تعلیم کو تو بخش دیں


ہمارے ملک کا ہر ذی شعور فرد اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اقوام عالم کی معاشی، معاشرتی اور صنعتی ترقی کا مکمل انحصار تعلیم کی ترقی پر ہے۔ اہل یورپ بھی نشاۃ ثانیہ کے بعد اس لئے اوج ثریا پر پہنچے ہیں کہ انہوں نے افراد کی بنیاد یعنی تعلیم و تربیت پہ کثیر خرچ کیا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ دن بدن تعلیم کو پس پشت ڈال کر افراد اور نوجوان نسل کو غیر ضروری سرگرمیوں میں الجھانے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں۔

ملک میں سائنس دان اور انجنیئرز کی بجائے آن لائن فری لانسرز پیدا کرنے میں ہم اور ہمارا معاشرہ سر فہرست ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں، آپ کو یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز، ٹویپرز اپنی دولت کی نمود و نمائش کرتے نظر آئیں گے، میں اس امر کا عینی شاہد ہوں کہ میٹرک کے بعد میرے گرد و نواح کے 80 فیصد طلباء و طالبات فری لانسنگ کی تربیت میں مصروف عمل ہیں، اب سائنس دان کہاں سے آئیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی دنیا کی دوسری سب سے زیادہ تعداد (OOSC) ہے، اندازے کے مطابق 5۔ 16 سال کی عمر کے 22.8 ملین بچے اسکول نہیں جاتے، جو اس عمر کے گروپ کی کل آبادی کا 44 فیصد ہیں۔ 5۔ 9 کی عمر کے گروپ میں، 5 ملین بچے اسکولوں میں داخل نہیں ہیں اور پرائمری اسکول کی عمر کے بعد ، یہ تعداد دوگنی ہوجاتی ہے، 10۔ 14 سال کی عمر کے 11.4 ملین نوجوان رسمی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے۔

جنس، سماجی و اقتصادی حیثیت اور جغرافیہ کی بنیاد پر تفاوت نمایاں ہیں۔ سندھ میں، 52 فیصد غریب ترین بچے ( 58 فیصد لڑکیاں ) اسکول سے باہر ہیں، اور بلوچستان میں، 78 فیصد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔ پرائمری سطح پر تقریباً 10.7 ملین لڑکے اور 8.6 ملین لڑکیاں داخل ہیں اور یہ نچلی ثانوی سطح پر 3.6 ملین لڑکے اور 2.8 ملین لڑکیاں رہ جاتی ہیں۔

دیکھا جائے تو گزشتہ پانچ سالوں میں تعلیمی اداروں کی فیس میں اضافے کے علاوہ کوئی بھی خاطر خواہ ترقی دیکھنے میں نہیں۔ قوم کی تعلیمی ترقی کی پشت پہ پہلا وار کرونا کے دوران سکولوں کو ایک طویل عرصے تک بند رکھ کے کیا گیا، جس کے نتیجے میں امتحانات کا سلسلہ بھی رک گیا اور تمام بچوں کو بغیر کسی جائزہ اور امتحان کے اگلی جماعت میں بھیج دیا گیا۔ اس پروموشن کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا کہ بچے انگریزی، سائنس اور ریاضی میں اور بھی پیچھے رہ گئے۔

اس کے بعد تونسہ کے ہیرے کے ہاتھوں سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات ہی یکسر ختم کر دیے گئے۔ یعنی وہ چھلنی ہی توڑ دی گئی جس کے ذریعے ہونہار، ذہین اور محنتی بچے پرائمری سے ایلیمنٹری اور سیکنڈری کلاس کا سفر طے کرتے تھے۔ امتحانات کے خاتمے کا مکمل فائدہ نا اہل، نکمے اور کند ذہن بچوں کو تو ہونا ہی تھا لیکن سب سے بڑا نقصان ان ذہین اور محنتی بچوں کا ہوا، جن کے لئے امتحانات میں نمایاں کامیابی ایک بہت بڑے ایوارڈ سے کم نہیں ہوتی۔

تعلیم حاصل کرنے میں بچوں کی دلچسپی کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب بچوں کو ہر سال اتنی چھٹیاں ہوں کہ وہ گھر رہ رہ کر اکتا جائیں اور والدین پر بوجھ بن جاتے ہیں تو وہ ان کو سکول سے نکال کر کسی کام پر لگا دیتے ہیں۔ ہماری حکومت پھر اپنے افسران پہ گرجنا برسنا شروع کر دیتی ہے کہ ڈراپ آؤٹ شرح کم نہیں ہو رہی، آؤٹ آف سکول بچے کم نہیں ہو رہے۔ یہاں تک کہ ڈپٹی کمشنر صاحبان، جن کا کام ضلع کا نظم و نسق سنبھالنا تھا، وہ تعلیمی اور تعلیمی بورڈز کے اعلی افسر کے طور پر صاحب بہادر بنے، اساتذہ کو روزانہ کی بنیاد پر حکم دے رہے ہیں کہ نئے بچے اپنے اپنے سکولوں میں داخل کروائیں۔

ماضی کا یہ تعلیم دشمن رویہ ہر آنے والی حکومت کو ورثے میں ملا ہے۔ حال ہی میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبہ بھر میں سموگ کی بڑھتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر نومبر میں صوبہ بھر میں تعلیمی سرگرمیاں تین دن کے لئے بند کر دیں۔ اس کے صوبہ بھر کے پانچ اضلاع میں یہ سلسلہ مستقل جاری تھا کہ دو دن بیشتر ملتان ڈویژن کو بھی سموگ سے متاثرہ علاقے میں شامل کر دیا گیا۔ داخلی امتحان نے تو جو بیڑہ غرق کرنا تھا وہ کیا، لیکن یہ سوچیں کہ اگر ہفتے میں چار دن سکول کھلا رہے گا تو ایک دن بچہ بھی تو شادی، فوتگی یا بیماری کے سلسلے میں اور معزز معلم کو بھی چھٹی کی ضرورت پڑتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پورے ماہ میں صرف دس دن بچہ تعلیم حاصل کرے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ بچوں کے سکول آنے جانے سے سموگ کی شرح میں زیادہ سے زیادہ کتنا اضافہ ہوتا ہے؟ ہمارے ملک میں غریب عوام کی اتنی اکثریت ہے کہ اکثر بچے اور بچیاں پیدل یا سائیکل پہ سکول جاتے ہیں، کچھ والدین موٹر بائیک پہ بچوں کو سکول چھوڑتے ہیں اور صرف 25 فیصد سے کم بچے کار پر سکول بھیجے جاتے ہیں۔ جب بچے گھر پر ہوں گے تو کیا وہ موٹر بائیک، کار، رکشہ وغیرہ سڑک پر نہیں آتے، ظاہر ہے وہ کسی نہ کسی کام کاج کے سلسلے میں، کسی دفتر، عدالت یا بازار جانے کے لئے سڑک پر تو آتے ہیں تو پھر سکول کیوں بند کیے جا رہے ہیں؟

اکثر لوگ تو یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کارخانوں کو بند کر نے کی بجائے سکول بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سکول ماحول میں دھواں اور کاربن کے ذرات پھیلا رہے ہیں۔ میٹرک امتحانات سر پر ہیں اور دھند کی بھی آمد آمد ہے، جس کا نکمے اور نا اہل اساتذہ کو شدت سے انتظار ہے کہ کب سردیوں کی تعطیلات کے دورانیہ میں مزید دس دن کا اضافہ ہو گا۔ میدانی اور وسطی پنجاب میں موسم اور آب و ہوا کی تبدیلی کے پیش نظر اب دھند جنوری کے وسط میں شروع ہوتی ہے جس کا سلسلہ ایک ماہ تک جاری رہتا ہے لیکن موسم سرما کی تعطیلات 23 دسمبر سے یکم جنوری تو ہوتی ہیں، جیسے ہی یہ چھٹیاں ختم ہوتی ہیں، دھند اپنے پورے جوبن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے اور مزید دس سے پندرہ دن سکول بند کرنا حکومتوں کا معمول بن چکا ہے۔

حالت یہ ہے کہ گزشتہ دو عشروں سے تعلیمی میدان میں ہمارا ملک ہر لحاظ سے پس ماندگی کا شکار ہے۔ ابھی یہ بہانے بہانے سے تعلیمی سرگرمیوں کا رونا ختم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ حکومت پنجاب نے کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ اس کریک ڈاؤن کے سب سے بڑے متاثرین وہ طلاب علم تھے جو ایک دور دراز کا سفر طے کر کے اپنے موٹر سائیکل پر سکول جاتے تھے۔ مقامی تھانے کے مہتمم حضرات نے اس کار خیر میں یوں حصہ ڈالا کہ بچوں کو بائیک سمیت پکڑ کر تھانے لے گئے اور والدین کی یقین دہانی پر ان کو نجات ملی لیکن صرف ایک بار سوچیں کہ جن طلباء پر ایف آئی آر کٹ گئی، ان کے مستقبل کی تباہی کا کون ذمہ دار کون ہو گا؟

نگران حکومت ایک بار یہ ضرور سوچتی کہ کہ موجودہ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ والدین اگر اپنے بچوں کو خود سکول چھوڑنے جائیں گے تو ان کے اخراجات میں دگنا اضافہ ہو گا اور حکومتی پالیسی اور رائے کے عین مطابق والدین کی گاڑیاں ماحول میں دگنا دھواں بھی چھوڑیں گی۔ کل ایک بہاول پور کے اوور ہیڈ پل سے گزرنے کا اتفاق ہوا تو وہاں رنگ برنگی لائٹس اور رنگ و روشنی کے مینارے اور فوارے دیکھے تو ہنسی کے ساتھ ساتھ ایک کسک بھی دل میں پیدا ہوئی کہ اس نمود و نمائش پہ جتنا خرچہ ہوتا ہے اس سے کم خرچہ طلباء و طالبات کے لئے ایک بس کے کرایہ ادا کرنے پہ ہو گا لیکن وائے بدقسمتی کہ تعلیم ہماری اولین ترجیح نہیں رہی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments