کیا پاکستانی دھروا کے بیل کھانے کو تیار ہیں


مستنصر حسین تارڑ صاحب کے شہرہ آفاق ناول بہاؤ میں ایک ذیلی کردار دھروا کا ہے۔ زمانہ قبل از تاریخ کے پس منظر میں لکھی ہوئی اس عظیم الشان کہانی میں ایک بنجر ہوتے گاؤں کی روداد بیان کی گئی ہے جس میں دوسرے کرداروں کے ساتھ ساتھ ایک بوڑھا دھروا بھی ہے۔ دھروا کے پاس کچھ بیل ہوتے ہیں جو گاؤں والوں کی گائیوں کو گابھن کرنے کے کام آتے تھے۔ یوں مویشیوں کی افزائشِ نسل اور دودھ دہی وغیرہ کے ذریعے گاؤں والوں کا ذریعہ آمدن برقرار رہتا، لہٰذا اس قدیمی تہذیب میں یہ گاؤں والے ان جانوروں کو مقدس جانتے ہوئے ان کے لئے گھاس پھونس اور چارہ بطور تبرک اور چڑھاوے کے دھروا کے باڑے میں ڈال جایا کرتے تھے۔

خیر ناول کی جانب دوبارہ آتے ہیں۔ جیسے جیسے ناول کی کہانی آگے بڑھتی ہے، اور ایک خوشحال گاؤں مسلسل خشک سالی اور دریا کے سوکھنے کے باعث مالی مشکلات کا شکار ہونے لگتا ہے ویسے ویسے ہی گاؤں کی اقدار، روایات اور اعتقادات پر بھی زد آنا شروع ہوتی ہے۔ جب لوگوں کے پاس اپنی پیاس بجھانے کے لئے، فصل اگانے کے لئے پانی نہ ہو تو خوش بختی کے حصول کے لئے بیلوں کو چڑھاوا چڑھانے کے لئے گھاس پھونس اور چارہ جمع کرنا ترجیح نہیں رہتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیل نظر انداز ہونے لگتے ہیں۔ کم خوراکی کی وجہ سے لاغر ہونے لگتے ہیں۔ دھروا خود بھی بڑھاپے، بھوک اور افلاس سے کمزور ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں ان بیلوں کا باڑہ عدم توجہی کی وجہ سے اجاڑ اور ڈھنڈار ہونے لگتا ہے۔

جب خشک سالی قحط کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو گاؤں کے مویشی ہلاک ہونے لگتے ہیں۔ نوبت یہاں تک آ پہنچتی ہے کہ جب دھروا کے باڑے کے متبرک اور لائقِ پرستش بیل بھی ایک کے بعد ایک قحط سالی کا شکار ہو کر مر نے لگتے ہیں تو کچھ دن کی ہچکچاہٹ کے بعد دھروا آخر کار اس مردہ متبرک بیل کی بساند سے مقدس باڑے کو پاک کر نے کے لئے باڑے سے باہر کھلی فضا میں لا پھینکتا ہے۔ ایک اجنبی کے ضعفِ عقیدت سے شہ پاکر گاؤں کی عوام بھی اس پر ہاتھ صاف کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ کافی رد و کد کے بعد آخر کار دھروا بھی اس مردہ دیوتا کا مردار گوشت کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

افزائشِ نسل کے لئے اس طرح بیل اور بھینسے پالنا ہمارے دیہات میں اب بھی رائج ہے البتہ اب یہ کام ایک پیشے کی طرح سر انجام دیا جاتا ہے نا کہ کسی متبرک فریضے کے طور پر۔ گاؤں کے کسان اور کاشتکار بھی یہ سروس پیسوں کے عوض لیتے ہیں اور ان پیسوں کو نذر نیاز یا شکرانہ سمجھ کر ادا نہیں کرتے۔ لیکن کیا اکیسویں صدی میں پاکستان میں دھروا کے بیل ناپید ہیں؟

شاید نہیں۔ یہ بیل پاکستان کے سیاسی اور سماجی منظرنامے پر آج بھی موجود ہیں۔ پچھتر سال سے ہر دفعہ اقتدار کی بچھیا کی افزائش کے لئے کون سی گائے گابھن ہونی ہے اس کا فیصلہ یہی بیل کرتے آئے ہیں۔ ان بیلوں کو یک سطری بجٹ کے چڑھاوے پاکستان کی سادہ لوح جنتا اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ہمیشہ خوش دلی سے چڑھاتی آئی ہے۔ خوشحالی اور تحفظ کے دان کی خاطر ان بیلوں کی ہمیشہ سے پوجا پاٹ ہوتی رہی ہے۔ ان کا پھیلایا ستر، ننانوے اور گزشتہ دہائی کا فضلہ بھی پرشاد سمجھ کر سمیٹا جاتا رہا ہے اور ان کی انا کی قربان گاہوں پر کبھی سیاستدانوں کی تو کبھی ایٹمی ہیروؤں کی بَلی بھی چڑھائی جاتی رہی۔

ان کے چڑھاوے پر البتہ پہلی زد اٹھارہویں ترمیم سے پڑی جب گائیوں نے مل کر فیصلہ کر لیا کہ اب فصل کا بڑا حصہ گائے کے باڑے میں نہیں، بلکہ گھروں کے بھڑولوں میں جائے گا اور چڑھاوے بچے کھچے چارے میں سے ہی چڑھائے جائیں گے۔ ایسا نہیں کہ یہ بیل بھوکے مر گئے ہیں، البتہ ان کی شانِ ربوبیت پر آنچ ضرور پڑی ہے۔ لیکن بیلوں کو اور ان سے زیادہ آج کے دھرواؤں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تقدیس و تکریم کا پردہ تبھی تک قائم رہتا ہے جب تک عبادت گزاروں کا پیٹ بھرا رہے۔ آج کے دور میں یہ پیٹ صرف چارہ ہی نہیں مانگتا، عزتِ نفس، احترامِ آدمیت اور شخصی و گروہی آزادی بھی مانگتا ہے۔ جب ایک معاشرہ میں انارکی پھیلتی ہے تو اس کا پہلا شکار یہی تقدیس و تکریم کا پردہ ہوتا ہے۔

نو مئی ہوا؟ کیا گیا؟ یا کروایا گیا؟ یہ بحث لایعنی ہے۔ سمجھنے اور فکر کرنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان میں دھروا کا بیل مقدس باڑے سے باہر آ پڑا ہے۔ بہتر ہو گا کہ اسے دوبارہ عزت و تکریم کے پردے میں لپیٹ کر واپس باڑے میں دھکیلنے کی سعی رائیگاں کی بجائے اس حقیقت کا ہر دو جانب سے ادراک کر لیا جائے کہ مقدس ہی سہی ان بیلوں کا کام ایک پیشہ ہے نا کہ کوئی الوہی فریضہ۔ یہ ادراک ضروری ہے قبل اس کے کہ مردار ہو کر اس بیل کی بساند اور اپنی بھوک سے تنگ آ کر عوام اس کے پارچے آپس میں تقسیم کرنے کے درپے ہوجائیں۔ اور یاد رہے کہ پاروتی ندی کے کنارے اس بیل کے کھانے والوں میں خود دھروا بھی شامل تھا۔

 

Facebook Comments HS

3 thoughts on “کیا پاکستانی دھروا کے بیل کھانے کو تیار ہیں

  • 05/12/2023 at 7:23 شام
    Permalink

    کبھی ہم میں تم میں بھی پیار تھا
    تمیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    • 06/12/2023 at 1:09 صبح
      Permalink

      وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہوکہ نہ یاد ہو

    • 06/12/2023 at 6:22 شام
      Permalink

      چکیل کو شکیل پڑھا اور سمجھا جائے

Comments are closed.