رستم و سہراب کا نام اردو اور فارسی ادب کی روایت سے آگاہ افراد کے لیے اجنبی نہ ہوگا۔ ویسے تو اس قصے کو باقاعدہ تحریر کی صورت گیارہویں صدی میں فردوسی کے شاہنامے میں ملی مگر یہ قصہ شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنی خود فارسی زبان اور اس سے بھی زیادہ قدیم ہے اس کی تھیم یا خیالیہ۔ باپ بیٹے کے تعلقات کی کشمکش اور اس کے نتیجے میں ایک کے ہاتھوں دوسرے کی زندگی کا خاتمہ کلاسیکی المیے کی بہترین مثال ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے، کلاسیکی ادب تاریخ کے جس دور سے تعلق رکھتا ہے وہ پدر شاہی نظام کے زیر اثر معاشروں کا دور تھا، ایسے نیم قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں خاندان ہو یا مملکت سربراہی کا شرف مرد کے حصے میں ہی آتا تھا۔
اس دور کے ہیرو میں اخلاقی برتری، جسمانی قوت اور بہادری خالص مردانہ اوصاف کی صورت میں ہی جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ ہیرو کی یہ خوبیاں اس درجہ نقطہ کمال کو پہنچی ہوئی ہوتی ہیں کہ ان کے آگے دیوتا بھی پانی بھرتے ہیں، رستم ہو یا ایکیلیس ساری کائنات میں کلاسیکی ہیرو کا اگر کوئی مقابل ہے کوئی مماثل ہے تو وہ اسی کا تخم اس کا اپنا بیٹا ہے۔ اور اسی بات میں کلاسیکی المیے کی اثر پذیری کا راز ہے۔ ہیرو کے ہاتھوں بار بار زچ ہونے والے، اس کی قوتوں سے خائف اور اس کی کامیابیوں سے حاسد دیوتا اسے زیر کرنے کے لیے تقدیر کا پھندا تیار کرتے ہیں اور بیٹے کو باپ کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ قبائلی معاشرے میں بیٹا اور بھائی قوت کی علامت ہیں، پھر اگر وہی بیٹا جسے باپ کا بازو بننا تھا اور اس کا نام بڑھانا تھا وہ باپ کے سامنے آ کھڑا ہو یہاں تک کے یہ مقابلہ دونوں میں سے کسی ایک کی موت پر ختم ہو تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
Read more