ایک حنوط شدہ نسل کے اعترافات

چند ماہ پہلے ایک دوست کے بیٹے کی شادی کا سندیسہ وٹس ایپ پر ملا۔ ”میرے بیٹے ڈاکٹر احمد کی شادی خانہ آبادی ڈاکٹر سمیرا سے طے پائی ہے۔ دلہا اور دلہن کی خواہش پر ، تقریب نکاح مسجد شمسی میں جمعہ کی نماز کے بعد ہوگی۔ اگر آپ اسی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو آپ کی شمولیت ہمارے لئے باعث عزت ہوگی اور منہ بھی میٹھا کرسکیں گے۔ ولیمہ محدود ہے۔ مقامی دار الایتام میں صرف بچوں کے ساتھ نیا جوڑا شامل ہو گا۔ براہ کرم ہمارے بچوں کی خوشحال اور نیک زندگی کی دعا میں یاد رکھیے گا“
میں کئی ماہ اس طلسم سے نہیں نکل سکا ہوں۔ یہ ہماری نئی نسل ہے۔ ان کے لئے ہماری اور ہم سے پرانی نسل نے زندگی کے کسی شعور کا بندوبست نہیں کیا۔ ہم نے ان کو وہ زندگی اسی طرح سے طشتری میں پیش کی ہے جیسے ہماری زندگی صدیوں سے ایک حنوط شدہ شکل میں ہمارے پاس تھی۔ ہم نے انہیں سوال کرنے سے منع کیا۔ ہمیشہ اپنے ماضی کی لاشوں کو تاج پہناتے رہے۔ تاریخ کو دیومالائی قصوں کی صورت پیش کیا۔ ہمارے بزرگوں سے کوئی غلطی نہ ہوئی اور نہ ہی ہماری زندگی میں کوئی کجی ہے۔ ہمارے اکابر ہوا میں اڑتے رہے اور پانی پر چلتے رہے۔ ہم سر ہلاتے رہے۔ لیکن نئی نسل زیر لب مسکراتے ہوئے سر نیچے کیے اثبات میں ہلاتی رہی۔ ہم ہر وقت ٹوکتے رہے کہ تمہاری عمر میں ہم خاک پھانک کر کارنامے سر انجام دیتے رہے اور تم پورا دن فٹبال اور کرکٹ کھیلتے ہو۔
میں اپنی اور اپنی سے بھی گزشتہ نسلوں کی طرف سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔ ہم نے تمہیں وہ عزت نہیں دی جو تم نے خود کمائی۔ ہم نے تمہیں میڈیکل اور انجینئرنگ ہی میں پھنسانا چاہا لیکن تم نے تو پیشوں کی کہکشاں کھول لی۔ ہم ماں باپ کے کندھوں پر سوار رہے اور تم نے رائیڈرز، کریم کے ڈرائیور بن کر ، یوٹیوب سے بہترین موسیقی سیکھ کر ، فوٹوگرافی کی نت نئی اختراعات نکال کر ، سوشل میڈیا کو روزگار بنا کر اپنی تعلیم جاری رکھی۔
بے نام رہتے ہوئے لاکھوں بے سہارا لوگوں کا سہارا بنے خواہ وہ ہوٹلوں اور اور شادی ہالوں سے بچنے والا کھانا ناداروں میں تقسیم کیا یا ریلوے کی پٹڑی پر گندگی میں پڑے نشئی نوجوانوں کو نہلا دہلا کر زندگی واپس کی۔ ایک طرف ہم ہیں کہ این جی او پر این جی او بنا کر عوام سے رقم بٹور کر کچھ کیمرے کے سامنے غریبوں کو ذلیل کرا کے دیا اور کچھ ہڑپ کر گئے۔
بس ایک درخواست ہے۔ اب ہمیں زبردستی ریٹائر کر دیجئے۔ بس بہت عزت ہو چکی۔ ہم نے خاندان کی ناک اونچی رکھنے کے بہانے تمہاری زندگی گڈے گڑیا کی شادی بنا دی۔ ہم نے تمہارے کپڑے تمہارے لئے مذاق بنا دیے حالانکہ یہ تمہی تھے جنہوں نے جینز اور ٹی شرٹ اور ہوڈی کی سادگی اپنائی۔ ہم نے تمہاری شادی پر تمہاری خوشی کا خیال نہیں رکھا بلکہ اپنے دوستوں کو مرعوب کرنے اور رشتہ داروں کو جلانے کے لئے یہ سارا پاکھنڈ مچایا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ خود اپنے ہاتھ میں لو۔
میرے بچو اور بچیو! اپنے والدین سے مطالبہ کرو کہ جتنا بجٹ شادی کے لئے رکھا ہے وہ ہمارے بینک اکاؤنٹ میں رکھ دو اور ہمیں موقع دو کہ اپنی نئی زندگی مضبوط بنیاد سے شروع کرسکیں۔ ہم پختونوں میں جہیز کی لعنت نہیں تھی۔ بدقسمتی سے یہ بھی در آئی ہے۔ لڑکی والے تو پہلے سے سونے اور جائیداد کا مطالبہ کرتے تھے۔ میرے بیٹو اور بیٹیو! سر اٹھا کے چلو۔ میری نسل کا ہاتھ ان مطالبوں پر جھٹک دو ۔ اللہ نے رہنے کو کمرہ دیا ہے جو دو بندوں کے سامان سے آراستہ ہے۔
کل کا کس کو پتہ تمہاری روزی کہاں لکھی گئی ہے۔ یہ لاکھوں کے بغلولی جوڑے جو صرف ایک دن استعمال ہوتے ہیں، گندے انڈوں کی طرح باہر گلی میں پھینکیں۔ مغرب کی طرح زیادہ سے زیادہ کرائے کے جوڑے شروع کریں اگر فوٹوگرافی ہی کرنی ہے۔ ہنی مون کی جگہ ایک نئے ہنر کا ورکشاپ اٹینڈ کر لیں۔ یہ سینکڑوں اور ہزاروں مہمانوں کی بجائے دو قریبی خاندانوں کو پکنک پر لے جاکر تعارف اور محبت کے رشتوں کو مضبوط کریں۔ چچازاد، ماموں زاد کے رشتوں سے نکل کر خاندانی بیماریوں سے نجات پائیں۔ ”لوگ کیا کہیں گے“ کے بت کو جوتوں کا ہار پہنا کر گندگی کے ڈھیر پر براجمان کریں۔
ہم جو تمہیں سیاست سکھاتے ہیں، خود کبھی ووٹ دینے بھی نہیں گئے۔ اور ووٹ دیا بھی تو برادری اور سڑک یا نالی بنانے کے وعدے پر ۔ یہ تمہی تھے جو اٹھارہویں سال پار کر کے ہی ووٹ دینے نکل پڑے۔ بڑے بڑے جغادری سیاست دانوں کے ہاتھ جھٹکے۔ جن کے سامنے کوئی بول نہیں سکتا تھا، تم نے ان کے ٹھٹھے اڑائے۔ سزائیں کاٹیں۔ جان سے گئے۔ اب ہمارے لرزتے ہاتھوں سے یہ سیاست بھی چھین لو۔ یہ تمہارا مستقبل ہے، تمہیں سب سے پہلے اسے ہم سے بچانا ہو گا۔ آداب

