اسٹیبلشمنٹ، عمران خان کی مقبولیت اور الیکشن


پاکستان میں انتخاب آپ تبھی جیت سکتے ہیں جب اسٹیبلشمنٹ آپ کو منتخب کر لے۔

عمران خان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم 1992 میں کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت چکی تھی جس کا مطلب ہے کہ عمران خان کا کرکٹنگ کیریئر 1992 میں اپنا عروج دیکھ چکا تھا۔ عمران خان شوکت خانم میموریل ہسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ کا سلسلہ اس سے کئی سال پہلے شروع کر چکے تھے۔ نوے کی دہائی کے وسط تک ہسپتال کا منصوبہ عمران خان کی ایک شاندار کامیابی کی صورت میں سامنے آ چکا تھا۔ اور یہی وہ وقت تھا کہ جب عمران خان بہت ”ہینڈسم“ بھی تھے، کیونکہ ان کی عمر چالیس برس سے کچھ ہی زیادہ تھی۔ عمران خان کے یہ دو کارنامے یعنی کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی کپتانی اور چیرٹی کے طور پر ایک بہت ہی شاندار کینسر ہسپتال دونوں نوے کی دہائی کے وسط تک اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ سامنے آ چکے تھے۔ عمران خان کی شخصیت، حسن اور جوانی کا کرشمہ بھی عروج پر تھا۔

اپنے ان دونوں کارناموں اور کرشماتی شخصیت (حسن جوانی) کے عروج پر عمران خان نے 25 اپریل 1996 کو ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی۔ ظاہر ہے کہ انہیں بہت امید تھی کہ پاکستانی عوام انہیں اتنا پیار دیتے ہیں، ان پر اعتبار کر کے پیسہ دیتے ہیں تو ووٹ بھی دیں گے۔ انہوں نے الیکشن جیت کر پاکستان میں انصاف کا بول بالا کرنا تھا۔

پی ٹی آئی کے وجود میں آنے کے دس مہینے بعد پاکستان میں پہلا الیکشن فروری 1997 میں ہوا۔ پی ٹی آئی نے بھی الیکشن میں حصہ لیا۔ اس الیکشن میں پی ٹی آئی نے کسی اسمبلی میں کوئی سیٹ نہیں جیتی۔ عمران خان خود بھی تمام سیٹوں پر بہت بری طرح ہار گئے۔ مقبولیت بیٹھی سوچتی رہ گئی۔

1997 کے الیکشن میں عمران خان کے اصل کارنامے، کرکٹ ورلڈ کپ، کینسر ہسپتال، اور حسن جوانی جو ان کی شہرت اور مقبولیت کی وجوہات سمجھے جاتے ہیں، اپنے عروج پر تھے۔ وہی سال ان کی مقبولیت کے عروج کے سال ہونے بھی چاہیے تھے۔ لیکن اس الیکشن کے ریزلٹ بتاتے ہیں کہ عمران کی مقبولیت، ایک مرتبہ پھر، ووٹ میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ صرف ووٹ ہی نہیں، ان برسوں میں عمران خان کے جلسے بھی بے رونق ہی ہوتے تھے۔ یہی حال 2002 کے الیکشن میں رہا۔

2002 کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے بھرپور حصہ لیا اس الیکشن میں پی ٹی آئی نے ایک سیٹ جیتی یعنی کہ عمران خان اپنی سیٹ پر کامیاب ہوئے۔

2008 کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے احتجاج کے طور پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔

پھر 2013 کا الیکشن آ گیا۔ عمران خان کو ورلڈ کپ جیتے اکیس برس بیت چکے تھے۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسے شاندار منصوبے کو مکمل ہوئے انیس برس گزر چکے تھے۔ حسن جوانی بھی ساٹھ کی دہائی میں داخل ہو کر چالیس کے مقابلے میں کم رہ گئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران خان نے پچھلی دو دہائیوں میں تو سیاست کے علاوہ کوئی خاص کارنامہ نہیں کیا تھا اور سیاست میں ان کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا کیونکہ وہ کبھی حکومت میں تھے ہی نہیں۔ لیکن یک دم کوئی جادو چل گیا۔ عمران خان کی مقبولیت رنگ لانے لگی۔ سیاسی جلسوں میں ہجوم نظر آنے لگے۔ اس الیکشن میں پی ٹی آئی 35 سیٹیں جیت کر تیسرے نمبر پر رہی۔

اب آ گیا 2018 کا الیکشن۔ اب عمران خان یک دم مسیحا کے عہدے پر فائز کر دیے گئے۔ 126 دن کا دھرنا ہو گیا۔ سیاسی بہروپیے یعنی الیکٹ ایبلز قطار اندر قطار پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ عمران خان الیکشن جیت کر وزیر اعظم بن گئے۔

یہ اسٹیبلشمنٹ کی چھڑی، اوہ، معافی چاہتا ہوں، کوئی جادو کی چھڑی ہی ہے جو پاکستان میں کسی کو مسیحا کے عہدے پر فائز کر دیتی ہے۔ ورنہ کرکٹ ورلڈ کپ یا چیریٹی کے کارناموں سے حاصل شدہ مقبولیت اور حسن جوانی آپ کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتی۔ کم از کم عمران خان کی کہانی تو یہی بتاتی ہے۔
پاکستان میں انتخاب آپ تبھی جیت سکتے ہیں جب اسٹیبلشمنٹ آپ کو منتخب کر لے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik