کرپشن مسئلہ ہے یا حل
(کرسچنسن کی کتاب ”پروسپیرٹی پیراڈوکس“ سے ماخوذ )
اب تو اک عمر بیت گئی یہ سنتے ہوئے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اہل وطن کسی اور نام پر اتنا نہیں لوٹے گئے جتنا کرپشن ختم کرنے کے نام پر۔ جو بھی سیاست کا علم لے کر نکلتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ مجھ سے پہلے سب کرپٹ تھے اور میں ہی وہ نجات دہندہ ہوں جو وطن عزیز کو کرپشن سے پاک کروں گا۔ ہم ہر بار فریب کھاتے ہیں اور نجات دہندہ سے نجات کے بعد جب حساب کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کرپشن کئی گنا ہو چکی ہے اور وہ اپنی جھولی بھر کر جا چکا ہے۔
کرسچن سن کی کتاب ”پروسپیرٹی پیراڈوکس“ پڑھنے سے پہلے میرا بھی خیال تھا کہ کرپشن ایک مسئلہ ہے اور اسے حل ہونا چاہیے۔ کتاب ہاتھ آئی تو میں ابواب کی فہرست دیکھنے لگا، میری نظر اچانک نویں باب پر رک گئی، باب کا نام تھا ”کرپشن مسئلہ نہیں بلکہ حل ہے“ ، نام پڑھ کر میں چونک اٹھا۔ باب کو پڑھنے سے پہلے سوچنے لگا اگر یہ حل ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے۔ ذہن پر مزید بوجھ ڈالنے سے پہلے میں باب کا مطالعہ شروع کر چکا تھا۔
کتاب بتاتی ہے کہ کرپشن کا جنم وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے ایک شخص کی آمدن اور اخراجات میں فرق آتا ہے۔ اس فرق کو مٹانے کے مختلف طریقے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ شخص کچھ اور کام کر کے آمدن بڑھائے، دوسرا یہ کے کسی کا حق مارے اور تیسرا یہ کے پھر بد عنوانی کرے۔ پہلا طریقہ سب سے بہتر ہے مگر اس کے لیے اور کام کے مواقعے چاہئیں۔ وہ ممالک جہاں ایسی صورت حال ہو وہاں کرپشن عام ہو جاتی ہے اور لوگ اسے ایک حل کے طور پر اپنا لیتے ہیں۔ اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی آمدن ان کے اخراجات سے کم ہوتی ہے۔ بوجہ وہ آمدن بڑھانے کا پہلا طریقہ استعمال نہیں کر سکتے۔ دوسرا طریقہ چونکہ خطرناک ہو سکتا ہے اس لیے وہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں، لوگوں کا کام تب کرتے ہیں جب انھیں مال دیا جائے۔ پھر ہر طرف کرپشن گریس کا کام دینے لگتی ہے۔
کرسچنسن کے خیال میں کرپشن کی ماں آمدن اور اخراجات کا فرق ہے۔ جب تک یہ موجود رہے گا کرپشن رہے گی اور اس سلسلے میں اینٹی کرپشن کے اقدامات الٹا کرپشن بڑھا دیں گے۔ ایک صاحب علم کہا کرتے تھے کہ محکمہ اینٹی کرپشن دراصل آنٹی کرپشن ہے۔ اس کے خیال میں کرپشن ختم کرنے کے لیے آمدن اور اخراجات کا فرق مٹانا ہو گا، اور اس فرق کو مٹانے کے لیے اکانومی کا حجم بڑھانا ہو گا۔ جیسے جیسے اکانومی کا حجم بڑھے گا آمدن اور اخراجات میں فرق بھی کم ہو گا۔ اس کے خیال میں جہاں آج کرپشن کم ہے وہاں یہ لمبے عرصے میں اکانومی بہتر ہونے سے کم ہوئی ہے۔
اگر ہم حقیقت میں کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں صرف اور صرف معیشت درست کرنے پر توجہ دینی ہوگی، اکانومی کا حجم بڑھنے سے آمدن بڑھے گی اور کرپشن کم ہوگی۔ اس کے خیال میں زیادہ تر لوگ اچھے ہوتے ہیں ان کو اگر درست راستے سے کچھ ملے تو وہ غلط راستہ اختیار نہیں کرتے، باپ کے ہوتے کوئی لاولد نہیں کہلاتا۔


