ادب اور ڈاڈازم


ڈاڈازم کی تحریک جدیدیت کا مظہر ہے جس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے دور میں ہوا۔ جرمنی، فرانس اور اس کے ملحقہ ممالک کے ادیب جنگی صورت حال اور حکومتوں کے سیاسی عزائم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا چاہتے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ پہلی عالمی جنگ کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بہت سے ادیب اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ جس کے نتیجے میں سویٹزر لینڈ میں بہت سے ادبا کا اکٹھ ہو گیا۔ سماجی اور سیاسی جبر کے تحت ایسا ممکن نہ تھا اور نہ وہ جدید دور کی عقلیت، قومیت اور سائنسی سوچ کے خلاف براہ راست متصادم ہونے کے خواہاں تھے۔ اس لیے انھوں نے اس تکنیک کا سہارا لیا اور ادب اور مصوری کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس تحریک کو ڈاڈا سے کیوں موسوم کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں شکیل پتافی ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں :

” 1916 ء میں زیورچ کے ایک ہوٹل میں چند نوجوان ادیبوں اور کچھ جلا وطن ادیبوں کا اجلاس منعقد ہوا۔ ان میں جین آرپ، رچرڈ ہلس بیک، مارشل جینکو، ایمی ہننگز اور اس تحریک کے ممتاز روح ورواں ٹرسٹن زازا شامل تھے۔ انھوں نے تحریک کے نام کے چناؤ کے لیے فرانسیسی ڈکشنری میں چاقو مارا جو لفظ“ ڈا ڈا ”پر جا کر رکا اور یہ گروپ اس پر متفق ہو گیا کہ یہ لفظ ان کی تخلیقات اور احتجاجی تحریکات کے لیے عین مناسب ہے۔“

شکیل پتافی، ڈاکٹر، ڈاڈا تحریک :ایک تعارف، سپیشل فیچر روزنامہ دنیا، 11 دسمبر 2015 ء

ڈاڈازم کا مقصد جدیدیت کی بے معنویت کی مضحکہ خیزی کو سامنے لانا اور عمومی سماجی اقدار کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔ 1916ء سے 1922ء کا دور ڈاڈازم کے عروج کا زمانہ خیال کیا جاتا ہے۔ جرمن شاعر ہیوگو بال، رومانیہ کے شاعر ٹرسٹن زازا اور السٹائن ”ڈاڈائی تحریک“ کے بنیاد گزاروں میں شامل ہیں اس کے علاوہ میکس ارنسٹ اور سلواڈور ڈالی بھی اس کے نمائندہ فنکاروں میں شامل کیے جاتے ہیں۔ یوجین اونیل اور سیموئل بیکٹ نے بھی اپنے ڈراموں میں ڈاڈائی عناصر کا استعمال کیا۔

ڈاڈازم کی بنیاد انکار اور روایت شکنی سے پیدا ہونے والی بیزاری سے ہے۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ زندگی کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی انجام ہے۔ ہر شے احمقانہ طریقے سے وجود میں آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تمام چیزیں ایک جیسی یا یکساں ہیں۔ یہ ایک طرح کے غصے کا اظہار ہے جس نے نوجوان ادیبوں کے ذہنوں کو گرفت میں لے لیا۔ ڈاڈازم کے اس رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے عابد حسین قریشی لکھتے ہیں :

”وہ در اصل پہلی جنگ عظیم کی ہولناکیوں کے خلاف ایک رد عمل تھا جس سے مصور اپنی دنیا سے روٹھ گئے تھے اور انھوں نے ہمیشہ کہا کہ جب انسان خود اپنی بنائی ہوئی اخلاقی اقدار کو تباہ کر رہا ہے تو ہم کیوں نہ آرٹ کو تباہ کریں۔ ہم بھی وہی انسان ٹھہرے جو یہ ہیں۔ اور ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ بھی حساس ہونے کی ایک دلیل ہے کہ وہ کم از کم اتنے بے حس تو نہ تھے کہ ادھر انسان کو پہلی جنگ عظیم کے دوران میں تھامس ہابز (Thomas Hobbes) کیState of Natureکے انسان سے بھی زیادہ ظالم بھیڑیا اور زیادہ اخلاق سوز کردار دلا پایا۔

اور پھر بھی وہی مصوری کرتے رہتے جو وہ صدیوں سے کرتے آرہے تھے۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے روٹھ کر اپنے ہی گھر کے برتن توڑنے شروع کر دے۔ اپنی ماں کی بنائی ہوئی چیزوں کو تتر بتر کر دے۔ یہ ایک عارضی رد عمل ہو گا اس بچے کو بنیادی طور پر آپ برا نہیں کہ سکتے کیوں کہ وہ بچہ اتنا حساس تو تھا کہ بہر حال کہ اس نے کسی واقع پر اپنا رد عمل تو دکھایا۔“

(عابد حسین قریشی، پاکستان میں مصوری، لاہور:پاکستان رائٹر زکواپریٹو سوسائٹی، 2008 ء، ص: 314 )

درحقیقت ڈاڈ جو شور مچا رہے تھے اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ دنیا میں جمہوریت قائم کرنے کے لیے جنگ کو مثالی تصور کرنے کا نظریہ کلی طور پر جھوٹ اور فریب ہے۔ انسان اتنا باشعور ہونے کے باوجود بھی یہ حقیقت سمجھنے سے کیوں قاصر ہے؟ انسان کے اندر آج بھی ایک درندہ موجود ہے جو اقتدار اور طاقت کے حصول کی خاطر نمودار ہوجاتا ہے۔ ان کے خیال میں ہمیں انسان بننے کے بجائے اقدار کو پس پشت ڈال کر درندہ بن جانا زیادہ بہتر ہو گا۔

ڈاڈازم کی یہ تحریک دس برس کے قلیل عرصے میں دم توڑ گئی اور اس کے نظریات سرریلزم کی تحریک میں ضم ہو گئے۔ وہ دماغ جو پہلی عالمی جنگ کے دوران میں اینٹی آرٹ کام کرنے میں مصروف تھے اب سریلسٹ فن پاروں کی تخلیق میں محو ہو گئے۔ سلواڈور ڈالی جو پہلے ڈاڈازم کا موید تھا اب بطور سریلسٹ کام کرنے لگا اور اس تحریک سے عالم گیر شہرت حاصل کی۔ ڈاڈازم کی غیر منطقی تحریک میں ایک طرح منطق موجود تھی جس کا اظہار سر ریلزم میں ہوا۔

اس رجحان سے وابستہ ادیبوں نے ”ڈاڈا پر اڈیکل“ کے عنوان سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جو 1924 ء تک جاری رہا۔ ان ادیبوں نے 1920 ء میں بین الاقوامی ڈاڈا میلہ بھی منعقد کیا جس میں دنیا بھر کے ڈاڈا ادیب اور مصور شامل ہوئے۔ 1960 ء میں اس رجحان کا دوبارہ آغاز ہوا جسے نیو ڈاڈازم سے موسوم کیا جاتا ہے۔ نیو ڈاڈازم کی تحریک کم تجریدی اور کم علامتی تھی۔ اس تحریک پر ”نئی تاثریت“ کے اثرات بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ نیوڈاڈازم نے آگے چل کر ”ہیپی آرٹ“ اور ”پاپ آرٹ“ پر اثرات مرتسم کیے۔

پرانی ڈاڈازم کے برعکس نئی ڈاڈازم کے اطوار منفرد اور مختلف تھے جس نے روایتی جمالیات کی اقدار سے انحراف کیا لیکن یہ تحریک بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور بہت جلد فن کے منظر نامے سے گم ہو گئی۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس سے منسلک فنکار اس بات پر عمل پیرا تھے کہ ”کبھی بھی کسی معروف اصول پر عمل پیرا نہیں ہونا“


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments