پی پی پی کا یوم تاسیس: ترقی کی میراث اور روشن مستقبل کا عہد


اپنے 56 ویں یوم تاسیس پر، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اپنے رہنما اصولوں پر قائم رہنے اور پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی پسند اور خوشحال ملک بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کر رہی ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ان رہنما اصولوں اور عزم کے ساتھ رکھی کہ ملک کے پسماندہ طبقات، محنت کشوں، کسانوں، غریبوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر کے وطن عزیز کو ایک ترقی یافتہ، جدید اور خوش حال ریاست بنایا جائے۔ اس کے رہنما اصولوں ’اسلام ہمارا مذہب، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست، اور طاقت کا سرچشمہ عوام‘ اور اس کے عوامی نعرے روٹی کپڑا مکان نے عوام کے دل میں اس حد تک گھر کیا کہ ایک مختصر عرصے میں یہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن گئی۔

پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں بھٹو شہید کی کرشماتی قیادت میں تبدیلی کا ایسا سفر شروع ہوا، جس سے محض دو سالوں میں ملک میں انقلابی اصلاحات آئیں، منقسم قوم متحد ہوئی، اسے 1973 کا متفقہ آئین ملا، کامیاب اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی، ایٹمی صلاحیت کی بنیاد رکھی گئی، پہلی بار پاکستانیوں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ ملا، شہید بھٹو نے غریبوں کو سیاست اور ووٹ کا حق دیا اس سے قبل سیاست صرف اشرافیہ کو حق تھا۔ شہید بھٹو نے سیاست کو جمہوری کیا، غریبوں اور محنت کشوں کو معاشی حق دلوایا، بے زمین ہاریوں کو زمین، طلبا، مزدوروں اور محنت کشوں کو یونین سازی کا حق دیا۔

پیپلز پارٹی نے اپنے ترقی پسند ایجنڈے کو شہید بے نظیر بھٹو کی قیادت میں جاری رکھا، جنھیں قیادت کا وصف ورثے میں ملا تھا۔ اپنے دو مختصر ادوار میں انہوں نے انتہائی بہادری سے دو آمریتوں کا مقابلہ کیا، اور پسماندہ طبقات کی ترقی و خوشحالی کے لیے انقلابی اقدامات کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔

شہید بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے، آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، بطور صدر، جمہوریت کو بحال کیا اور پارٹی کو دوبارہ متحرک کیا، مشکل وقت میں قوم کی قیادت کی، 18 ویں ترمیم سے پارلیمانی جمہوری ڈھانچہ بحال کیا، صوبائی خود اختیاری سے وفاقیت کو مضبوط کیا۔ انہوں نے معیشت کو مستحکم کیا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وسیلہ حق پروگرام، اور متعدد دیگر اقدامات شروع کیے جنہوں نے لاکھوں خاندانوں کو معاشی با اختیار بنایا۔

پیپلز پارٹی ہمیشہ سے قومی معیشت کو مستحکم کرنے کا گمنام ہیرو رہی ہے۔ 2008۔ 2013 کے درمیان حکومت کو برینٹ تیل کی اوسط عالمی قیمت $ 94.95 کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا تاہم اس کے بعد کے سالوں ( 2014۔ 2022 ) میں اوسط قیمت صرف $ 62.80 /BL دیکھی گئی۔

تیل کی ان خطرناک عالمی قیمتوں کے باوجود پی پی پی کی حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور مہنگائی کو 20.69 فیصد سے کم کر کے 7.69 فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔ پی پی پی نے قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا، جو اس کی 2008۔ 2013 کے درمیان معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت سے ظاہر ہے۔ کامیاب معاشی اصلاحات سے جی ڈی پی گروتھ میں ریکارڈ اضافہ ہوا، مالی سال 08۔ 2007 میں پیپلز پارٹی حکومت سے قبل 1.71 ٪ تھی، پیپلز پارٹی 2013 تک 153 ٪ اضافہ سے اسے 4.4 ٪ پرلے گئی، کامیاب معاشی و تجارتی پالیسیوں سے مجموعی قومی پیداوار 10452 ارب سے بڑھ کر 86 ٪ اضافے کے ساتھ 19436 ارب تک آ گئی۔

انتہائی نامساعد حالات، بدترین سیلاب، دہشت گردی سے نبردآزما ہوتے ہوئے 25 ٪ افراط زر کو 8 ٪ تک لے آئی، یہ پی پی پی حکومت کی بڑی کامیابی بنی۔ شرح سود 15 سے کم ہو کر 9.5 ٪ پرلے آئی، کاروباری طبقے نے حکومتی اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا جس سے ٹیکس محصولات 1008 ارب سے 136 ٪ اضافے کے ساتھ 2380 ارب پر آئے، ، ترسیلات زر چھ ارب ڈالر سے 117 ٪ اضافہ سے 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، سٹاک مارکیٹ جو 4800 پوائنٹس پر تھی 2013 میں 18500 پوائنٹس تک چلی گئی۔ 546 ارب روپے کی زرعی آمدن پانچ سال میں 1200 ارب روپے تک پہنچ گئی، زرعی خوشحالی آئی اور ملک زرعی اجناس درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ میں تبدیل ہوا، پبلک پرائیویٹ سیکٹر میں 70 لاکھ کے قریب ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 125 ٪ سے لے کر 175 ٪ اضافہ ہوا۔

پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں نظریاتی فرق بڑا واضح ہے۔ دوسری جماعتیں سمجھتی ہیں کہ امیر کو امیر بنانے سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن پی پی پی سمجھتی ہے کہ غریبوں پر پیسہ لگانے سے معیشت مضبوط ہوتی ہے۔ بھٹو شہید کا فلسفہ تھا کہ عوام کی قسمت میں ہمیشہ غریب رہنا نہیں۔ پیپلز پارٹی اشرافیہ کی نہیں بلکہ پسماندہ طبقات، اقلیتوں، مزدوروں، کسانوں اور طالب علموں کی پارٹی ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ حکومت میں آ کر تنخواہوں میں پانچ سال تک دوگنا اضافہ کرے۔

پاکستان بھر میں ان خاندانوں کو گھر بنانے کے لیے بلا سود قرضے اور زمین کے مالکانہ حقوق فراہم کریں جو نسلوں سے سرکاری زمین پر رہائش پذیر ہیں، لیکن مالکانہ حقوق سے محروم ہیں، پارٹی خواتین کو ان گھروں کا مالک بنانے کا عزم لئے ہوئے ہے۔ اس نے ہمیشہ انقلابی پروگرام متعارف کروائے ہیں جن کا مقصد غربت کا مقابلہ کرنا اور خواتین کو با اختیار بنانا ہے پیپلز پاورٹی ریڈکشن اور اب پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو شہید بی بی اور صدر زرداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے سے پورا خاندان مضبوط ہو گا۔ وہ بے گھر خاندان کی ہر عورت کو گھر کی ملکیت کے حقوق دینے کے لیے پرعزم ہیں، تاکہ انہیں با اختیار اور ان کے خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ مستقبل بنایا جا سکے۔ سندھ حکومت نے غریب کے لئے 20 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا اور اس پر عمل بھی جاری ہے جن سے خواتین کو ان گھروں کے مالکانہ حقوق بھی دیے جا رہے ہیں۔

آئندہ انتخابات جو اب زیادہ دور نہیں، پاکستان کی ایک نئی تاریخ لکھنے جا رہے ہیں، اس وقت کیے گئے درست فیصلے ہمیں درست سمت دے سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف رہا ہے کہ منتخب لوگ، ادارے ہی عوام کے حق میں درست فیصلے کر سکتے ہیں، لیکن پہلے عوام کو درست فیصلہ کرنا ہو گا۔ عوام کو درست فیصلہ کرنا ہو گا، جیسے انہوں نے شہید بھٹو، اور شہید بینظیر بھٹو کو مینڈیٹ دے کر کیا تھا۔

پیپلز پارٹی کسی سیاسی جماعت کی بجائے غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کو اپنا مخالف سمجھتی ہے۔ اس کی سیاست یکجہتی اور امید کی اور منزل عوامی راج ہے۔ بحرانی حالات میں ملک کو چلانا، اچھی اقتصادی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا اور پاکستانی عوام کو ٹھوس فوائد پہنچانا اس کی قابلیت کا ثبوت ہے۔ معاشی استحکام، ترقی اور سماجی انصاف کے لیے پارٹی کے عزم نے پاکستان کے معاشی منظر نامے پر انمٹ نشان چھوڑا ہے۔

جیسا کہ پی پی پی اپنا 56 واں یوم تاسیس منا رہی ہے، یہ اپنے رہنما اصولوں پر قائم ہے۔ شہید بھٹو کے فلسفے سے جنم لینے والی پارٹی، اتحاد، امید اور مساوات کے مستقبل کا وعدہ کرتے ہوئے غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ یوم تاسیس کے موقع پر ہم اپنے عہد کی تجدید کرتے ہوئے پارٹی کے شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے طے کردہ وژن کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS