جرمنی اور موسم سرما


پیر کے روز سے، جرمنی کے بیشتر علاقوں میں آندھی، طوفان، برفباری اور پھسلن، لوگوں کی پریشانی اور افراتفری کا باعث بن رہے ہیں۔ جرمنی کے محکمہ موسمیات کے مطابق، آنے والے دنوں میں بھی موسم سرد رہے گا۔ جرمنی کے بہت سے صوبے سردی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ سب سے زیادہ صوبہ ہیسن، اس ناگہانی پریشانی سے متاثر ہوا ہے۔ صوبہ ہیسن کے ایک چھوٹے سے شہر میں، سڑک پر پھسلنے سے، ایک 71 سالہ شخص کی موت واقع ہوئی ہے۔ ایک اور 54 سالہ خاتون، سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے، کار چلاتے ہوئے، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ محکمہ موسمیات (ڈی ڈبلیو ڈی) نے مزید برفباری اور سلیٹ کا عندیہ دیا ہے۔ اور لوگوں کو غیر ضروری گھروں سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے۔

جرمن صوبہ ہیسن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ہیسن میں، دریائے مائین پر واقع، یورپ کی چوتھی بڑی ائرپورٹ، ”فرینکفرٹ ام مائین“ کو ہوائی جہازوں کی آمد و رفت کے لئے، عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ فرانکفورٹ ائرپورٹ کی فراپا نامی سروس کمپنی نے آج اسٹارٹ اور لینڈنگ رن ویز کو برف سے صاف کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ یاد رہے کہ جرمنی کے مشہور زمانہ فرینکفرٹ شہر کے علاوہ، جرمنی کا ایک دوسرا شہر ”فرینکفرٹ ام اوڈہ“ بھی ہے۔ یہ شہر دریائے اوڈہ، کے اوپر واقع ہے۔

”رہائینگاؤ۔ ٹاؤنس“ نامی ضلع میں گاڑیوں میں بیٹھے لوگ، برفباری کے وجہ سے اپنی منزل کو نہیں پہنچ سکے تو فایئر بریگیڈ کی ایکشن فورس کے 350 سے زیادہ اہلکاروں نے، 130 مختلف علاقوں سے، ان کو اس مشکل سے نکالا۔

ہیسن کے دارالحکومت ویس بادن کی سڑکوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ ایک اسکول کے بچوں کو تمام رات اسکول میں گزارنی پڑی۔ کیونکہ اسکول بسوں کی ٹرانسپورٹیشن ناممکن تھی۔

درختوں کے اکھڑ کر سڑکوں پر گرنے سے سڑکیں بلاک ہو گئیں تو کاروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہوٹلوں میں رات گزارنی پڑی۔ اس کے علاوہ درختوں ہی کی وجہ سے بہت سی بجلی کی تاریں متاثر ہوئیں تو بہت سے علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند ہو گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، موسم میں فوراً بہتری کی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ اچانک موسم سرما کی آمد کی وجہ قطبی سرد ہوائیں ہیں۔

Facebook Comments HS