نواز شریف، عمران خان کے خوف سے باہر نکلیں


مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی لاہور میں ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں پارٹیوں نے آئندہ انتخابات میں مل کر امید وار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدارتی امیدوار بھی اتفاق رائے سے لایا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے اعتماد کے علاوہ چھوٹی پارٹیوں کے جھکاؤ کو دیکھتے ہوئے قیاس کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہی آئندہ انتخابات کے بعد حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم بھی نون لیگ کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کرچکی ہے۔

یوں تو انتخابات سے پہلے ’ہم خیال‘ سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن موجودہ اتحاد ملک میں پائے جانے والے شک و شبہ کے ماحول میں سامنے آرہے ہیں۔ اسی لیے ان قیاس آرائیوں کو تقویت مل رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور عمران خان کو سیاسی لحاظ سے ٹھکانے لگانے کے لیے بہر صورت نواز شریف کو قبول کیا گیا ہے۔ بادشاہ گری کرنے والے اداروں کی طرف سے ایک کے بعد دوسری سیاسی پارٹی کو آگے کرنے کا طریقہ تو قابل فہم ہے تاہم نواز شریف کی تبدیلی قلب کے بارے میں زیادہ پریشانی لاحق ہونی چاہیے۔

انہوں نے 2017 میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد عوام کے حق انتخاب کی بات کی تھی اور ’مجھے کیوں نکالا‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو بے اختیار کرنے کا کھیل ختم ہونا چاہیے۔ بعد میں اسی موقف کو مشہور زمانہ نعرے ’ووٹ کو عزت دو‘ کی شکل دی گئی۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے سے پہلے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے نواز شریف اسی نعرے کی بنیاد پر ممتاز حیثیت اختیار کرتے رہے تھے اور ملک میں انہیں ’اینٹی اسٹبلشمنٹ‘ سیاسی قوت کے طور پر پہنچانا جانے لگا تھا۔ البتہ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور خاص طور سے سانحہ 9 مئی کے بعد عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیے پیدا ہونے والے حالات میں مسلم لیگ (ن) نے اسٹبلشمنٹ اور سیاست کے موضوع پر خیال آرائی سے گریز کیا ہے۔

اب یہ تو کوئی راز نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ لین دین کے حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں ایک گروہ کا خیال ہے کہ ملک میں سیاست کرنے کے لیے فوج کے ساتھ مل کر چلنا ہی اہم ہے۔ اس لیے اسٹبلشمنٹ کے خلاف نعرے بازی کی بجائے تعاون کا راستہ ہموار ہونا چاہیے۔ دوسری رائے نواز شریف گروپ سے وابستہ کی جاتی ہے کہ وہ منتخب سول حکومت کی خودمختاری کے حامی ہیں اور فوجی قیادت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ منتخب حکومت کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔

2017 میں نواز شریف کے خلاف اٹھنے والا طوفان بھی فوجی قیادت کے ساتھ اختلافات کا شاخسانہ ہی تھا۔ نواز شریف کے بارے میں یہ رائے بھی عام ہے کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم پاک فوج کے متعدد سربراہ تعینات کیے لیکن کسی کے ساتھ بھی ان کے تعلقات درست نہیں رہے۔ 1999 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے والے پرویز مشرف بھی سنیارٹی کی بجائے نواز شریف کے التفات کی وجہ سے ہی اس عہدے تک پہنچ پائے تھے لیکن جلد ہی ان کے درمیان دوریاں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ 2013 میں تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد نواز شریف حکومت کے خلاف عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا دھرنا بعض فوجی جرنیلوں کی سرپرستی ہی کی وجہ سے طویل عرصہ تک جاری رہا۔ اس بحران میں سے تو وہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی تعاون کی وجہ سے سرخرو رہے لیکن بعد میں پاناما لیکس کے معاملے میں انہیں سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا۔ اس فیصلہ کو اب عسکری و عدالتی قیادت کی ملی بھگت قرار دیا جاتا ہے۔

ان حالات میں نواز شریف کافی پس و پیش کے بعد لندن سے پاکستان واپس آئے تھے۔ تاہم توقع کی جا رہی تھی کہ نئے سیاسی ماحول میں چونکہ ایک بار پھر سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کا معاملہ زیر بحث ہے، اس لیے نواز شریف کوئی واضح سیاسی موقف اختیار کریں گے۔ گو کہ فوج کو براہ راست نہ بھی للکارا جائے لیکن باقی سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کم از کم کوئی ایسا مشترکہ پلیٹ فارم ضرور تیار کر لیا جائے کہ ایک بار یہ طے ہو سکے کہ محض اقتدار کے لیے سیاسی لیڈر عوام کے حق حکمرانی کے اصول پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ اور نہ ہی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کوئی ایسا اشتراک یا سمجھوتہ کیا جائے گا جس سے یہ تاثر قوی ہو کہ سیاسی رہنما ملکی سیاسی فیصلوں میں فوج کو پارلیمنٹ کی مرضی و منشا پر فوقیت دینے پر راضی ہیں۔ البتہ دریں حالات نواز شریف ایسا کوئی واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ سیاسی تقریروں میں وہ ماضی کے قصے سنا کر ایک بار پھر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ عام عقل و شعور کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات میں ماضی کی ترکیبیں اس وقت درپیش حالات کا سامنا کرنے کے لیے کارگر نہیں ہو سکتیں۔

نواز شریف کو بھی شاید اپنی اس کمزور پوزیشن کا احساس ہے۔ ان کا سیاسی اثاثہ پنجاب میں مقبولیت رہی ہے۔ تحریک انصاف کے دور میں ہراسانی کا سامنا کرنے کے دوران میں انہوں نے اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانیے کی بنا پر عوام کے دل جیتے اور انہیں ایک جمہوری رہنما کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ لیکن لندن روانگی اور اب واپسی پر انہوں نے عوامی حاکمیت کے سیاسی موقف پر اظہار خیال ضروری نہیں سمجھا۔ کہا جاسکتا ہے کہ فوجی قیادت میں تبدیلی اور موجودہ حالات میں ایسے سیاسی نعروں کی ضرورت نہیں رہی۔ اب ملک میں انتخابات کا ماحول ہے اور عوام کے مسائل کا حل پیش کرنے والی پارٹی ہی ان کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ یا جیسا کہ مسلم لیگ (ن) ثابت کر رہی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں و عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی قوت میں اضافہ کیا جائے تاکہ انتخابی کامیابی کا راستہ ہموار ہو سکے۔

اس حکمت عملی میں البتہ دو پہلو مسلسل توجہ طلب ہیں۔ نواز شریف جیسا تجربہ کار سیاست دان، ان سے ناآشنا نہیں ہو سکتا۔ ان میں ایک تو سیاسی و حکومتی معاملات میں فوجی قیادت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور مداخلت ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نگران وزیر اعظم کے ساتھ مل کر دوست ملکوں کے ساتھ سرمایہ کاری کی بات چیت کرنے میں مستعد ہیں۔ اس وقت کیے گئے فیصلے فروری میں قائم ہونے والی حکومت کے کے دائرہ اختیار پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) سمیت سب سیاسی پارٹیوں کو اس معاملہ میں دو ٹوک سیاسی موقف سامنے لانا چاہیے۔ خاص طور سے نواز شریف ماضی قریب میں منتخب حکومت کی مکمل خود مختاری کا پرچار کرتے رہے ہیں تاکہ سیاسی قیادت خود مختاری سے عوامی مفاد اور ملکی ضرورتوں کے مطابق فیصلے کرسکے۔ اس لیے انہیں اس بارے میں اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہیے۔ لیکن وہ بدستور خاموش ہیں۔

اس حوالے سے دوسرا اہم پہلو تحریک انصاف کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ ہے۔ یہ پارٹی گزشتہ سال اپریل تک اقتدار میں تھی لیکن دو سال سے بھی کم مدت میں عمران خان سمیت تحریک انصاف کی پوری قیادت کو گرفتار کر لیا گیا ہے یا اسے روپوش ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف میں نقب لگا کر پارٹی کو کمزور و غیر موثر کرنے کے وہی ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں جو اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف استعمال ہوتے رہے ہیں۔ نواز شریف کو جاننا چاہیے کہ اگر ان کی پارٹی مسلسل ریاستی دباؤ کے باوجود سیاسی طور سے فعال رہنے اور کسی حد تک ووٹ بنک بچانے میں کامیاب رہی ہے تو تحریک انصاف بھی موجودہ مشکل حالات سے نکل آئے گی۔ اس لیے یہ اہم تھا کہ وہ انتخابات سے پہلے ایک سیاسی پارٹی کے خلاف خوف و ہراس کی صورت حال پر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے۔ نواز شریف نے اس بارے میں بھی خاموش رہنے ہی کو بہتر سیاسی حکمت عملی سمجھا ہے۔

ان حالات ہی کی وجہ سے اس گمان و قیاس کو تقویت مل رہی ہے کہ نواز شریف طاقت ور حلقوں کے ساتھ کسی درپردہ ’مفاہمت و افہام و تفہیم‘ کے تحت لندن سے واپس آئے ہیں۔ اور اب اقتدار کے لیے مسلم لیگ (ن) کو چن لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی قیاس آرائیاں کرنے والوں کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن نواز شریف جیسے لیڈر کی خاموشی شبہات کو تقویت دیتی ہے۔ یہ شکوک و شبہات جتنے مضبوط ہوں گے، نواز شریف کے سیاسی چیلنجز میں اسی قدر اضافہ ہو گا۔ اسی لیے نواز شریف نے اہم کیو ایم کے بعد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی اتحاد بنانے کا اہتمام کیا ہے اور بلوچستان جاکر وہاں کے ’الیکٹ ایبلز‘ کو اپنی پارٹی میں شامل ہونے پر آمادہ کر لیا ہے۔

اس بارے میں قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے کہ یہ حکمت عملی کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ ممکن ہے ان طریقوں سے مسلم لیگ (ن) اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن جو حکومت بھی بنے گی، وہ کمزور اور ناپائیدار ہوگی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ انتخابات کے بعد بننے والی کوئی بھی اتحادی حکومت نہ عوام کو مطمئن کرسکے گی اور نہ ہی فوج اس سے پوری طرح خوش ہوگی۔ یہ دو عناصر مل کر ہی ماضی میں ہر حکومت کا دورانیہ محدود کرنے کا سبب بنتے رہے ہیں۔ تو پھر نواز شریف عمر کے اس حصے میں کیوں ایک بار پھر ’محدود‘ مدت کی بے اختیار حکومت کا الزام اپنے سر لینے پر آمادہ ہوئے ہیں؟

ایک قابل فہم وجہ سیاسی پارٹیوں میں پایا جانے والا خوف ہو سکتا ہے۔ اس خوف کو باہمی عدم اعتماد نے مستحکم کیا ہے۔ یہ عدم اعتماد یوں تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان بھی موجود ہے لیکن یہ دونوں سیاسی پارٹیاں سیاسی سفر میں اتنے پیچ و خم دیکھ چکی ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک دوسرے کے خلاف شاید انتقامی کارروائی سے باز رہیں گی۔ البتہ تحریک انصاف کے حوالے سے یہ خوف بدستور موجود ہے بلکہ عمران خان کی مقبولیت کی صورت حال اس میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ تو کیا ملک کی ایک اہم اور بڑی پارٹی محض عمران خان کے خوف میں اصولی سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے سے گریز کر رہی ہے؟ یا تحریک انصاف کی حکومت میں اٹھائی جانے والی پریشانی کا جواب دینے کے لیے ایک بار عمران خان کو ’سبق سکھانے‘ کا تہیہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی مخالفین کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

ان میں سے کوئی بھی صورت حال نواز شریف جیسے لیڈر کے شایان شان نہیں ہوگی اور نہ ہی یہ طریقہ اختیار کرنے سے ملکی سیاست میں کوئی مثبت اور صحت مند روایت شروع ہو سکے گی۔ اس کی بجائے نواز شریف کو میثاق جمہوریت میں توسیع کا کوئی پروگرام سامنے لانا چاہیے تھا اور تحریک انصاف کو بھی اس کا حصہ بنانا چاہیے تھا۔ نواز شریف کو عمران خان کے خوف میں مبتلا ہونے کی بجائے، عوام کے حق فیصلہ اور آئین پاکستان کے اصولوں پر اعتبار کرنا چاہیے۔ عمران خان نے اگر کوئی جرم کیا بھی ہے تو ملکی نظام اور عدالتوں کو اس کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔

نواز شریف اور دیگر سیاسی لیڈروں کو واضح کرنا چاہیے کہ ایسے انتخاب بے معنی ہوں گے جس میں ایک مقبول لیڈر اور اس کی پارٹی کو مساوی بنیاد پر حصہ نہ لینے دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ طریقہ حصول اقتدار کے طے شدہ فارمولے کے مطابق نہ ہو لیکن اقتدار کی بجائے قیادت و سیاست کے منصب پر فائز ہونے کا راستہ بہرطور یہی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2719 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments