تخار سے کابل تک: روزگارِ زندگی کی تلاش میں فریبا کی جدوجہد


حالیہ سیاسی منظرنامے کی تبدیلیوں نے افغانستان کو خواتین کے لئے پھر بدترین مقامات میں سے ایک بنا دیا ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جو اپنے گھروں کے لئے روزی کمانے کی ذمہ دار ہیں۔ انہیں اور بھی گہری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے لئے روزی کمانے کے لئے طریقے بہت ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے تخار میں مشکل زندگی گزارنے والی فریبا اپنے بچوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے کے لیے کابل منتقل ہو گئی۔ اب وہ کابل کی سڑکوں پر قلم بیچتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے پاس رات کے کھانے کے لئے روٹی ہو۔

فریبا کہتی ہے کہ ’جب میں نے اپنی والدہ کو کھو دیا تو میں بہت چھوٹی تھی۔ میری شادی بہت کم عمر میں ہو گئی تھی۔‘

وہ نہ صرف کم عمری کی شادی کا شکار ہوئی بلکہ اس کی کوششوں کے باوجود، جو خواب اس نے اپنی اور شوہر کی زندگی کے لئے دیکھے تھے، وہ ایک انتہائی تلخ حقیقت میں تبدیل ہو گئے۔ اس کا شوہر نشے کا شکار ہو گیا جس سے اس کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔

اس کا پہلا شوہر نشے کے عادی ہونے کے بعد گھر چھوڑ گیا، اور فریبا اپنے بچوں کے ساتھ طویل عرصے تک اس کی واپسی کا انتظار کرتی رہی۔ اس کے شوہر نے کبھی اپنے خاندان سے رابطہ نہیں کیا، اور نہ ہی اس کا اتا پتا معلوم ہوا۔

روایتی افغان معاشرے میں صرف مردوں کو خاندان میں واحد کمانے والا سمجھا جاتا ہے، اور عورتیں گھریلو کاموں اور بچوں کی پرورش کے علاوہ گھر سے باہر کے امور میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ خواتین میں ناخواندگی کی وجہ بھی انہیں مردوں پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر وہ شادی شدہ نہیں ہیں، تو ان کے پاس اپنی زندگی گزارنے کے لئے شادی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

اپنے رونے کے درمیان فریبا کہتی ہے۔ ”میں نے اتنے سالوں تک ایک بیوہ کے طور پر زندگی گزاری ہے اور جدوجہد کرتی رہی ہوں۔ غربت کی وجہ سے میں نے اپنی ایک بیٹی کو مزار شریف میں اپنے کزن کو پچاس ہزار افغانی روپے کے لیے فروخت کر دیا۔ میں نے اس بچے کو بیچنے سے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے دوسرے بچوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے استعمال کیا۔“

اپنے پہلے شوہر کے غائب ہونے کے سات سال بعد اکیلا نہ رہنے کے لئے اس نے ”یعقوب“ نامی ایک اور شخص سے شادی کی اور اس شادی کے نتیجے میں مزید دو بچے پیدا ہوئے۔

فریبا کا پہلے شوہر منشیات کا عادی ہو گیا تھا اور اس کے دوسرا شوہر قندوز میں سابق افغان حکومت کی سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والے تنازعات میں مارا گیا۔

فریبا کی اکیلی نہ رہنے کی کوششوں کے باوجود اسے پھر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا، ایسی تنہائی جو جنگ، منشیات کی لت، طالبان، غربت اور نقل مکانی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے سات بار جڑواں بچوں کو جنم دیا لیکن اس کے چودہ بچوں میں سے صرف پانچ زندہ بچے ہیں۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہے، ”جب میرے پہلے شوہر نشے کے عادی ہو گئے، تو میں صبح سے رات گئے تک گھر کے باہر کھیتوں میں کام کرتی تھی۔ ایک دن، جب میں کام سے لوٹی، تو میں نے اپنی دودھ پینے والی بیٹی کو اس کے پالنے میں مردہ پایا۔ میرے دوسرے بیٹے کو نمونیا ہوا اور اس کی موت ہو گئی۔“

فریبا اپنے خاندان کی سربراہ ہے اور وہ تقریباً ایک سال سے کابل میں رہ رہی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ضروری سہولیات کے بغیر ایک کچے گھر میں اپنی زندگی کی جد و جہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

وہ سرکاری عہدیداروں سے درخواست کرتی ہے کہ وہ کام کرنے والی خواتین کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ فریبا کا کہنا ہے کہ اسے کئی بار سرکاری فورسز نے حراست میں لیا۔ اس کی ذاتی تفصیلات کو ریکارڈ کیا گیا، لیکن انہیں حکام کی طرف سے کوئی مدد یا ملازمت کے مواقع نہیں ملے ہیں۔

فریبا کابل کے ایک چوراہے پر قلم اور اسٹیشنری بیچنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے۔ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے صبح سات بجے سے شام سات بجے تک کا وقت اپنے بچوں کو اکیلا گھر میں چھوڑ کر چوراہے پہ گزارتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments