کوہستان کی بپتا اور خواتین کا حال


کوہستان میں رونما ہونے والا 2012ء کا واقعہ جس میں تین نوجوان لڑکیوں کو ایک شادی کی تقریب میں منعقد کی گئی محفل میں نظر آنے اور تالیاں بجانے کے جرم کی پاداش میں مقامی جرگہ کے حکم پر مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا، ابھی ذہن سے محو نہیں ہوا ہے کہ ایک اور ایسا المیہ پھر خبروں میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دس بارہ سال پرانی کہانی ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔ ویڈیو، لڑکیاں اور الزام، نہ تحقیق، نہ گواہ، نہ ثبوت صرف فیصلہ وہ بھی اٹل جس سے انحراف ممکن نہیں۔ 2012ء کے واقعہ سے دنیا کو مطلع کرنے والا افضل اور اس کا بھائی جس پر مبینہ ویڈیو میں نظر آنے کا الزام تھا دونوں جان سے گئے۔ شاید ہی کوئی اس بار حقائق منظر عام پر لانے کی جرات بھی کرسکے۔

ویسے تو پاکستان میں کوہستان کے نام سے تین علاقے ہیں جن میں سے ایک سندھ کوہستان میں دوسرا سوات کوہستان اور تیسرا ہزارہ، سوات اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے بیچ کا علاقہ انڈس کوہستان کہلاتا ہے۔ یہ واقعات اسی انڈس کوہستان میں رونما ہوئے ہیں۔

انڈس کوہستان بھی دریائے سندھ کے دو اطراف میں نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے منقسم ہے بلکہ زبان و ثقافت میں بھی فرق نمایاں ہے۔ دریا کے دائیں طرف کا علاقہ ماضی میں ریاست سوات کا حصہ رہا ہے اور اس نسبت سے اس کو سوات کوہستان بھی کہا جاتا ہے مگر اب انتظامی طور پر یہ انڈس کوہستان کا حصہ ہے جس کے مزید دو اضلاع بنا دیے گئے ہیں۔ کوہستان کے اس حصے سے شاہراہ ریشم گزرتی ہے اور یہاں نسبتاً حکومت کی رٹ بھی نظر آتی ہے۔

دریائے سندھ کے بائیں جانب شیناکی کوہستان کا علاقہ ہے جہاں سے ایسی خبریں ملتی ہیں۔ یہاں کے باسی شینا زبان بولتے ہیں جو ہندوستان، پاکستان اور افغانستان میں بولی جانے والی ہند یورپی زبانوں میں داردی قبیلے کی ایک بڑی زبان ہے۔

یہاں ایسے واقعات رونما ہونے کی وجوہات میں مذہبی بنیاد پرستی اور قبائلی روایت پسندی کے ساتھ ذہنی اور شعوری ارتقاء کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہاں بسنے والے داردی قبائل مزید چار گروہوں میں تقسیم ہیں جن ایک شین، دوسرا یشکن، تیسرا کمین اور چوتھا گروہ ڈوم کہلاتا ہے۔ ان گروہوں میں آپس کی دشمنیوں کا بھی ایک ماضی رہا ہے جو ہنوز جاری ہے۔ عموماً ایسے واقعات میں آپس کی پرانی دشمنیاں بھی کارفرما ہوتی ہیں مگر ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔

ایسے واقعات میں خواتین کو بدنام کر کے مخالف گروہ کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے والے یا طعنہ زنی کر کے لوگوں کو انتقام پر مجبور کرنے والے دشمن گروہ کے بدخواہ ہوتے ہیں۔ 2012ء کی ویڈیو جس نے کم از کم پانچ افراد کی جان لی وہ تحقیق کرنے پر جعلی نکلی تھی اور حالیہ واقعہ میں بھی ایسی کسی جعلی ویڈیو کا احتمال ہے مگر یہاں کوئی سچ جاننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس علاقے کے رواج میں عورت کا قتل سب سے سستا انصاف ہے جو ایک غیرت مند قبیلے کی انا کی تسکین کے لئے کافی ہوتا ہے، جرگہ یہی سستا اور فوری انصاف اسی طرح ہی فراہم کرتا ہے۔

کوہستان یعنی پہاڑوں کا یہ دیس اپنی بود و باش اور انفرادی و اجتماعی طرز زندگی میں بھی منفرد ہے۔ ایک طرف دریائے سندھ دوسری طرف سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان یہاں بسنے والے داردی قبائل کبھی بھی ایک راجہ، میر سردار، ملک یا نواب طرز کے حکمران پر متفق نہ ہوئے۔ یہاں کے سارے اجتماعی معاملات جرگہ کے تحت چلائے جاتے رہے ہیں۔ ہر قبیلے کی نمائندگی ان کے معتبر لوگ کرتے ہیں جو ’جسٹیرو‘ کہلاتے ہیں۔

یہاں رہنے والے قبائل آپس کی دشمنیوں کے باوجود باہر سے ہونے والے کسی بھی طرح کے حملے میں یکسو ہو جاتے ہیں جس کی ایک تاریخی مثال یوسفزئی پشتونوں کے مقابلے میں ان کا اتحاد ہے جس کی وجہ سے حملہ آور بٹگرام سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نہ صرف یوسفزئی پشتون بلکہ اس کے بعد رنجیت سنگھ کی خالصہ سرکار بھی یہاں قدم نہ رکھ سکی۔ اس علاقے کو مطیع کرنے کی انگریز اور کشمیری ڈوگروں کی تمام کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔ کسی بھی سرکار کے زیر نگین نہ آنے کی وجہ سے اس علاقے کو یاغستان یا باغیوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے جہاں مقامی لوگوں کا اپنا رواج ہی ایک قانون کا درجہ رکھتا ہے۔

انگریزوں کے دور میں طاقت کے تین مراکز میں سے ایک کشمیر میں تھا جس کی اپنی آزادانہ حیثیت تھی۔ 1846ء کے معاہدہ امرتسر کے تحت مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ کشمیر کے شمالی علاقے بھی بیچ دیے گئے تھے جن میں سے بعد میں گلگت، ہنزہ، نگر، غزر، چلاس اور چترال واپس لئے گئے۔ طاقت کا دوسرا مرکز پشاور تھا جہاں سے تمام قبائلی علاقوں کا انتظام سنبھالا جاتا تھا۔ چترال، دیر، سوات اور کوہستان کے معاملات بھی اسی کے سپرد کر دیے گئے تھے مگر ان کا عمل دخل شیناکی کوہستان میں کبھی نہ رہا۔

طاقت کا تیسرا مرکز گلگت میں تھا جہاں انگریز اور ڈوگرہ مل کی انتظام سنبھالتے تھے۔ گلگت داردی قبائل میں شینا بولنے والوں کا مرکز بھی ہے مگر انتظامی طور پر اس کا دائرہ اثر بھی چلاس میں ختم ہوجاتا تھا۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پاکستان اور چین کے درمیان شاہراہ قراقرم کی تعمیر ہوئی تو شیناکی کوہستان میں شدید مزاحمت ہوئی اور اس شاہراہ کو تھاکوٹ کے مقام پر پل کے ذریعے دوسری طرف سے گزارا گیا جس کی وجہ سے ایک بار پھر یہ علاقہ بیرونی دنیا سے براہ راست منسلک نہ ہو پایا۔

سیاسی طور پر پشتو زبان بولنے والوں کی اکثریت کے حامل صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ ہونے کہ وجہ سے یہاں کی شینا بولنے والی لسانی اقلیت ہمیشہ نظر انداز ہوتی آ رہی ہے۔ یہاں تعلیم کی شرح سمیت بنیادی صحت اور دیگر سماجی و اقتصادی اشاریے ملک میں سب سے کم ترین سطح پر ہونے کے باوجود اس کا ذکر اتنا نہیں نہیں ہوتا جتنا صوبہ سندھ کے تھر پارکر کا ہوتا ہے۔

اس علاقے میں گرلز سکول تو کیا بوائز سکولز بھی ہمیشہ بند رہتے ہیں کیونکہ یہاں پڑھانے کے لئے تعینات اساتذہ صوبے میں کہیں اور رہتے ہیں۔ یہاں ہسپتال میں ’ڈاکٹر اردل‘ کی اصطلاح عام سننے کو ملتی ہے۔ جو ڈاکٹر کا اردلی ہوتا ہے وہی عموماً لوگوں کا علاج ہی نہیں عمل جراحی تک کرتا ہے جس کی اونی ٹوپی میں زخم سینے والی سوئی ہمیشہ رہتی ہے۔ ایک بار تو میں نے سنا کہ یہاں لیڈی ہیلتھ ویزیٹر کی تنخواہ بھی مرد وصول کرتے ہیں مگر اس بات کی تصدیق نہ ہو سکی۔ یہ بات مصدقہ ہے کہ کوہستان کے نام پر تنخواہ لینے والی زیادہ تر خواتین اساتذہ اور لیڈی ہیلتھ ویزیٹرز وغیرہ نے یہ علاقہ دیکھا بھی نہیں ہوتا ہے۔ مگر ایسی باتیں جرگہ کے لئے اہم نہیں ہوتیں۔

اس علاقے میں جنگلات اور جنگلی حیات کی بہتات ہے۔ یہاں سے عمارتی لکڑی ملک کے دوسرے حصوں تک لے جائی جاتی ہے۔ کوہستان میں ایک موثر انتظامی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سے لکڑی غیر قانونی طور پر سمگل کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں معدنیات کی بھی فراوانی ہے جو یہاں سے بلا روک ٹوک لے جائی جاتی ہے۔ اس کاروبار کے لئے جرگہ ایک پل کا کا کام سرانجام دیتا ہے۔

نوے کی دہائی کے ایک سال کو یہاں کے لوگ ’افیون کے سال‘ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں جب یہاں پورے علاقے میں متفقہ طور پر افیون کی کاشت کی گئی تھی۔ پورے علاقے میں ایک ساتھ افیون کی کاشت کرنے کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد جرگہ کے ایسے معاملات میں موثر ہونے کی غمازی کرتا ہے۔

حالیہ اس واقعہ سے چند روز پہلے یہاں سے نکلنے والا ایک اور فتویٰ نما فیصلہ بھی سنا گیا جس میں مقامی لوگوں کو این جی اوز یا غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے والی خواتین سے فوری طور پر نکاح کر کے گھر بٹھانے کا حکم دیا گیا تھا۔ مقامی جرگہ اور مذہبی علماء کے ایسے فیصلے نوے کی دہائی میں بھی سننے کو ملتے تھے جو عموماً عمر اصغر خان مرحوم کی سنگی ڈیویلپمنٹ فاونڈیشن کو یہاں آنے سے روکنے کے لئے ہوتے تھے۔

کوہستان کوئی جزیرہ یا الگ تھلگ سیارہ نہیں بلکہ اس ملک کے ایک صوبے کا انتہائی اہم علاقہ ہونے کے باوجود پاکستان کے عوام و خواص کے لئے اجنبی ہے۔ صدیوں سے الگ تھلگ اور باقی دنیا سے کٹ کر رہنے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے اپنے رواج کو ہی دنیا کا دستور سمجھ رکھا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس علاقے کی اجنبیت ختم کر کے اجتماعی دھارے میں شامل کیا جائے۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan