نواز شریف کی بریت


ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو گیارہ سال قید با مشقت، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو آٹھ سال قید با مشقت جبکہ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید با مشقت اور مجموعی طور پر شریف فیملی کو ایک ارب پینسٹھ کروڑ کے قریب جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ مقدمے کے دیگر ملزمان حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے کر دوسری بار ان کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ فیصلے میں درج تھا کہ نواز شریف یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو مذکورہ فلیٹ خریدنے کے لیے رقم نہیں دی۔

مزید یہ کہا گیا کہ مذکورہ فلیٹ 1993 سے شریف فیملی کی ملکیت ہیں، لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیب کی جانب سے یہ نکتہ ثابت کرنے کے بجائے کہ اس وقت نواز شریف کے بچے ان کے زیر کفالت تھے یا نہیں، محض اس مفروضے کی بنیاد پر مقدمہ کھڑا کیا گیا کہ مذکورہ فلیٹ خریدتے وقت ان کے بچوں کی جو عمر تھی اس عمر میں عموماً بچے اپنے والدین کے زیر کفالت ہوا کرتے ہیں۔ لہذا اس نکتے کو بنیاد بنا کر یہ تصور ہوا کہ 1993 سے شریف فیملی کی ملکیت فلیٹس کی ذمہ داری سے نواز شریف مبرا نہیں ہو سکتے۔

اس کیس کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس میں استغاثہ کا مکمل زور بار ثبوت ملزمان کی ذمہ داری ثابت کرنے پر رہا اور چونکہ شریف فیملی بھی اپنے دفاع میں ٹھوس دلیل فراہم کرنے میں ناکام رہی لہذا مقدمے کا فیصلہ اسی بنیاد پر جاری کیا گیا۔ یعنی کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ میاں صاحب ساڑھے نو ماہ پر مشتمل ٹرائل میں نہ تو کوئی منی ٹریل فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے جس سے مذکورہ فلیٹس ان کی قانونی آمدن سے بنائی گئی ملکیت ثابت ہو سکے اس لیے یہ ملکیت نا جائز ذرائع آمدن سے حاصل ہوا اثاثہ تصور ہو گی۔

یہ فیصلے کی مختصر روئیداد تھی اور اس وقت کے سیاسی حالات کے تناظر میں یہ غیر متوقع فیصلہ نہیں تھا۔ عدالتی فیصلے جیسے بھی ہوں اور چاہے وہ کتنے بھی نا پسندیدہ نظر آئیں ان پر عمل کرنا بہرحال لازم ہے۔ اٹھائیس جولائی کے میاں صاحب کی نا اہلی کے فیصلے پر بھی بہت سے سوالات تھے لیکن وہ فیصلہ نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اس پر من و عن عمل بھی ہوا۔ سپریم کورٹ نے نا اہلی کا فیصلہ کرتے وقت ایک ٹرائل کورٹ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جس نے میاں صاحب پر جے آئی ٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی حقیقت کا پتہ لگانا تھا۔

جو سوالات مگر اٹھائیس جولائی کو تشنہ تھے مذکورہ فیصلے میں بھی وہ جوں کے توں تشنہ ہی رہے۔ مثال کے طور پر یہ واضح ہونے کے بعد بھی کہ لندن میں موجود گمنامی فلیٹس نواز شریف کے بچوں کی ملکیت ہیں، نیب یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس جائیداد سے براہ راست نواز شریف کا تعلق ہے۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے وقت میاں صاحب کے بچے کم عمر تھے، تو پھر بھی محض اس دلیل کو جواز ٹھہرانے کے علاوہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ان کی خریداری کے لیے پیسے میاں صاحب نے ہی غیر قانونی آمدن سے بھیجے تھے۔

جبکہ شریف فیملی کا موقف تھا کہ بچے اپنے دادا کے زیر کفالت تھے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں اس خریداری کے لیے سرمایہ اپنے دادا سے ملا ہو۔ مریم نواز اور حسین نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ کے بارے میں یہ درج ہے کہ انہوں نے عدالت کے روبرو جھوٹے کاغذات جمع کرائے۔ اس الزام میں اگر سچائی ہے تو پھر بھی مذکورہ ٹرسٹ ڈیڈ تو بہن اور بھائی کے درمیان تھی لیکن اس بات کی کوئی وضاحت درج نہیں کہ مریم نواز نے اس عمل سے نواز شریف کو کس طرح تقویت پہنچائی۔

ٹرائل کورٹ کی جانب سے تمام تر انحصار پہلے سے موجود جے آئی ٹی رپورٹ پر رہا، اسی طرح اس کارروائی میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کے علاوہ کوئی نیا قابل ذکر گواہ پیش نہیں کیا گیا اس کے باوجود عجلت میں اس مقدمے کا فیصلہ سنایا جانا سمجھ سے بالاتر تھا۔ خود اس فیصلے میں یہ درج ہے کہ استغاثہ کرپشن ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جب یہ فیصلہ آیا اس وقت ہم نے لکھا تھا کہ ان مقدمات میں جو کڑا معیار اور نظیر قائم کی گئی ہے چند ماہ کے اندر ہی معزز عدالت خود اس معیار سے روگردانی کرتی نظر آئے گی۔

بعد میں یہ ہوا بھی، جیسا کہ شیخ رشید کی نا اہلی کے متعلق دائر کیے گئے کیس میں عدالت کا فیصلہ پانامہ کیس میں مقرر کیے گئے معیار سے مختلف نظر آیا۔ اسی طرح عمران خان اور جہانگیر ترین کے کیس کا فیصلہ بھی ان دنوں نظام عدل اور احتساب کے دہرے معیار کو عیاں کر رہا تھا۔ انہی ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ہم دہائی دے رہے تھے کہ بادی النظر میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کیس کا فیصلہ بھی میاں صاحب سے متعلق پہلے دونوں مقدمات کی توسیع نظر آتا ہے اور ایک نہ ایک دن یہ سزا ضرور کالعدم قرار دی جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیس میں یہ کمزوریاں تو شروع دن سے موجود تھیں، اس وقت پھر یہ سزا کیوں سنائی گئی؟ تسلیم کرنا چاہیے کہ یا تو اس وقت نواز شریف کو سزا کسی ایجنڈے کے تحت سنائی گئی تھی یا پھر اب مجبوری کے تحت ان کو ہر برائی سمیت واپس اقتدار میں لایا جا رہا ہے۔ اس تاثر کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ وطن عزیز میں جب کسی جماعت کو عتاب کا نشانہ بنانا ہو تو اس کے رہنماؤں کے خلاف کیس موثر ہو جاتے ہیں اور جب اس جماعت کو کسی وجہ سے ریلیف دینا مجبوری بن جائے تو صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔

آخر میں نواز شریف صاحب سے عرض ہے کہ وہ جس طریقے سے اقتدار میں آ رہے ہیں، اندیشہ ہے کہ ان کا حالیہ دور اقتدار بھی طویل نہیں ہو گا، لہذا مستقبل میں خود اور دیگر سیاستدانوں کو بے توقیر ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے کم از کم نیب کے خاتمے پر سمجھوتا نہ کریں۔ خود اعلی عدالتیں ماضی میں متعدد بار قرار دے چکی ہیں کہ نیب سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے اور سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کرنے کے لیے آلے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح نواز شریف صاحب ہتک عزت کا قانون مضبوط کرنے اور پسند نا پسند کی بجائے مقتدر اداروں میں سنیارٹی کی بنیاد پر ازخود تقرری کا نظام رائج کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو صرف جمہوریت بلکہ ملکی معیشت کے لیے ان کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔

Facebook Comments HS