صحافت تو خودداری اور سچ بولنے کا نام ہے
ایک خبر میں صداقت، وسعت، معروفیت، جذباتی وابستگی، مہم جوئی، تجسس، کہانی پن، انوکھا پن یا نئی بات اور حقیقت نگاری موجود ہونی چاہیے۔ مگر کیا آج صحافت سچ پر ہی ہو رہی ہے اور آج سچ کی تو بھاری قیمت ہے لکھنے والے کو بھی ادا کرنی پڑتی ہے بولنے والے کو بھی مگر اب تو جھوٹ بھی بکتا ہے اگرچہ اس کی قیمت کم ہے یا نہیں ہے پر مارکیٹ بہت بڑی ہے خریدار بھی بہت ہیں، اور اسے ہاتھوں ہاتھوں خریدا اور بیچا اور عوام میں بانٹا جا رہا ہے کیونکہ مفت کی چیز ہے جھوٹ کی آواز بلند ہے سچ کا اعلان جنگ ہے۔
پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو تو موٹرسائیکل مینوفیکچرنگ کمپنیز موٹرسائیکل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہیں لیکن ڈالر کی قیمت میں کمی ہو تو موٹرسائیکل کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوتی
لفظ میڈیا جب بیشتر جگہوں پر استعمال ہو گا تو عوام کو اس کا کردار اس کی حدود و قیود کو سمجھنا بھی مشکل ہو گا۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، نے عوام کو کنفیوز کر دیا ہے کیونکہ ہر پاکستانی چینل جو الیکٹرانک اینڈ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے منظور شدہ ہے اس کا بھی فیس بک واٹس ایپ انسٹاگرام اور ویب سائیٹ اور ڈیجیٹل چینل موجود ہے تو دوسری جانب غیر منظور شدہ چینلز نے بھی فیس بک ویب سائٹس بنا رکھی ہیں تو پھر عوام تو کنفیوز ہوں گے ہی جیسے ایک ڈاکٹر یا حکیم ایک مریض یا کسی شہری کو اس کی صحت کے حوالہ سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ ان کو کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ان کو کیا ہضم ہو سکتا ہے اور ان کو کس چیز سے بدہضمی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح عوام کو یہ سمجھ نہیں کہ انہیں کون سا چینل دیکھنا ہے اور کون سا نہیں کون سے چینل سے دیکھی گئی نشریات ان کو ہضم ہوں گی یا پھر وہ مواد ان کے بچوں کے ذہنوں پر غلط اثرات مرتب کرے گا۔ کئی نیوز چینلز کے ساتھ ساتھ ان کے انٹرٹینمنٹ چینلز بھی نشریات دے رہے ہیں اور ان پر نشر کیے گئے ڈرامے بچوں کی زندگی پر کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
بالکل اسی طرح سچ اور جھوٹ کے درمیان میں بھی ایک باریک سی لائن موجود ہے اور اس باریک لائن کو دیکھنا اور محسوس کرنا اس وقت مشکل ہوتا جا رہا ہے پاکستان جہاں پیمرا سے منظور شدہ 50 سے زائد نیوز کیٹیگری کے ٹی وی چینلز سیٹلائٹ کے ساتھ ساتھ اپنے الگ ڈیجیٹل میڈیا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ خبریں تجزیے ٹاک شوز نشر کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کے اخبارات، سوشل میڈیا چینلز، یوٹیوب چینلز بھی انٹرنیٹ کی دنیا میں خبریں پروگرام تجزیے نشر کر رہے ہیں یو ٹیوب فیس بک اور ٹویٹر نے تو ہر ایک شہری کو صحافی بنا دیا ہے جو کہ سٹیزن جرنلزم کر رہے ہیں 17 اکتوبر 2023 سے فیس بک واٹس ایپ سوشل میڈیا پر موٹرسائیکل کی قیمتوں کے حوالہ سے ایک جعلی خبر آئی اور پھر ہر طرح کے میڈیا میں اس خبر نے بھونچال برپا کر دیا اسی افراتفری میں 18 اکتوبر 2023 کو معروف ٹاپ لسٹڈ نجی اخبار کے فیصل آباد ایڈیشن میں اسلام آباد این این این آئی کے حوالہ سے بھی خبر شائع ہوئی کہ موٹرسائیکل کی قیمتیں کم کر دی گئی ہیں یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا کے جنگل میں آگ کی طرح پھیل کر وائرل ہو گئی
یہ خبر نئے متعارف ہونے والے نجی چینل جس کا نام انگریزی حروف تہجی ٹی سے شروع ہوتا ہے جو کہ پیمرا سے رجسٹرڈ چینل ہے اس نجی چینل نے بھی نشر کی تاہم خبر کے آخر میں یہ بتا دیا کہ ہنڈا کے دو بڑے ڈیلرز ہنڈا موٹرسائیکل کی قیمتوں میں کمی کی خبر کی تصدیق نہیں کر رہے اسی طرح یہ خبر مختلف فیس بک پیجز پر مختلف آئی ڈیز سے بھی شیئر کی گئی
اس طرح کی خبر کے وائرل ہونے کو ایک وائرس سے تشبیہ دوں تو برا نہ منائیے گا کیونکہ اس مبینہ جعلی خبر پر ہنڈا کی کمپنی کو اس خبر کی تردید کرنا پڑی جس میں ہنڈا کمپنی نے بتایا کہ ہنڈا موٹرسائیکل کی قیمتوں میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا
https://www.samaa.tv/208732876-honda-issues-clarification-over-new-prices-of-cg125-and-cd70-reports
https://en.wenews.pk/honda-denies-reports-of-reduction-in-prices-of-cg125-and-cd70
https://autodeals.pk/blog/honda-bike-prices-reduction-or-its-just-rumors/
https://www.24newshd.tv/17-Oct-2023/fake-news-honda-reduces-prices-of-cg125-and-cd70-motorcyles
ہنڈا کمپنی کے شیئر کردہ نوٹیفکیشن پر اگر قیمتوں کو دیکھا جائے تو قیمتوں میں نوٹیفکیشن پر بھی تحریر کی گئی قیمت میں بھی کوئی کمی نہ تھی مگر نوٹیفکیشن پر بہت سارے اداروں نے غور نہیں کیا کہ نوٹیفکیشن پر تو قیمتیں پہلے والی ہی تحریر ہیں کیونکہ ہونڈا کے ڈیلرز کو تو پہلے والی قیمتوں کا علم ہی تھا اور صحافتی اداروں نے بس اسے کنفرم کرنا تھا
اس جعلی خبر کا اثر پورے پاکستان میں موٹرسائیکل کی خرید و فروخت سے منسلک ڈیلرز کے کاروبار پر براہ راست پڑا گوجرہ شہر میں بھی نئے اور پرانے موٹرسائیکل کی خریدوفروخت کے کام میں 80 فیصد تک کمی آ گئی یہ کہنا ہے گوجرہ پینسرہ روڈ پر واقعہ اعتماد موٹرز کے مالک میاں تصور عباس کا کہ جعلی خبر نے ہمارے کاروبار کو تہس نہس کر کے رکھ دیا گاہک ہماری بات پر اعتماد نہیں کرتے یا ان کے ذہن میں یہ خدشہ موجود ہے کہ چند دنوں تک قیمتوں میں کمی آ جائے گی۔ جس کی وجہ سے خرید اور فروخت کا رجحان کم ہو گیا ہے
میں نے اس حوالہ سے موٹرسائیکل یونین گوجرہ کے جنرل سیکرٹری حافظ صہیب سے بھی اس بارے گفتگو کی تو ان کا بھی کہنا تھا کہ موٹرسائیکل کی خرید و فروخت پر اس کا برا اثر پڑا جس سے کاروبار متاثر ہوا۔ صحافت کے دعویدار صحافیوں کو چاہیے کہ وہ خبر کو بغیر تصدیق کے اپنے صحافتی اداروں کو نہ بھیجیں اور صحافتی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ خبر نشر کرنے سے پہلے خبر کی تصدیق کے بغیر خبر نشر نہ کریں
https://urdu.humnews.pk/latest/459743
https://www.facebook.com/topnews.bhakkar
جانتے ہیں خبریں گول کیسے ہوتی ہیں
بالکل اسی طرح ہی کاپی پیسٹ کی صحافت میں 10 نومبر 2023 کو معروف ٹاپ ریٹڈ نجی اخبار کے فیصل آباد ایڈیشن اور دوسرے معروف ٹاپ ریٹڈ روزنامہ نجی اخبار کے لاہور ایڈیشن میں پرنٹ ہونے والی خبر کو پڑھتے ہیں کہ گوجرہ میں دیوار گرنے سے ایک نوجوان مزدور جاں بحق جبکہ تین زخمی، مزدور کوٹ عبدی کے قریب واقعہ ایک خستہ عمارت پر مزدوری کر رہے تھے
اصل واقعہ کے مطابق کارخانہ جو کہ برف کا کارخانہ ہے کارخانہ کی دیوار پر مزدور مزدوری کر رہے تھے کہ فیکٹری کی دیوار گرنے سے ایک مزدور جاں بحق اور ایک مزدور زخمی ہو گیا جبکہ خبر میں فیکٹری یا کارخانہ کی بجائے محلہ کوٹ عبدی کی خستہ حال عمارت کا ذکر کیا گیا اور زخمیوں کی تعداد بھی 3 بتائی گئی
سابق سنیٹر حمزہ صاحب ایک سیاسی شخصیت تھے جو کہ وفات پا چکے ہیں یہ برف کا کارخانہ ان کے سگے بھائی کی ملکیت ہے لکھنے والے علاقائی صحافیوں نے اصل خبر کو گول کر دیا اس کی کیا وجوہات ہیں یہ تو معروف روزنامہ اخبارات کے علاقائی رپورٹر ہی بتا سکتے ہیں اور اس بات کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلام مرتضیٰ نامی شہری/صحافی نے بھی نشاندہی کی ہے
کیونکہ اصل تحقیق طلب بات یہ بھی ہے کہ کیا کارخانہ کا نقشہ میونسپل کمیٹی کے بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے پاس کروایا گیا تھا یا نہیں؟ اور کیا وہاں پر سیفٹی ہدایات کو مد نظر رکھا گیا تھا یا نہیں اور تیسری اہم بات یہ ہے کہ مختلف اخبارات کی خبر ایک جیسی کیوں ہے چوتھا نقطہ یہ ہے کہ کیا رپورٹنگ کرتے وقت جائے وقوعہ سے جا کر حقائق حاصل کیے گئے تھے یا ایسے ہی کام چلایا گیا۔ اسی کام چلانے کی وجہ سے خبر عوام کے مسائل کو اجاگر نہیں کر پاتی۔ جب ہم اصل حقائق کی نشاندہی نہیں کریں گے تو پھر مسائل کیسے حل ہوں گے
اس کے علاوہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کو آن لائن اور آف لائن اس طرح کی تربیت فراہم کرے کہ صحافیوں کو خبر کی اقدار اور خبر کو جانچنے پرکھنے کا پتہ چل سکے ساتھی صحافیوں کے لئے بیان کرتا ہوں کہ ہم جعلی خبر کے بارے کس طرح جان سکتے ہیں انٹرنیٹ پر کچھ ادارے کام کر رہے ہیں جن سے ہم کچھ سیکھ سکتے ہیں جن میں ایک سوچ فیکٹ چیک ہے اور دوسرا منسٹری آف انفارمیشن اور براڈکاسٹنگ کا فیکٹ چیکر ہے تیسرا اے ایف پی کا فیکٹ چیکر ہے اس کے علاوہ بھی بہت سارے ذرائع ہیں جنہیں ہم گوگل سے تلاش کر بھی سکتے ہیں اور ان کے بارے تصدیق بھی کر سکتے ہیں اور اپنے سینئرز سے اس بارے مدد بھی لی جا سکتی ہے۔ صحافت سچ تک پہنچنے اور سچ کو عوام تک پہنچانے کا علم ہے جب ہم حقائق کو پس پشت ڈال کر خبر بنائیں گے تو خبریں ایسی ہی ہوں گی تو پھر لوگ ہمیں صحافی نہیں صافی سمجھیں گے
https://www.sochfactcheck.com/category/business/
https://moib.gov.pk/Pages/147/FactChecker
https://factcheck.afp.com/





