غروب شہر کا وقت، ایک تاثر

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار


ڈاکٹر اسامہ صدیق میرے شہر دار بھی ہیں، دوست بھی ہیں اور رقیب بھی۔ دوست کی کتاب پہ تبصرہ کرنا مشکل اور نہ کرنا اس سے بھی مشکل ہے۔ خاص کر اس صورت میں جب اس تعلق میں رقابت بھی شامل ہو۔

رقابت کی وجہ ظاہر ہے، وہی روایتی ہے، ہم دونوں ایک ہی شہر کی محبت میں مبتلا ہیں، شہر لاہور۔ ڈاکٹر اسامہ کا ناول ’غروب شہر کا وقت‘ اسی لاہور کے نام ایک محبت نامہ ہے، جس کی گلیوں، بازاروں، کوچوں، کٹڑیوں، محلوں، جھروکوں، موریوں، دروازوں اور شاہراہوں سے مجھے بھی والہانہ عشق ہے۔

اس محبت نامے عرف، ناول کو میں نے چھپنے سے پہلے بھی پڑھا اور بعد ازاں جب جہلم بک کارنر نے زیور طباعت سے آراستہ کیا تب بھی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس معطر محبت نامے میں اگر آپ روایتی کہانی ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو میرا آپ کو مشورہ یہ ہی ہے کہ آپ اس ناول سے دور رہیں۔ ہاں اگر آپ افتاد طبع کے لحاظ سے الف لیلوی واقع ہوئے ہیں، قصہ چہار درویش، آرائش محفل اور ہزار داستان جیسی تحریریں پڑھتے ہیں، جاڑوں کی ٹھٹھرتی چاندنی میں گلیوں میں بے مقصد گھومتے ہیں، میٹھا پان کھا کے ’اے دل کسی کی یاد میں‘ گاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں اور کسی شام ہم جیسے قصہ گووں کی محفل میں آ نکلتے ہیں اور واپسی پہ کاجو کی ایک پاؤ برفی تلوا کے گھر لے جاتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ میدان مار لیا تو فوری طور پہ یہ ناول حاصل کیجئے۔

574 صفحات پہ محیط اس ضخیم ناول میں مجھے لاہور کا خط افقی نظر آیا، جس میں بادشاہی مسجد کے عظیم گنبد، قلعے کی پرشکوہ فصیل، گورنمنٹ کالج لاہور کے آسیبی نوکدار مینار اور ان عمارات پہ تنا لاہور کا نیلا آسمان اور اس پہ اڑتی ہزارہا پتنگیں اور ان پتنگوں کی کاٹ دار ڈوروں سے الجھتی بچتی چیلیں اور گوریاں اڑتی پھر رہی ہیں۔ اس خط افقی کے متوازی ڈاکٹر اسامہ نے اپنے کردار سجائے ہوئے ہیں۔

یہ کردار اپنی ہیئت میں کچھ ویسے ہی ہیں جیسے کسی زمانے میں لکھنو کے کمہار مٹی سے ننھے ننھے نفیس مجسمے بناتے تھے۔ ان نستعلیق کرداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیے تو آپ کو وہ تمام نفسیاتی الجھنیں، چالاکیاں اور سادگی نظر آئے گی جو لاہور جیسے پرشکوہ شہر میں رہنے بسنے والے کرداروں میں خودبخود پیدا ہو جاتی ہے۔

کردار سب ہمارے دیکھے بھالے ہیں۔ وہی جو ہمارے ساتھ پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ چلتے چلتے فٹ پاتھ سے لڈو پیٹھی لے کر کھاتے تھے اور جب ماسٹر صاحب سے بید پڑنے کا سلسلہ شروع ہوتا تھا تو ہماری طرح ہی جھوٹ موٹ بہانے بناتے تھے۔

ان مرئی کرداروں کے ساتھ کچھ غیر مرئی کردار بھی ہیں اور کس شہر میں یہ لوگ نہیں رہتے؟ ہمارے ساتھ ہی، خوف کی صورت، جھجک کی صورت اور سچ مچ کے آسیب کی صورت، لاہور کے باغوں میں کھڑے خمیدہ کمر درختوں پہ، ٹیکریوں، پرانے مکانوں، ریسٹ ہاؤسوں میں، اختیار کے بھوت، ضمیر کی خلش کے چھلاوے، ہر جگہ اندھیرے سویرے ٹکرا ہی جاتے ہیں۔

داستانوں کی کترنوں سے سجے اور نفیس اردو کی چاشنی میں ڈوبے اس ناول میں آپ کو بوئے ندیم بھی ملے گی اور ایک ایسے شہر کا نوحہ بھی جو آہستہ آہستہ کہیں گم ہوتا جا رہا ہے، شاید ہماری یادوں میں ہی پرانا لاہور پگھلنا شروع ہو گیا ہے یا کالونیوں کا جنگل اور صنعتی ترقی کا اگلا ہوا زہریلا دھندھواں اس شہر کو نگل رہا ہے۔ جو بھی ہے مگر واقعہ یہ ہے صاحبو! کہ شہر غروب ہو رہا ہے۔

اسامہ صدیق صاحب کا یہ ناول ایک کیفیت ہے ویسی ہی کیفیت جیسی نومبر کے اوائل میں علی الصبح ہار سنگھار کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کے چپ چاپ اس کی کلیوں کو کندھوں پہ، بالوں پہ، نم زمین پہ گرتے ہوئے محسوس کرنا۔ اس ناول کا کسی قسم کا منطقی تجزیہ کرنے والے فقط اپنا وقت ضائع کریں گے۔

پہلی فرصت میں خریدیے، جہلم بک کارنر پہ یہ کتاب دستیاب ہے۔ پڑھیے، تحفے میں دیجئے، یقین جانیے کہ جس کسی کو تحفہ دیں گے وہ آپ کا مرید ہو جائے گا۔ آزمائش شرط ہے۔

پس نوشت:
راقم کے پاس یہ کتاب پہلے سے موجود ہے چنانچہ یہ نسخہ یہاں مت آزمایئے۔ شکریہ!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments