انصاف کا نرالا نوٹ

انصاف کے ایک اعلی ایوان سے حال ہی میں جاری ہوئے ایک اختلافی نوٹ (یا اضافی نوٹ) نے خاصا بھونچال مچا دیا ہے۔ چالیس پینتالیس صفحے کی انشا پردازی کا لب لباب یہ ہے کہ اسمبلیاں ٹوٹنے کے نوے اور ساٹھ دن کے اندر الیکشن نہ کروا کر آئین کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ آئینی مدت میں انتخابات کی تاریخ نہ دے کر صدر مملکت اور چیف الیکشن کمشنر آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

Read more

غیر سیاسی مکالمے

غلاف ذکری ”بھائی غلاف ذکری التاخیری دینا“ ”یہ انگریزی فارمیسی ہے“ سیلز میں نے دکان کی بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”ہم حکیمی دوائیں نہیں بیچتے“ ”ارے بھائی کنڈوم مانگ رہا ہوں delayed condom“ میں نے جل کر کہا ”تو یوں کہیں نہ“ وہ ہنسا ”ویسے یہ آئٹم شارٹ ہے آج کل“ ”کیوں بھائی اب اس کا ٹوڑا کیوں مچ گیا؟“ ”یہ لگژری آئٹم ہے آج کل امپورٹ پر پابندی ہے“ ”عجیب منطق ہے ایک طرف بچے پیدا

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا مقدمہ

نوٹ: پچھلے دنوں ہم سب کے صفحات پہ ایک سینئر مصنفہ کا کالم پڑھا جس میں اردو کے عظیم ترین مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی بعض تحریروں کے اقتباسات نقل کر کے انہیں عورت مخالف یا تضحیک آمیز قرار دیا گیا۔ جس طرح کسی بھی ادیب پر تنقید مصنفہ کا حق ہے اسی طرح ان سے علمی اختلاف ہمارا حق ہے جسے استعمال کرتے ہوئے فی البدیہ ایک تبصرہ کیا مگر پھر یہ لگا کہ یوسفی صاحب سے محبت

Read more

بلومز ڈے: تخلیق کا ساتواں دن

ہر سال 16 جون کو دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایک دلچسپ ادبی اور ثقافتی تہوار مناتے ہیں۔ دراصل 16جون 1904 وہ مخصوص دن ہے جس میں پیش آنے والے افسانوی واقعات آئرش ادیب جیمز جوائس کے شہرہ آفاق ناول یولیسیس میں بیان کیے گئے ہیں۔ ناول کے مرکزی کردار لیوپلڈ بلوم کی نسبت سے اس دن کو بلومز ڈے کہا جاتا ہے۔ اس دن یوں تو پوری مغربی دنیا میں رنگا رنگ تقریبات ہوتی ہیں جس میں اس دور

Read more

گنٹر گراس، میلان کنڈیرا اور مساجنی

بیسویں صدی کے آخری نصف نے کئی انقلابات دیکھے مثلاً سامراجی نظام کا خاتمہ، کمیون ازم کا عروج و زوال، خلاء میں سفر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ مگر جس انقلاب نے بقول کسے ہمارے زمانے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ آزادی نسواں ہے۔ آزادی نسواں کی اس تحریک کے زیر اثر خواتین رہنماؤں نے مذہب، فلسفہ اور فن پر تنقیدی نظر ڈالنا شروع کی اور ایسے ہر عقیدے نظریے اور فن پارے کو مسترد کرنے کا

Read more

سب پہ بھاری کی الٹی گلے پڑی چال

میڈیا پر آج کل ہر طرف آصف علی زرداری کے نام کا ڈنکا بج رہا ہے۔ ایسے ایسے سینئر تجزیہ کار جنہوں نے تیس تیس اور چالیس چالیس سال سیاست اور صحافت کی خاک چھانی ہے ان کی تعریف میں رطب اللسان ہیں کہ کس طرح ان کی حکمت عملی نے عمران خان کو شہ مات دی۔ ایسے جغادری دانشوروں سے اختلاف کی جسارت گویا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے اس لیے ڈرتے ڈرتے چند گزارشات عرض ہیں۔ اگر

Read more

جارج آرویل کا ناول اینیمل فارم

انگریزی زبان میں سیاسی ناول نگاری کی تاریخ تقریباً پانچ سو سال پرانی ہے۔ تھامس مور اور جوناتھن سوئفٹ کے شاہکار ناولوں سے جنم لینے والی تحریک انیسویں اور بیسویں صدی میں رونما ہونے والی سیاسی اور سماجی انقلابات کے زیر اثر ایک توانا ادبی روایت بن گئی۔ پھر دو عظیم جنگوں کے درمیان تو دنیا ایسی بدلی کے پہلی مرتبہ سیاسی نظریے منظم عالمی تحریکوں کی صورت اختیار کر گئے۔

Read more

میانمار کا فوجی انقلاب اور جمہوری رویوں میں تضادات

فلمی صحافت کی اصطلاح زبان میں بات کی جائے تو ماننا پڑے گا کہ میانمار کو خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے۔ ہند چینی خطے کا یہ چھوٹا سا ملک بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ہمیشہ سے شہ سرخیاں بناتا رہا ہے۔ سب سے پہلے نصف صدی کے قریب اقتدار پر قابض فوجی رجیم جس کے خلاف دھان پان سی لڑکی آنگ سان سوچی کی دلیرانہ جدوجہد، طویل قید تنہائی، بڑے پیمانے پر عالمی پذیرائی اور پھر نوبل انعام۔

Read more

مصر میں محمد علی پاشا کا صنعتی انقلاب کیوں ناکام ہوا؟

فرانسیسی فاتح نپولین بوناپارٹ کی جنگی مہمات میں سے ایک نسبتاً غیر اہم مہم مصر کی مہم تھی۔ مصر پر حملے کی یہ کارروائی نپولین اور فرانس کے لیے تو خاطر خواہ نتائج پیدا نہ کر سکی اور نہ ہی یورپ پر بالادستی کے لیے بچھی بساط پر اس کا کوئی خاص اثر پڑا، مگر شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات پڑے۔ اسکندریہ اور پھر جنگ اہرام میں نپولین کی آسان اور یک طرفہ

Read more

افریقہ میں استعماری کھیل اور یورپ کے فکری مغالطے

نوٹ: پچھلے مضمون میں برلن کانفرنس اور افریقہ پر غلبے کے لیے یورپی استعمار کی تاریخ کا مختصر تجزیہ پیش کیا گیا تھا۔ اب ہم دیکھیں گے کہ اس قبضے کے جواز کے لیے یورپ کے عقلی اور منظقی ذہن نے کیا کیا استدلال گھڑے۔ برلن کانفرنس کا قصہ ختم نہیں ہو سکتا جب تک ذہن ایک دلچسپ سوال کا جواب تلاش نہ کرلے جو ہراس ذہن میں پیدا ہوتا ہے جو نشاط ثانیہ کے بعد یورپ کے علمی اور

Read more

استعماری کھیل اور افریقہ پر غلبے کی دوڑ

افریقہ سے درآمد شدہ غلام اوقیانوس کے پار امریکہ میں کپاس اور شکر کے کھیتوں اور کارخانوں کا ایندھن بن رہے تھے، ساتھ ہی ساتھ افریقہ ہاتھی دانت، پام آئل اور دیگر اجناس کا منبع بھی تھا۔ یہی وجہ ہے فرانس، برطانیہ اور ولندیزیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کی ایک قسم کی مسابقتی دوڑ شروع ہو گئی تھی، مگر یہ ساری تگ و دو مغربی اور جنوبی ساحلی پٹی کے علاقوں تک ہی محدود رہی۔ اور یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ یورپی تاجر افریقہ کے ساحلوں پہ موجود واحد غیر ملکی نہ تھے بلکہ مشرقی ساحلوں پر بحرہند سے متصل بندرگاہوں پر اسی کے متوازی مگر زیادہ قدیم اور وسیع ایک اور عالمی تجارتی ماڈل کام کر رہا تھا، یہ اومان اور یمن کے عرب اور ہندوستان کے مسلمان تاجروں کی آبادیاں تھیں جو صومالیہ، ممباسا، زنجبار اور موزمبیق کی ساحلی پٹی پر آباد تھے۔

Read more

فلورین زیلر کی ٹرالوجی اور مغرب میں خاندان کا بحران

فلورین زیلر پر کچھ لکھنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ اس نسل کا تعارف کرا دیا جائے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں تاکہ اس ذہنی پس منظر کی تفہیم ہو سکے جو ان کی تخلیقات میں کارفرما ہے۔ 1970 کی دہائی کے آخری برسوں میں جنم لینے والی اس نسل نے شعور کی آنکھ دیوار برلن کے گرنے کے بعد کی دنیا پیں کھولی۔ یہ زمانہ جسے سماجی ماہرین پوسٹ ماڈرن یا مابعد جدید عہد قرار دیتے ہیں اس

Read more

رستم اور سہراب نائجیریا کے گاؤں میں

رستم و سہراب کا نام اردو اور فارسی ادب کی روایت سے آگاہ افراد کے لیے اجنبی نہ ہوگا۔ ویسے تو اس قصے کو باقاعدہ تحریر کی صورت گیارہویں صدی میں فردوسی کے شاہنامے میں ملی مگر یہ قصہ شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنی خود فارسی زبان اور اس سے بھی زیادہ قدیم ہے اس کی تھیم یا خیالیہ۔ باپ بیٹے کے تعلقات کی کشمکش اور اس کے نتیجے میں ایک کے ہاتھوں دوسرے کی زندگی کا خاتمہ کلاسیکی المیے کی بہترین مثال ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے، کلاسیکی ادب تاریخ کے جس دور سے تعلق رکھتا ہے وہ پدر شاہی نظام کے زیر اثر معاشروں کا دور تھا، ایسے نیم قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں خاندان ہو یا مملکت سربراہی کا شرف مرد کے حصے میں ہی آتا تھا۔

اس دور کے ہیرو میں اخلاقی برتری، جسمانی قوت اور بہادری خالص مردانہ اوصاف کی صورت میں ہی جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ ہیرو کی یہ خوبیاں اس درجہ نقطہ کمال کو پہنچی ہوئی ہوتی ہیں کہ ان کے آگے دیوتا بھی پانی بھرتے ہیں، رستم ہو یا ایکیلیس ساری کائنات میں کلاسیکی ہیرو کا اگر کوئی مقابل ہے کوئی مماثل ہے تو وہ اسی کا تخم اس کا اپنا بیٹا ہے۔ اور اسی بات میں کلاسیکی المیے کی اثر پذیری کا راز ہے۔ ہیرو کے ہاتھوں بار بار زچ ہونے والے، اس کی قوتوں سے خائف اور اس کی کامیابیوں سے حاسد دیوتا اسے زیر کرنے کے لیے تقدیر کا پھندا تیار کرتے ہیں اور بیٹے کو باپ کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ قبائلی معاشرے میں بیٹا اور بھائی قوت کی علامت ہیں، پھر اگر وہی بیٹا جسے باپ کا بازو بننا تھا اور اس کا نام بڑھانا تھا وہ باپ کے سامنے آ کھڑا ہو یہاں تک کے یہ مقابلہ دونوں میں سے کسی ایک کی موت پر ختم ہو تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

Read more

مارسل پروست کی گمشدہ جنت

بیسویں صدی کے اوائل میں سائنسدانوں اور فلسفیوں میں تصور زماں کے دو متضاد نظریے مقبول تھے، پہلا آئن سٹائن کے نظریہ اضافت سے اخذ شدہ نتیجہ کہ وقت مادہ اور توانائی کی حرکت کا نام ہے جس کی ساخت کو ریاضی کی مساوات سے سمجھا جا سکتا ہے اور جس کے بہاؤ کی مقدار کو آلات کے ذریعے ناپا جا سکتا ہے۔ دوسرا فرانسیسی فلسفی ہنری برگساں کا دورانیے کا نظریہ جو زماں کو تخلیق کے وصف کے طور

Read more

جب سوویت یونین میں ایک کتاب گرفتار ہوئی

کتابوں کے اٹھائے جانے اور غائب ہونے کا موسم ہے (ویسے آج کل یہ اصطلاحات انسانوں کیلے زیادہ استعمال ہو رہی ہیں ) تو سوچا کیوں نہ اس کتاب کا ذکر کریں جو باقاعدہ اندیشہ نقص امن میں گرفتار کی گئی اور پھر کوئی دو دہائی اوپر پابند سلاسل بھی رہی۔ سال ہے انیس سو اکسٹھ کا اور ذکر ہے آئرن کرٹن کے اس پار سویت یونین کا، جب خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ہرکاروں نے ایک ادیب کے اپارٹمنٹ پہ چھاپہ مار کر اس کے ناول کے مسودے، نوٹس بک اور ٹائپ رائٹر پر قبضہ کر لیا۔

واسلی گروسمین ایک جنگی نامہ نگار تھا جو دوسری جنگ عظیم کے دوران سٹالن گراڈ اور ماسکو کے محاذوں پہ رپورٹنگ کر چکا تھا، اس سے پہلے کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی کے دنوں خصوصاً 1930 کے عشرے کی بدنام زمانہ گریٹ پرج کے دوران بیوی اور قریبی دوست کی گرفتاری اور غائب کر دیے جانے نے اسے اسٹالن کی استبدادی ریاست کے قریبی مشاہدے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ یہ سارے تجربات اس کے شاہکار ناول لائف اینڈ فیٹ (life and fate) میں شامل ہو گئے۔

Read more

انگریزی ادب میں گوتھک روایت کے کچھ شاہکار

اٹھارہویں اور اننیسویں صدی کے یورپ خصوصاً انگلستان میں خوفناک کہانیوں اور ناولوں کی ایک صنف نے جنم لیا جو گوتھک ادب کہلائی۔ گوتھک ادب کے بنیادی عناصر مخصوص تھے : ایک قدیم قلعہ نما عمارت جس کا ارکیٹیکچر بڑی حد تک گوتھک ہو، آسیبی فضا، پراسرار واقعات، ایک چالاک و سفاک اور بعض حالات میں مافوق الفطرت قووتوں کا مالک ولن، مشکلات میں گھری ہوئی حسینہ اور رومانوی خصوصیات کا حامل ہیرو۔ یوں تو یورپ کی تقریباً ہر زبان

Read more