سانحہ کراچی اور نئی تعمیرات


اس وقت آبادی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ چھوٹے چھوٹے شہر بھی تیزی سے بڑے شہروں کی فہرست میں آ رہے ہیں۔ لیکن یہ نئی آبادیاں بے ہنگم طریقے سے بڑھ رہی ہیں۔

کوئی بھی بڑا شہر یک دم ہی تعمیر نہیں ہوتا، اس کی مثال بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ہے کہ ایک بھیڑ جس سمت جاتی یا جہاں ٹھہرتی ہے، دوسری بھیڑیں بھی وہیں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پہلے چند گھر تعمیر ہوتے ہیں، پھر وہ جگہ گاؤں کہلاتی ہے، پھر قصبہ، پھر تحصیل، پھر ضلع، پھر ڈویژن بنتا ہے۔

لیکن یہ تعمیرات بے ہنگم طریقے سے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ دکان کی مثال لے لیں۔ جب کسی جگہ دکانیں بنائی جاتی ہیں تو وہاں بیت الخلاء کی کوئی جگہ نہیں رکھی جاتی جو دکانداروں کے لیے باعث تکلیف ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر کسی کو دو تین گھنٹوں بعد رفع حاجت کی ضرورت ہوتی ہے تو آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہو گا کہ دکاندار حضرات بوتلیں، لوٹے وغیرہ لے کر کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر یہ کام کر رہے ہوتے ہیں جو کہ سراسر صحت کے اصولوں کے منافی ہے۔

جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ دکان تعمیر کرتے ہی اس کی چھت پر ایک بیت الخلاء ضرور تعمیر کیا ہائے لیکن یہاں تو یہ حالت ہے کہ چھوٹے شہر تو چھوڑیں، بڑے شہروں میں کئی کئی فلیٹوں پر مشتمل عمارتوں میں فلیٹ کرائے پر لینے جائیں تو بڑے فخر سے سینہ پھلاء کر آپ کو بتایا جاتا ہے ہے کہ بیت الخلاء ”کامن“ یعنی مشترکہ ہے۔ اب ذرا سوچیں کہ کسی وقت اگر وہاں رہائش رکھنے والے بہت سے افراد کو یک دم حاجت ہو جائے اور بدقسمتی سے دوچار افراد کا پیٹ بھی خراب ہو یعنی وہ خود پر روک نہ لگا سکیں تو سوچیں کہ وہ کیسے گزارہ کرتے ہوں گے۔

اگر آپ کو یہ بات دور کی کوڑی لگ رہی ہو تو یاد رکھیں کہ ہمارے معاشرے میں ویسے بھی کھانا پکاتے ہوئے صحت عامہ کے اصولوں پر عمل نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ہیضہ وغیرہ جیسے امراض بہت عام ہیں۔ اور اگر آپ اس نا انصافی پر احتجاج کریں اور کہیں کہ اتنے بہت سارے لوگوں کا صرف ایک بیت الخلاء سے گزارہ کیسے ہو گا تو مالک مکان اور دلال آپ کو ایسے کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور ان کا کچھ ایسا رویہ ہوتا ہے کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ارے احمق ہم تمھیں رہائش کی جگہ دے رہے ہیں، کھاؤ پیو، مزے کرو اور نکاسی کو بھول جاؤ۔ اور اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لیے کہتے ہیں کہ بس بس، تمھارا اصل میں لینے کا ارادہ ہی نہیں ہے، اس لیے بہانے بنا رہے ہو یا یہ کہ تمھارے پاس جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے اور منہ اٹھا کر کرائے کا مکان لینے آ گئے ہو۔

اگر غور کریں تو اس میں ایسے ناقص سہولیات کے حامل مکانات اور فلیٹ خریدنے والوں کا قصور زیادہ ہے کیونکہ ابھی کوئی مکان دکان یا فلیٹ موقع پر تعمیر بھی نہیں ہوا ہوتا اور لوگ ان کے پاس رقم جمع کرا دیتے ہیں کہ ہمارے لیے اس میں فلیٹ دکان رکھیں۔ اگر لوگ اس وقت دکان، مکان یا فلیٹ خریدیں کہ جب وہ واقعی موقع پر تعمیر ہو چکا ہو تو تعمیر کرنے والے ایسی بڑی خامی کبھی نہ چھوڑیں لیکن جب لوگ ان کی منت سماجت کر رہے ہوں کہ جیسے بھی ہو، ہماری دکان، مکان یا فلیٹ تعمیر کر دو تو پھر وہ بھلا ایسی چیزوں کی طرف کیوں دھیان دیں گے۔

حالانکہ بڑے شہروں میں نکاسی آب کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، ہر عمارت کے ساتھ نکاسی کے بڑے پائپ، نالے گزر رہے ہوتے ہیں، بس باتھ روم تعمیر کر کے ان کے ساتھ منسلک ہی کرنا ہوتا ہے لیکن پھر وہی بات کہ جب تعمیر کرنے والوں کی چیز اس کے بغیر ہی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہی ہو تو پھر وہ ایسے حفاظتی اقدامات جیسے کہ ہر فلیٹ کے ساتھ باتھ روم، آگ بجھانے کے آلات اور عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں متبادل راستہ تعمیر کرنے کی جانب کیوں دھیان دیں گے کہ جس سے ان کے منافع میں کمی آ رہی ہو۔

اسی طرح دکانوں، مکانات، فلیٹوں میں آگ بجھانے والے آلے کا کوئی بندوبست نہیں کیا جاتا۔ اگر آگ لگ جائے تو اسے بجھانے کے لالے پڑ جاتے ہیں اور اکثر واقعات میں اگ اسی لیے زیادہ جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہے کہ اسے شروع میں بجھانے کا بندوبست نہیں ہو پاتا اور آگ بجھانے والے عملے کو آتے آتے دیر لگ جاتی ہے۔ ہمارے یہاں دس، بیس، تیس چالیس منزلہ عمارتیں تو بنا دی جاتی ہیں مگر ان میں رہائشیوں کے انخلاء کے لیے متبادل راستہ تعمیر نہیں کیا جاتا جو آگ لگنے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بنتا ہے۔ ابھی ہم یہ مضمون لکھا ہی رہے تھے کہ کراچی کی ایک عمارت میں آگ لگنے سے کئی افراد کی موت کی خبر آ گئی جس میں خبروں کے مطابق وہ لوگ جھلس کر نہیں بلکہ متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے دم گھٹ کر ہلاک ہوئے تھے۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو بی بی سی اردو کی یہ تفصیلی خبر پڑھ لیجیے۔

https://www.bbc.com/urdu/articles/cd1pjzy8yz5o

اب ہونا تو یہ چاہیے کہ خریدار اتنے بڑے سقم کی موجودگی میں دکان، فلیٹ وغیرہ نہ خریدیں۔ یہ عذر کہ آگ لگنے کے راستے سے چور آ سکتے ہیں، عذرلنگ سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ آپ دیکھیں کہ ہمارے یہاں عمارتوں کے نگران، چوکیدار، ضرور موجود ہوتے ہیں، تو عمارتوں کے رہائشی جہاں ان کی تنخواہ کے لیے رقم دے دیتے ہیں تو آگ لگنے کے راستے پر چوکیداروں کی تعیناتی کے لیے بھی رقم دے دیں گے۔ لیکن اس کا ایک اور طریقہ بھی ہے کہ مغربی ممالک میں سستی تعمیرات کی حامل عمارت کی پچھلی طرف ہر منزل سے نیچے جانے کے لیے لوہے کی سیڑھیاں ہوتی ہیں لیکن آخری ایک منزل یعنی دس بارہ فٹ کی سیڑھی یا تو سپرنگوں کی مدد سے اونچی کھڑی ہوتی ہے کہ جس پر اوپر سے لوگ سوار ہوں تو تب ہی دباؤ سے وہ نیچے آتی ہے یا پھر اوپر ایک لیور لگا ہوتا ہے جسے گھمانے پر سیڑھی نیچے پہنچ جاتی ہے۔

یعنی نیچے سے کوئی اس وقت تک اوپر نہیں جا سکتا کہ جب تک لیور گھما کر سیڑھی نیچے نہ گرائی جائے۔ لیکن پھر وہی بات کہ جب لوگ ”پہلے آئیے، پہلے پائیے“ کے خوش کن نعرے پر بغیر موقع پر دیکھے بھالے رقم دے دیتے ہیں اور خود بھی عمارتوں کی تعمیر کے دوران ایسی حفاظتی تعمیرات کی ضرورت پر زور نہیں دیتے تو تعمیر کرنے والے کیوں دیں گے، انہیں تو کم سے کم پیسہ لگا کر زیادہ رقم کمانے کی ہوس ہوتی ہے۔

اسی طرح فلیٹوں کی بالکنی کا معاملہ دیکھ لیں۔ اکثر عمارتوں میں خوبصورتی بڑھانے کے لیے ایسی چھوٹی اور نیچی بالکنیاں تعمیر کی جاتی ہیں کہ حادثاتی طور پر دھکا یا دھچکا لگنے کی صورت میں گرنے کا قوی امکان ہوتا ہے خاص طور پر چھوٹے بچوں اور بزرگ افراد کو نیچے گرنے سے بچانے کے لیے کوئی سہارا نہیں ہوتا۔ اب بالکنی کا اصل کام تو ہے ہی یہ کہ کسی حادثے کی صورت میں گرنے سے بچاؤ کرے، ورنہ عام حالت میں کون کسی چھت کے کنارے تک جاتا ہے۔ لیکن یہاں بالکنی کو محض آرائش کی چیز بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بالکنی سب سے پہلے حادثے سے بچاؤ کے قابل ہو پھر سجاوٹ کے کام آئے لیکن یہاں سجاوٹ کو پہلی ترجیح بنا دیا گیا ہے۔

اسی طرح فلیٹوں کی عمارتوں میں پہلے سے کوئی الماری نہیں بنائی جاتی، حتیٰ کہ بجلی جانے کی صورت میں موم بتی رکھنے کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ لوگ اپنی لکڑی کی الماریاں لے جاتے ہیں لیکن موم بتی رکھنے کی صورت میں لکڑی کی الماری کو آگ لگنے کا خدشہ ہوتا ہے جبکہ دیوار میں اینٹوں سے بنی الماری میں ایسا کوئی خدشہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح زیادہ تر فلیٹوں میں واش بیسن بھی نہیں ہوتا اور کرائے دار کو خود سے لگانا پڑتا ہے جو ایک سے دوسرے گھر منتقلی کی صورت میں اکثر ٹوٹ جاتا ہے۔

اسی طرح بعض لوگ اپنا خرچہ بچانے کے لیے لوہے یا سلور کی تاروں کی وائرنگ کروا لیتے ہیں جس سے چند ہی مہینوں بعد ربڑ اتر جاتا ہے اور دیواروں میں کرنٹ آ جاتا ہے۔

اسی طرح پاکستان بھر کے مالک مکانوں نے طے کر رکھا ہے کہ جب تک کوئی کرایہ دار رہے گا تو انہوں نے مکان، دکان کی کوئی مرمت نہیں کروانی، خواہ کرایہ دار چھت گرنے سے دوسری دنیا ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔ ہاں جب ایک کرایہ دار چلا جاتا ہے، تو پھر اس کی کچھ مرمت کرتے ہیں اور نئے کرایہ دار کے لیے کرایہ بڑھ دیتے ہیں۔

اسی طرح دکانوں، مکانوں کے اشتہارات میں بڑے فخر سے کہا جاتا ہے ماربل کے فرش، باتھ روم بنے ہوئے ہیں۔ اب اس میں ایک خرابی یہ ہے کہ ماربل کا فرش اتنا پھسلوان ہوتا ہے کہ اگر آپ بیماری، کمزوری وغیرہ کی وجہ سے سنبھل کر نہیں چل سکتے تو گر جائیں گے۔ اس کے علاوہ اگر ماربل کے فرش پر ذرا سا بھی پانی یا میل ہو تو انسان ضرور پھسل جاتا ہے۔ ماربل کا فرش صفائی میں جتنا آسان ہے، ذرا سی میل پر اتنا ہی خطرناک ہو جاتا ہے۔

خاص طور پر بوڑھے اور کمزور افراد کے لیے یہ موت کے پروانے سے کم نہیں ہے۔ تحریک آزادی (ہند) کے مشہور رہنماء اور غبار خاطر کے مصنف مولانا ابوالکلام آزاد باتھ روم میں فرش سے پھسلنے سے کمر ٹوٹنے کے باعث فوت ہوئے تھے۔ اس کے مقابلے میں سیمنٹ کا فرش کم پھسلوان کا حامل ہوتا ہے، اگر اسے تھوڑا کھردرا بنایا جائے اور اینٹوں کا فرش سب سے کم پھسلوان رکھتا ہے۔ خاص طور پر اگر سرخ اینٹوں کا فرش ماربل کو رگڑنے والی مشین کے ذریعے بنوایا جائے اور اگر اینٹوں کے درمیان جوڑ لگانے کی سیمنٹ میں اینٹوں کے رنگ کا سرخ رنگ شامل کر دیا جائے تو آپ اینٹوں کی اچھی طرح دو تین سینٹی میٹر رگڑائی ہونے کے بعد یہ بتا بھی نہیں سکتے کہ کہاں جوڑ لگا ہے۔

دور سے دیکھنے پر سبھی سوچتے ہیں کہ اٹلی کا سرخ ماربل لگا ہے۔ اور اینٹوں کا فرش اتنا کھردار ضرور ہوتا ہے کہ فرش پر میل ہونے کی صورت میں بھی زیادہ پھسلن کا باعث نہیں بنتا۔ ماربل کے فرش پر اگر آپ کسی کیل، راڈ وغیرہ جیسی چیز کو سیدھا کرنے کے لیے اس پر ہتھوڑی سے چوٹ لگائیں تو ماربل کی سلیٹ ٹوٹ جاتی ہے۔ یعنی آپ گھر میں کسی چیز کی چھوٹی موٹی مرمت بھی نہیں کر سکتے۔ جبکہ سیمنٹ یا اینٹوں کے فرش آسانی سے نہیں ٹوٹتے۔ اگر ماربل کی طرح کا فرش چاہتے ہیں تو سفید رنگ کی سیمنٹ استعمال کر لیں۔

اگر لوگ خود بڑے شہروں کی طرف نہ بھاگیں اور وہاں رہائش کے نام پر ذلیل و خوار نہ ہوں تو بڑے شہر مزید بڑے نہیں ہوں گے اور چھوٹے شہر کچھ بڑھ کر بڑے شہروں جتنی سہولیات رکھنے لگیں گے۔

Facebook Comments HS