سرکاری افسر کیوں مرتے ہیں؟


پہلے پہل جب آپ نئی نئی افسری کا ٹیگ لگا کر کسی بھی ڈیپارٹمنٹ میں جاتے ہیں تو کوئی آپ کو ڈراتا ہے، اینٹی کرپشن، نیب، پرانے کیسز، اثر و رسوخ والے لوگوں وغیرہ وغیرہ۔ کوئی دبے لفظوں ایسا بھاشن آتے جاتے سناتا ہے کہ ہم نے اپنے سینیئرز کو پروٹیکٹ کرنا ہے۔ فائلوں میں کچھ ایسا نہیں لکھنا کہ ان پر حرف آئے۔ اور ایسا بھی آپ کے قلم سے نہ نکلے جو آنے والوں کے گریبان تک آئے۔ اگر نئی بھرتی ہونے والی افسر کوئی عورت ہو تو زبردستی کوئی بھائی بننے کی کوشش کرتا ہے، کوئی بزرگ۔ کوئی خواہ مخواہ آپ کا خیر خواہ بنتا ہے۔ ویمن کارڈ استعمال کرنے کے مشورے دیتا ہے اور اس خاتون افسر کے ذریعے خود اپنے کئی کام آسان کرنے کی دوڑ میں رہتا ہے۔ ایک کمرے سے نکلو تو دوسرا افسر پہلے کی برائیاں کرتا ہے۔ دوسرے کے دفتر سے باہر آؤ تو تیسرا ہمدرد بن کر پہلے دو کو ننگا کرنے لگتا ہے۔

کسی بھی افسر کے ابتدائی چار، چھ ماہ پہلے سے موجود افسروں کی چاندی کے ہوتے ہیں۔ عموماً لاعلمی، کم تجربہ، اور روزانہ کی رنگ برنگی، متضاد باتوں کی وجہ سے الجھے افسروں کو قابو کرنے کا یہ ’گولڈن موقع‘ ہوتا ہے۔ دستخطوں کی اہمیت سے نابلد اور اپنی ’پاورز‘ اور ’ہینڈلنگ ٹیکٹکس‘ سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی فائلوں اور فیصلوں پر غلط دستخط کرتے اور جال میں پھنستے ہیں۔

وقتاً فوقتاً کبھی نائب قاصد، تو کبھی کوئی افسر اس نئی بھرتی کے دفتر میں چکر لگاتے ہیں۔ اپنی ٹیم کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور آج کل تو کون، کب، کہاں آپ کا کہا ریکارڈ کر لے اور کس کو، کیوں سنا دے۔ آپ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو پاتی۔

ان سے اگلے مراحل میں کبھی آپ کا جونیئر افسر، کبھی ساتھی افسر، کبھی کلرک، کبھی اہم کاموں (اہم وہ جو ان کے نزدیک ہوں گے) کے لئے خود نام نہاد باس اس تیزی سے آپ کے آفس میں داخل ہوتے ہیں اور لمحوں میں بلا سوچے سمجھے پڑھے ضروری فائلز پر دستخط کرنے کو کہتے ہیں۔ ’نہ‘ کہنے پر آپ کے ماتحت عملے کے سامنے سے لیکر، افسران کی بھری میٹنگز میں آپ سے بدکلامی، بد زبانی کی جاتی ہے۔ ’اوقات‘ بتائی جاتی ہے۔ پیڈا لگانے کی دھمکیاں تو معمول کی بات ہے۔ مقامی اخبارات میں کام اور کردار کے حوالے سے خبریں آتی ہیں۔

دو ہی آپشنز ہیں نظام کا حصہ بنیں یا نظام سے نکل جائیں۔ ’اوبلائیجڈ‘ کرنے کا ہنر سیکھیں ورنہ ’الوف اور ایلین (اجنبی) بنا دیے جائیں گے۔ جس کی نا اہلی، غیر معاون، غیر ضروری سخت ہونے کے خود ساختہ چرچے افسران بالا، ماتحت اسٹاف، مختلف متعلقہ اداروں اور مارکیٹ میں پھیلا دیے جاتے ہیں۔ وہ دفتر جس میں روز آپ نے کم ازکم آٹھ گھنٹے گزارنے ہوتے ہیں۔ آپ گھٹن زدہ، عدم اعتماد اور پریشان کن ماحول میں رہتے ہیں۔ بات کرنے کو ترستے ہیں۔ کیونکہ وفاداری اور سچائی کا کال رہتا ہے۔ روز کی بنیاد پر، دن میں بہت بار ہر چہرے کے نقاب اترتے ہیں۔ جو شرمندہ بھی نہیں ہوتے۔ فائلوں میں لکھا تبدیل کرنا، صفحات نکالنا، کچھ نیا ڈالنا، جعلی دستخط ایک عام سی کہانی ہے۔

اگر آپ نئے سے تھوڑے پرانے افسر ہو گئے ہیں۔ اور ابھی تک کسی گروپ کے وفادار نہیں بنے۔ تو پہلے چائے پر اچانک بلایا جائے گا، پھر ہائی۔ ٹی اور پھر کھانے پر تاکہ انکار ممکن ہی نہ رہے۔ دانستہ گروپ تصویر بنے گی۔ جس کو غیر محسوس انداز میں ٹیگ اور شیئر کیا جائے گا تاکہ آپ کی وابستگی رجسٹرڈ ہوتی جائے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ اور اگر کوئی افسر واقعی ڈھیٹ بن جائے، کسی طرح ہاتھ نہ آئے تو روز روز کے تبادلے، محکمانہ تحقیقات، برسوں ترقی روکنا اور کھپانا آپ کا چلن بنا دیتے ہیں۔ نظام اور اس کے گھاگ شکاری ہمیشہ، وقتاً فوقتاً جال پھینکتے ہیں۔ نجانے کس گھڑی آپ پھنس جائیں۔ ورنہ کسی موذی مرض یا کم ازکم ڈپریشن کا تحفہ تو ضرور وصول کریں۔

سازشوں کا محل جس میں ہر کوئی بادشاہ بننے کے لئے دوسرے کی ٹانگ کھینچتا ہے۔ بے ضمیری، بدعنوانی، تذلیل، مفاد پرستی کا راج ہے۔ اگر کوئی باضمیر اس میں شامل ہو جائے۔ تو پہلے تو برداشت کرتا ہے۔ پھر خود کو خاموش رہنا سکھاتا ہے۔ اس کے بعد صرف خود کو بچانے کی کوشش میں روز ہلکان ہوتا ہے۔ شام لوٹتا ہے تو کئی اندیشوں کے ہمراہ، صبح اپنی سیٹ پر جاتا ہے تو خود کو ہزار جتن سے آمادہ کرتا ہے۔ دفتر میں کوئی ساتھی مشکل سے ملتا ہے اور خاندان میں کوئی بھی اس افسری سے آگے سوچتا نہیں۔

یہ کشمکش پہلے ذہنی پراگندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ پھر خود سوزی، خود کشی یا موت۔ اور ہم تک خبر آجاتی ہے کہ بلال پاشا مر گیا۔ اس سے پہلے بھی عمران رضا عباسی، ایم۔ اے۔ او کالج پروفیسر، کامران فیصل، محمد ریاض کی ایسی ناگہانی رخصتی ہونے کی خبریں پچھلے کئی سالوں سے سوشل اور پرنٹ میڈیاز پر آتی رہی ہیں۔ اور آتی رہیں گی کیونکہ:

ہم ایمان کو افسری پر ترجیح دیتے ہیں۔
اخلاقی اقدار اور اصولوں سے اوپر گریڈز کو اہم سمجھتے ہیں۔
حلال پر حرام کمانا حق مانتے ہیں۔
ناجائز اختیارات کو ذمہ داریوں پر فوقیت دیتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments