کلائمیٹ گورننس: پاکستان میں دستوری و قانونی مسئلہ


عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ منصوبہ بندی کے طریقہ کار اور موسمیاتی موافقت پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے عملی طور پر ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ گلوبل کلائمیٹ انڈیکس رسک کی فہرست میں پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی خطرات کا شکار ہیں اور پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے اس فہرست میں ہے۔ پاکستان میں آب و ہوا کی تبدیلی سے آفات جنم لے رہے ہیں، جیسے ہر سال سیلاب، گرمی کی شدت، فصلوں کی پیداوار میں کمی موسمیاتی آفت کا نتیجہ ہے۔

اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج کی بنیاد پر کانفرنس آف پارٹیز (COP) کا انعقاد کیا جاتا ہے اور پاکستان بھی 198 ممالک کی طرح مذکورہ کنونشن کا دستخطی ہے۔ چار اہداف کے تحت، کاپ 28 کا آغاز دبئی میں 30 نومبر سے ہو گیا ہے۔ فوسل ایندھن سے دور منتقلی کو تیزی سے ٹریک کرنا؛ موسمیاتی مالیاتی انتظامات کو تبدیل کرنا؛ موسمیاتی تبدیلی میں فطرت و افراد کا کردار اور مقامی کیمونٹی، نوجوانوں، خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانا، اس کانفرنس کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔

نومبر 2022 ء میں کانفرنس آف پارٹیز کے 27 ویں اجلاس میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے 100 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ؛ ترقی پذیر ممالک یعنی گلوبل ساؤتھ میں موسمیاتی خطرات کم کرنے کے لیے 2030 ء تک سالانہ 2 کھرب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری درکار ہے، اگر دنیا نے گلوبل وارمنگ کو روکنا ہے۔ یہ رپورٹ، عالمی سطح پر تین شعبوں میں درکار سرمایہ کاری کا نقشہ کھینچتی ہے : گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی جو گرمی کو بڑھاتی ہے (تخفیف) ، مستقبل کے موسمیاتی اثرات (موافقت) کے مطابق ڈھالنا، اور غریب اور کمزوروں کو معاوضہ دینا۔

گلوبل ساؤتھ میں کم زور معیشتوں کے حامل ممالک میں ڈی کاربونائزیشن کے لیے، ترقی یافتہ ممالک کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ رواں سال جون میں نئے عالمی مالیاتی معاہدے پر، پیرس میں اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں عالمی بینک اور اس کے ملحقہ اداروں کی تنظیم نو کا مطالبہ ہوا اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی منسوخی اور گرانٹ پر مبنی فنانسنگ کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی و آفات کی سنگینی کا شکار ہے تاہم اس کے باوجود سیاسی جماعتیں اس سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات و پالیسی تشکیل دینے میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں۔ پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی و آئینی رکاوٹوں کا سامنا ہے : دستور پاکستان کی اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے، پانی، خوراک، زراعت اور ماحولیات جیسے مسائل صوبوں کے سپرد ہیں اور صوبوں کو ان امور سے متعلقہ قانون سازی و پالیسی سازی کا دستوری اختیار حاصل ہے تاہم موسمیاتی تبدیلی وفاقی دائرہ کار میں آتی ہے۔

موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے، اس دستوری مسئلے کو حل کرنا، آئندہ نئی سیاسی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پی ڈی ایم حکومت نے ٹاسک فورس آن کلائمیٹ چینج تشکیل دی جس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں کے افراد، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو شامل کیا گیا۔ اس ٹاسک فورس نے موسمیاتی خطرات کو کم کرنے کے لیے پالیسی دستاویز اور حکمت عملی تیار کرنا تھی جو ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود اپنا بنیادی ہدف پورا نہیں کر سکی۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد ، پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی پر پہلی پالیسی 2012 ء میں تیار کی تھی تاہم 2015 ء میں پیرس موسمیاتی معاہدے کے بعد ، پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اپنا حصہ ڈالنے پر رضا مندی ظاہر کی یوں پاکستان کو ایک نئی پالیسی کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ 2021 ء میں دوسری موسمیاتی پالیسی جاری کی گئی جس کا مرکزی ہدف موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے تخفیف اور فطرت پر مبنی حل پر اقدامات کرنا تھے۔

42 صفحات پر مشتمل یہ پالیسی ایک مکمل دستاویز ہے، جس پر اگر عمل درآمد ہو جائے تو پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان نے 2021 ء میں ہی اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج میں موسمیاتی ایکشن پلان پر مشتمل 76 صفحات کی دستاویز جمع کرائی، اس دستاویز کو سرکاری طور پر نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشن یعنی قومی سطح پر طے شدہ شراکت کا نام دیا گیا ہے۔ این ڈی سی دراصل، ضروری تخفیف اور موافقت کے اقدامات کو برؤے کار لا کر اخراج اور درجہ حرارت کو 2 ڈگری کے درمیان کم کرنے کا ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس کی توثیق ہر پانچ سال بعد پارٹیز کی کانفرنس (COP) میں پیرس معاہدے کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس دستاویز میں پاکستان نے اقوام متحدہ کو یقین دلایا ہے کہ 2030 ء تک نقل و حمل کے لیے 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی جبکہ 60 فیصد توانائی قابل تجدید وسائل سے پیدا کی جائے گی۔

موسمیاتی ایکشن پلان پر عالمی اداروں سے کیے گئے معاہدات کے لیے ریاست پاکستان کو صوبوں میں اپنی پالیسیوں کے اطلاق پر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ ہمیں یہ نکتہ واضح رہنا چاہیے کہ بین الاقوامی معاہدات وفاقی حکومت کے دائرہ میں ہوتے ہیں اور دستور پاکستان کے تحت بھی وفاقی حکومت ہی انھیں دیکھتی ہے تاہم کلائمیٹ گورننس کے معاملے پر صوبائی حکومتیں وفاق کے متوازی اپنی قانون سازی کر رہی ہیں۔ ہر صوبہ نے ماحولیات پر الگ سے قانون سازی کر رکھی ہے اور صوبہ اس قانون کے مطابق اقدامات کرتا ہے۔

ہمیں پاکستان میں کلائمیٹ گورننس کا جائزہ لینے کے لیے تاریخ کو یاد رکھنا ہو گا۔ کلائمیٹ گورننس اس وقت کم زور ہوئی جب اٹھارہویں ترمیم کے تحت وزارت ماحولیات کو 2011 ء میں ختم کر دیا گیا تھا اس کے بعد حکومت پاکستان نے کلائمیٹ چینج ڈویژن قائم کر دیا گیا۔ پنجاب، پختونخوا، بلوچستان اور سندھ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد رولز آف بزنس میں تبدیلیاں کر کے صوبائی سطح پر محکمہ جات قائم کر دیے۔

2012 ء میں لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ کی سماعت کے دوران کلائمیٹ چینج کمیشن قائم کر دیا اور اس کمیشن نے قومی سطح پر کلائمیٹ پالیسی کا جائزہ لیا اور نیا فریم ورک تجویز کیا۔ اس فریم ورک میں 735 سفارشات شامل کی گئیں اور عدالت کی مداخلت سے پنجاب میں 144 سفارشات پر کام مکمل کیا گیا۔ اس کے بعد ، 2017 ء میں پنجاب نے اپنی کلائمیٹ چینج پالیسی کا نیا مسودہ تیار کر لیا جسے ابھی تک کابینہ میں منظوری کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔

وفاقی سطح پر 2017 ء میں ہی پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ منظور کیا گیا جس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ پاکستان میں کلائمیٹ گورننس کو موثر بنانے کے لیے وفاقی سطح پر ٹھوس اقدامات کرنا اشد ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مضبوط لائزون قائم کیا جا سکا اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں، آفات اور خطرات سے نمٹنے کے لیے بر وقت اقدامات کرنے میں قانونی و دستوری پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Facebook Comments HS