انصاف کا نرالا نوٹ


انصاف کے ایک اعلی ایوان سے حال ہی میں جاری ہوئے ایک اختلافی نوٹ (یا اضافی نوٹ) نے خاصا بھونچال مچا دیا ہے۔ چالیس پینتالیس صفحے کی انشا پردازی کا لب لباب یہ ہے کہ اسمبلیاں ٹوٹنے کے نوے اور ساٹھ دن کے اندر الیکشن نہ کروا کر آئین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ آئینی مدت میں انتخابات کی تاریخ نہ دے کر صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ سبحان اللہ! کیا تجاہل عارفانہ ہے، کیا عالی مرتبت کی نظروں سے صدر کے وہ خطوط نہیں گزرے جن مین بار بار الیکشن کی تاریخ دینے کا مطالبہ تھا اور مشاورت کی دعوت بھی۔ جواب میں الیکشن کمیشن کا رعونت آمیز انکار بھی سب نے سنا مگر انصاف کے کان پر جوں نہ رینگی۔

پھر یہ سوال بھی تو اٹھتا ہے کہ قومی اسمبلی تو اگست میں ٹوٹی تھی اس سے چھ ماہ پہلے جب پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں ٹوٹیں اور صدر کی دی ہوئی تاریخ پر الیکشن کروانے سے انکار کیا گیا تو کیا کارروائی ہوئی؟ کیا اس وقت آئین شکنوں کا راستہ روکا گیا یا انہیں سہولت دی گئی۔ بلکہ جب سپریم کورٹ میں آئینی مدت میں انتخابات کروانے کا کیس چلا تو سیدھے سادھے آئینی سوال کا جواب دینے کے بجائے یہ دور کی کوڑی کون لایا کہ پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اسمبلیاں آئینی طریقے سے تحلیل ہوئی ہیں یا نہیں؟

پھر جب سپریم کورٹ کا 14 مئی کو انتخاب کا فیصلہ آ گیا تو وہ کون شخصیات تھیں جنہوں نے بنچ سے علیحدہ ہو کر اس فیصلے کو متنازع بنا یا۔ یہ آئین شکنوں کی مزاحمت تھی یا سہولت کاری؟ جب سابق چیف جسٹس نے آئین کے تحفظ (آپ ہی کی دی ہوئی تعریف کے مطابق) کے لیے قدم اٹھایا تو وہ وقت ان کے خلاف کھڑے ہونے کا تھا یا مخالفت مٰیں؟ شاہین صہبائی صاحب نے تو بڑی کثیف مثال دی ہے مگر کیا کریں بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی۔

عالی مرتبت، سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ اس نوٹ کی زحمت نہ اٹھاتے تو بہتر ہوتا کیونکہ اس نوٹ نے آئین شکنی کا راستہ تو کیا روکنا تھا بلکہ ملک میں انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بننے والی سب سے بڑی شخصیت سکندر سلطان راجہ کے تحفظ کو راستہ فراہم کر دیا ہے۔ کیونکہ جب صدر کی آئین شکنی پہ بات ہوگی تو لازما ان کے استثنا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا اور صدر کے استثنا کی آڑ میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ بھی پتلی گلی سے بچ نکلے گا۔

بائبل کی روایت میں یہودا اسکریوتی حضرت عیسی ؑ کا وہ حواری تھا جس نے ان کی مخبری کر کے رومی فوج کے ہاتھوں گرفتار کروایا اور انعام پایا۔ بعد ازاں جب اسے پتہ چلا کہ رومی حضرت عیسی ؑ کو مصلوب کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو گریبان پھاڑتا سر پہ خاک ڈالتا سب سے بڑے پروہت کے پاس پہنچا اور بڑے گلوگیر لہجے میں اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور چاہا کہ انعام کی رقم واپس کر دے۔ پروہت نے انکار کر دیا۔ پھر یہودا اسکریوتی نے کیا کیا یہ بتانا بیکار ہے۔

Facebook Comments HS