی وجہ سے ہو کیوں کہ شادی شدہ جوڑوں میں سیکس کی طلب میں وقت کے ساتھ کمی ہونا عام چیز ہے لیکن جب تک سیکس اطمینان بخش رہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جنسی خواہشات میں کمی کی وجہ کوئی بیماری نہیں ہے۔‘

سیکس

نفسیاتی مسائل

ڈپریشن اور ذہنی تناؤ جیسے مسائل بھی کافی حد تک جنسی خواہشات کم کر سکتے ہیں۔

کیٹرینا کے مطابق جن مریضوں کو ڈپریشن کا سامنا ہوتا ہے، ان میں جنسی خواہش کی کمی دماغ میں کیمیائی عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیوںکہ سیروٹونن اور ڈوپامین میں تبدیلی کے باعث خوشی اور جذبات کے احساسات متاثر ہوتے ہیں۔

’ایسے کیسز میں علاج سے بہتری ممکن ہوتی ہے۔‘

چند ادویات جن کا استعمال ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کے علاج کی غرض سے کیا جاتا ہے، کے باعث بھی جنسی خواہشات کم ہو سکتی ہیں۔

تاہم ایسا علاج میسر ہے جو ان اثرات کو کم کرنے میں مددرگار ہو سکتا ہے لیکن ایسا صرف کسی طبی ماہر کی مدد سے ہی ممکن ہے جو دوا کی مقدار میں کمی لا کر یا پھر ورزش کی مدد سے جنسی خواہشات کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ڈپریشن کا علاج جنسی خواہشات میں کمی کی وجہ سے ترک نہیں کر دینا چاہیے کیوں کہ لاعلاج ڈپریشن خود بھی جنسی عمل کو متاثر کرتا ہے اور نفسیاتی ادویات کو اچانک ترک کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

کٹرینا کا کہنا ہے کہ ’یہ بات ضروری ہے کہ مریض کھل کر اپنے کسی قسم کے خدشات، چاہے وہ جنسی خواہشات سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں، ڈاکٹر کے سامنے رکھے۔‘

ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں

اگر کسی فرد کی روٹین میں نہ تو کوئی واضح تبدیلی ہوئی ہے اور نہ ہی اسے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے تو پھر اگلا قدم ہارمونل تبدیلیوں سے متعلق تفتیش ہوتا ہے۔

کیرولین کاسٹرو اینڈوکرائنالوجسٹ ہیں جو بتاتی ہیں کہ مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون جبکہ خواتین میں ایسٹروجن نامی غدود جنسی خواہشات سے وابستہ ہوتے ہیں۔

ایسٹروجن کا تعلق جنسی عضو کی صحت کے ساتھ ساتھ جذباتی صحت سے بھی ہوتا ہے جبکہ ٹیسٹوسٹیرون سپرم بنانے کے علاوہ جنسی خواہشات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

ڈئیگو فونسیکا کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں تشخیص ایک پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے۔

’مثال کے طور پر مردوں میں ہم صرف یہ نہیں دیکھتے کہ ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار کم ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا کوئی ایسی علامات ہیں جو غدود میں تبدیلی کی وجہ بن رہی ہیں۔‘

ڈاکٹروں کے مطابق حمل، پوسٹ پارٹم، دودھ پلانے اور موٹاپے کی وجہ سے بھی ہارمونل تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔

کیرولینا کاسٹرو کا کہنا ہے کہ ایسے مریضوں کے لیے ادویات کا استعمال ایک راستہ ہو سکتا ہے لیکن ساتھ ہی جسم میں قدرتی تبدیلیوں کے بارے میں تجاویز بھی مددگار ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے معاملات میں ہر فرد کی انفرادی صحت کو دیکھتے ہوئے ہی تشخیص کی جاتی ہے۔

سیکس

بیماریاں

ایک اور چیز جو جنسی خواہشات میں کمی لا سکتی ہے وہ دیگر بیماریاں ہیں۔

مثال کے طور پر ملٹیپل سکلیروسس، پارکنسن، ریڑھ کی ہڈی میں زخم یا پھر نیورو پیتھی کے مسائل جنسی خواہشات سے جڑی نسوں کو متاثر کر سکتے ہیں جس سے ہیجان شہوت سمیت مردوں میں عضو تناسل کی ایستادگی متاثر ہو سکتی ہے۔

ذیابطیس سے متاثرہ افراد میں بھی ایسی ہارمونل تبدیلیاں ہوتی ہیں جو جنسی خواہشات کو کم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ذیابطیس کی وجہ سے تھکاوٹ اور نیوروپیتھی کا سامنا ہو سکتا ہے جس میں نسیں متاثر ہوتی ہیں۔ ایسے میں حساسیت اور جنسی خواہشات کم ہو سکتی ہیں۔

جن افراد کو دل کی بیماریوں کا سامنا ہوتا ہے ان میں بھی تھکاوٹ ایک عام شکایت رہتی ہے جس کی وجہ خون کے بہاؤ میں کمی ہوتی ہے۔ یہ تھکاوٹ بھی جنسی خواہشات کم کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ دل کی بیماریوں کے لیے دی جانے والی چند ادویات کی وجہ سے بھی جنسی خواہش کم کو جاتی ہے۔

علاج اور بات چیت

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی جادوئی حل موجود نہیں ہے۔ ہر کیس منفرد ہوتا ہے اور علاج کا دارومدار انفرادی تشخیص پر ہوتا ہے۔

عام طور پر ڈاکٹر جوڑوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے اس بارے میں بات ضرور کریں۔

ڈیاگو فونسیکا کا کہنا ہے کہ ’کھل کر اس موضوع پر اپنے پارٹنر سے بات کرنے سے غلط فہمی پیدا نہیں ہوتی، اگرچہ یہ ایک تکلیف دہ گفتگو ہو سکتی ہے مگر اس کی مدد سے پارٹنر مل کر صورتحال کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں اور اس کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 31977 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments